سشما سوراج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سشما سوراج
تفصیل= 2017ء میں سشما سوراج

وزیر خارجہ
مدت منصب
26 مئی 2014 – 30 مئی 2019
وزیر اعظم نریندر مودی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سلمان خورشید
سبھرامنیم جے شنکر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر سمندر پار بھارتی امور
مدت منصب
26 مئی 2014 – 7 جنوری 2016
وزیر اعظم نریندر مودی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ویالار روی
عہدہ ختم ہوگیا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف
مدت منصب
21 دسمبر 2009 – 26 مئی 2014
Fleche-defaut-droite-gris-32.png لال کرشن اڈوانی
خالی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر پارلیمانی امور
مدت منصب
29 جنوری 2003 – 22 مئی 2004
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png پرمود مہاجن
غلام نبی آزاد Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر صحت و خاندانی بہبود
مدت منصب
29 جنوری 2003 – 22 مئی 2004
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سی پی ٹھاکر
انمبونی رامادوس Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر اطلاعات و نشریات
مدت منصب
30 ستمبر 2000 – 29 جنوری 2003
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ارون جیٹلی
روی شنکر پرساد Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
پانچویں وزیر اعلیٰ دہلی
مدت منصب
13 اکتوبر 1998 – 3 دسمبر 1998
Fleche-defaut-droite-gris-32.png صاحب سنگھ ورما
شیلا دکشت Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن پارلیمان، لوک سبھا
آغاز منصب
13 مئی 2009
Fleche-defaut-droite-gris-32.png رامپال سنگھ
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
7 مئی 1996 – 3 اکتوبر 1999
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مدن لال کھرانہ
وجے کمار ملہوترا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 14 فروری 1952[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 اگست 2019 (67 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات بندش قلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
اولاد 1 بیٹی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کروکشیتر
پنجاب یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[3]،  وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (2004)
بانگا بیبھوشن (2004)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

سُشما سَوراج (14 فروری 1952ء – 6 اگست 2019ء) بھارت کی سیاست دان، بھارتی عدالت عظمیٰ کی سابقہ وکیل اور سابقہ وزیر خارجہ تھیں۔ سشما سوراج کو بھارت میں اندرا گاندھی کے بعد دوسری خاتون وزیر خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ سات مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔ 1977ء میں 25 سال کی عمر میں سشما سوراج بھارت کی ریاست ہریانہ کی تاریخ میں سب سے کمسن وزیر بنی۔ اس کے علاوہ سشما سوراج 13 اکتوبر 1998ء تا 3 دسمبر 1998ء دہلی کی وزیر اعلیٰ بھی رہ چکی ہیں۔[4] بھارت کے عام انتخابات، 2014ء میں انہوں نے ودیشا لوک سبھا حلقہ، مدھیہ پردیش سے دوسری مرتبہ جیت حاصل کی۔ وہ اپنے نزدیکی فریق سے 400,000 سے زیادہ ووٹوں سے جیتی تھیں۔[5] 26 مئی 2014ء کو انہیں بھارت کی وزیر خارجہ بنایا گیا۔ امریکا کی وال اسٹریٹ جرنل نے انہیں بھارت کی سب سے چہیتی سیاست دان کا خطاب دیا تھا۔[6][7] صحت کی پریشانیوں کی بنا پر انہوں نے بھارت کے عام انتخابات، 2019ء میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انہیں گردے میں تکلیف تھی اور اطبا نے انہیں گرد و غبار سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔[8][9]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

سشما سوراج (شرما[10]) کی ولادت 14 فروری 1952ء کو امبالا چھاونی، ہریانہ میں ہوئی۔[11] ان کے والد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے معزز رکن تھے۔ ان کے والدین دھرم پورہ، لاہور، پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔[12][13][14]انہوں نے سیاسیات اور سنسکرت میں بی اے کیا۔ اور پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی۔[15][16][17]

کیرئر[ترمیم]

انہوں نے 1973ء میں بھارتی عدالت عظمیٰ میں بحیثیت وکیل اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔[15][16]

ابتدائی سیاسی کیریئر[ترمیم]

1970ء میں انہوں نے اکھل بھارتیہ ودھیارتھی پریشد سے اپنے سیاسی سفر کی شروعات کی۔ ان کے شوہر سوراج کوشل سماجی کارکن جارج فرنانڈیز سے بہت متاثر تھے۔ سشما سوراج جارج کی قانونی ٹیم کی رکن بن گئیں۔ ایمرجنسی کے وقت انہوں نے جے پرکاش نرائن کی کل انقلابی تحریک میں حصہ لیا اور بہت فعال رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور پارٹی کی اہم اور قومی سطح کی رہنما بن گئیں۔[18]

ریاستی سیاست[ترمیم]

