سربانند سونووال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سربانند سونووال
Chief Minister of Assam Sarbananda Sonowal.jpg 

مناصب
رکن سولہویں لوک سبھا[1]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
رکن از
23 مئی 2016 
پارلیمانی مدت سولہویں لوک سبھا 
وزیر اعلیٰ آسام (14 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
24 مئی 2016 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ترون گوگوئی 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 31 اکتوبر 1962 (57 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ڈبروگڑھ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

سربانند سونوال (ہندی: सर्बानन्द सोणोवाल) ایک بھارتی سیاست دان جو سنہ 2016ء سے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں۔[2][3]

وہ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں آسام کی لکھیم پور لوک سبھا حلقے سے بی جی پی امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔[4][5] پہلے وہ بی جے پی آسام کے صدر رہ چکے ہیں[6] اور جماعت کے قومی عہدے دار رکن بھی ہیں۔ سنہ 1992ء سے سنہ 1999ء تک آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے۔ سونووال جنوری 2011ء تک سیاسی جماعت آسام گن پریشد کے رکن رہے لیکن بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔[7] وہ مفسد اور متحرک نوجوان سیاست دان کے طور مشہور ہیں، انہیں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (اے اے ایس یو) نے آسان کے جتیہ نائک کا بھی خطاب دیا تھا۔[8]

2016ء کے آسام قانون ساز اسمبلی انتخابات میں وہ حلقہ ماجولی سے منتخب ہوئے تھے اور آسام کے چودہویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔[9]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

سربانند سونووال کی پیدائش 31 اکتوبر 1962ء کو آسام کے ضلع ڈبروگڑھ میں واقع مولوک گاؤں[9] میں جبیشور سونوال اور دنیشوری سونوال کے ہاں ہوئی تھی۔ انہوں نے ڈبروگڑھ یونیورسٹی سے بیچلر آف انگلش اونرز کیا اور ایل ایل بھی کرنے گواہاٹی یونیورسٹی گئے۔ سربانند کی سیاسی زندگی کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

سربانند نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1992ء سے کیا تھا۔ 1992ء سے 1999ء تک آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے۔ بعد میں سونووال نے آسام گن پریشد میں شمولیت اختیار کی۔ 2001ء میں وہ آسام کے موران حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2004 میں پہلی مرتبہ سابق مرکزی وزیر پبن سنگھ گھاٹور کو شکست دے کر وہ لوک سبھا میں پہنچے تھے اور 2009ء تک وہ اسی حلقے سے رکن رہے اس کے بعد 2011ء میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ لوک سبھا کے لیے 2014ء کے عام انتخابات میں انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کے سولہویں لوک سبھا انتخابات آسام کا سربراہ مقرر کیا اور اُسی سال وہ لکھیم پور حلقے سے پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے، جیت کے بعد انہیں مودی کابینہ میں وزیرِ مملکت برائے فروغ ہنر و کارجوئی بنایا گیا (2014ء سے 2014ء) پھر انہیں مرکزی وزیر برائے کھیل و امور نوجواں بنایا گیا تھا اور وہ اس منصب پر 2016ء تک براجمان رہے۔ 19 مئی 2016ء کو سربانند سونووال ماجولی حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 24 مئی 2016ء کو عہدے کا حلف اٹھایا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  2. "Portfolios of the Union Council of Ministers"۔ وزیر اعظم بھارت۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 نومبر 2015۔
  3. "Ballotin: Eye on Dispur"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Not against Muslims, only illegal migrants: Sarbananda Sonowal"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "Ahead of polls, polarisation"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. آرکیس موہن (27 مئی 2014)۔ "Modi does a balancing act"۔ بزنس اسٹینڈرڈ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "In Assam, the Congress spars with BJP over its chief ministerial candidate's past"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "The Telegraph - Calcutta (Kolkata) - Northeast - BJP is not communal, says Sonowal"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. ^ ا ب "سربانند سونوال 1478"۔ لائیو ہندوستان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