وہ 1977ء سے 1982ء تک مجلس قانون ساز ہریانہ کی رکن رہیں۔ اس وقت وہ محض 25 برس کی تھیں اور انہوں نے امبالا چھاونی اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کی۔ اسی حلقہ سے وہ 1987ء تا 1990ء اسمبلی کی رکن رہیں۔[19] 1977ء میں وزیر اعلیٰ چودھری دیوی لال کی حکومت میں جنتا پارٹی سے کابینہ کی رکن بنیں۔ 1979ء میں 27 سال کی عمر میں جنتا پارٹی ہریانہ کی صدر بنیں۔ 1987ء تا 1990ء ہریانہ کی حکومت میں وزیر تعلیم رہیں۔[16]

وزیر اعلیٰ دہلی[ترمیم]

1998ء میں انہوں نے کابینہ بھارت سے استعفی دے دیا اور دہلی کی وزیر اعلیٰ بنیں۔[20] اسی سال دسمبر میں انہوں اس عہدہ سے بھی استعفی دے دیا۔[21]

ذاتی زندگی[ترمیم]

انہوں نے 13 جولائی 1975ء کو اپنے وکیل دوست سوراج کوشل سے شادی کی۔ اس وقت بھارت میں ایمرجنسی نافذ تھی۔ اسی دوران دونوں کی ملاقات فرنانڈیز سے ہوئی بڑے سماجی کارکن تھے اور سشما ان سے بہت قریب ہوگئیں۔

وفات[ترمیم]

سشما سوراج کو 6 اگست 2019ء کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہیں ہو سکیں اور 67 برس کی عمر میں وفات پائی۔ اگلے دن 7 اگست کو تمام ریاستی اعزازات کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔[22][23]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Sushma-Swaraj — بنام: Sushma Swaraj — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. https://www.news18.com/news/india/sushma-swaraj-former-foreign-minister-and-bjp-stalwart-passes-away-2260617.html — اخذ شدہ بتاریخ: 6 اگست 2019
  3. ^ ا ب پ https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  4. "At a glance: Sushma Swaraj, from India's 'youngest minister' to 'aspiring PM'"۔ 15 جون 2013۔ مورخہ 2 جولائی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2013۔
  5. BJP's Sushma Swaraj to contest Lok Sabha polls from Vidisha constituency نسخہ محفوظہ 13 مارچ 2014 در وے بیک مشین۔ NDTV.com (13 مارچ 2014)۔ Retrieved 21 مئی 2014.
  6. Tunku Varadarajan (24 جولائی 2017)۔ "India's Best-Loved Politician"۔ وال اسٹریٹ جرنل۔ مورخہ 26 جولائی 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2017۔
  7. "Sushma Swaraj is 'India's Best-Loved Politician'، opines US magazine Wall Street Journal"۔ زی نیوز۔ 25 جولائی 2017۔ مورخہ 25 جولائی 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2017۔
  8. "Why Sushma Swaraj won't contest 2019 general elections"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 1 دسمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2019۔
  9. "Sushma Swaraj writes emotional tweet to PM Modi, says she is grateful"۔ India Today۔ 30 مئی 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2019۔
  10. "Sushma Swaraj"۔ Encyclopædia Britannica۔
  11. "The push for a Swaraj party"۔ Tehelka۔ مورخہ 12 دسمبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2013۔
  12. "Sushma Swaraj Biography"۔ مورخہ 25 جون 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2014۔
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ biodata نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. "Indian FM Sushma Swaraj's parents hailed from Lahore – Pakistan – Dunya News"۔ dunyanews.tv۔ Dunya News۔ مورخہ 12 دسمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2015۔
  15. ^ ا ب Sushma Swaraj نسخہ محفوظہ 3 جون 2016 در وے بیک مشین۔ India Today۔ Retrieved 28 مئی 2016.
  16. ^ ا ب پ "Detailed Profile – Smt. Sushma Swaraj – Members of Parliament (Lok Sabha) – Who's Who – Government: National Portal of India"۔ India.gov.in.۔ مورخہ 27 اپریل 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2014۔
  17. "Cabinet reshuffle: Modi government's got talent but is it being fully utilised?"، دی اکنامک ٹائمز، 10 جولائی 2016، مورخہ 15 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2016
  18. Archis Mohan (27 دسمبر 2015)۔ "How Sushma Swaraj helped Modi get his Pak groove back"۔ Business Standard۔ مورخہ 31 دسمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2016۔
  19. "Compendium of General Elections to Vidhan Sabha (1967–2009) in Haryana State" (پی‌ڈی‌ایف)۔ NIC۔ مورخہ 26 مارچ 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2014۔
  20. "BJP leader and former external affairs minister Sushma Swaraj passes away"۔ Business Standard۔ 6 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2019۔
  21. "Sushma quits as MLA, retains MP's post"۔ The Tribune۔ 5 دسمبر 1998۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2019۔
  22. "Sushma Swaraj, Former Foreign Minister and BJP Stalwart, Passes Away at 67 After Heart Attack | LIVE"۔ News18۔ 6 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2019۔
  23. "Sushma Swaraj passes away at 67"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ 6 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2019۔