مندرجات کا رخ کریں

سشما سوراج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سشما سوراج
(ہندی میں: सुषमा स्वराज ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 فروری 1952ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 6 اگست 2019ء (67 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نئی دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات بندش قلب   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت [3]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی [4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات سوراج کوشل (13 جولا‎ئی 1975–2019)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
رکن ہریانہ مجلس قانون ساز   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1977  – 1982 
رکن راجیہ سبھا   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1990  – 1996 
وزیر اعلی دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
13 اکتوبر 1998  – 3 دسمبر 1998 
صاحب سنگھ ورما  
شیلا دکشت  
رکن دہلی قانون ساز اسمبلی   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
نومبر 1998  – دسمبر 1998 
رکن سولہویں لوک سبھا [6][7]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکنیت مدت
مئی 2014  – 23 مئی 2019 
پارلیمانی مدت 16ویں لوک سبھا  
وزیر خارجہ بھارت   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
26 مئی 2014  – 30 مئی 2019 
سلمان خورشید  
 
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کروکشیتر
پنجاب یونیورسٹی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان [3]،  وکیل   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
بانگا بیبھوشن (2004)
نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (2004)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سُشما سَوراج (14 فروری 1952ء – 6 اگست 2019ء) بھارت کی سیاست دان، بھارتی عدالت عظمیٰ کی سابقہ وکیل اور سابقہ وزیر خارجہ تھیں۔ سشما سوراج کو بھارت میں اندرا گاندھی کے بعد دوسری خاتون وزیر خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ سات مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔ 1977ء میں 25 سال کی عمر میں سشما سوراج بھارت کی ریاست ہریانہ کی تاریخ میں سب سے کمسن وزیر بنی۔ اس کے علاوہ سشما سوراج 13 اکتوبر 1998ء تا 3 دسمبر 1998ء دہلی کی وزیر اعلیٰ بھی رہ چکی ہیں۔[8] بھارت کے عام انتخابات، 2014ء میں انھوں نے ودیشا لوک سبھا حلقہ، مدھیہ پردیش سے دوسری مرتبہ جیت حاصل کی۔ وہ اپنے نزدیکی فریق سے 400,000 سے زیادہ ووٹوں سے جیتی تھیں۔[9] 26 مئی 2014ء کو انھیں بھارت کی وزیر خارجہ بنایا گیا۔ امریکا کی وال اسٹریٹ جرنل نے انھیں بھارت کی سب سے چہیتی سیاست دان کا خطاب دیا تھا۔[10][11] صحت کی پریشانیوں کی بنا پر انھوں نے بھارت کے عام انتخابات، 2019ء میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انھیں گردے میں تکلیف تھی اور اطبا نے انھیں گرد و غبار سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔[12][13]

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

سشما سوراج (شرما[14]) کی ولادت 14 فروری 1952ء کو امبالا چھاونی، ہریانہ میں ہوئی۔[15] ان کے والد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے معزز رکن تھے۔ ان کے والدین دھرم پورہ، لاہور، پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔[16][17][18] انھوں نے سیاسیات اور سنسکرت میں بی اے کیا۔ اور پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی۔[19][20][21]

کیرئر

[ترمیم]

انھوں نے 1973ء میں بھارتی عدالت عظمیٰ میں بحیثیت وکیل اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔[19][20]

ابتدائی سیاسی کیریئر

[ترمیم]

1970ء میں انھوں نے اکھل بھارتیہ ودھیارتھی پریشد سے اپنے سیاسی سفر کی شروعات کی۔ ان کے شوہر سوراج کوشل سماجی کارکن جارج فرنانڈیز سے بہت متاثر تھے۔ سشما سوراج جارج کی قانونی ٹیم کی رکن بن گئیں۔ ایمرجنسی کے وقت انھوں نے جے پرکاش نرائن کی کل انقلابی تحریک میں حصہ لیا اور بہت فعال رہیں۔ اس کے بعد انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور پارٹی کی اہم اور قومی سطح کی رہنما بن گئیں۔[22]

ریاستی سیاست

[ترمیم]

وہ 1977ء سے 1982ء تک مجلس قانون ساز ہریانہ کی رکن رہیں۔ اس وقت وہ محض 25 برس کی تھیں اور انھوں نے امبالا چھاونی اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کی۔ اسی حلقہ سے وہ 1987ء تا 1990ء اسمبلی کی رکن رہیں۔[23] 1977ء میں وزیر اعلیٰ چودھری دیوی لال کی حکومت میں جنتا پارٹی سے کابینہ کی رکن بنیں۔ 1979ء میں 27 سال کی عمر میں جنتا پارٹی ہریانہ کی صدر بنیں۔ 1987ء تا 1990ء ہریانہ کی حکومت میں وزیر تعلیم رہیں۔[20]

وزیر اعلیٰ دہلی

[ترمیم]

1998ء میں انھوں نے کابینہ بھارت سے استعفی دے دیا اور دہلی کی وزیر اعلیٰ بنیں۔[24] اسی سال دسمبر میں انھوں اس عہدہ سے بھی استعفی دے دیا۔[25]

ذاتی زندگی

[ترمیم]

انھوں نے 13 جولائی 1975ء کو اپنے وکیل دوست سوراج کوشل سے شادی کی۔ اس وقت بھارت میں ایمرجنسی نافذ تھی۔ اسی دوران دونوں کی ملاقات فرنانڈیز سے ہوئی بڑے سماجی کارکن تھے اور سشما ان سے بہت قریب ہوگئیں۔

وفات

[ترمیم]

سشما سوراج کو 6 اگست 2019ء کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہیں ہو سکیں اور 67 برس کی عمر میں وفات پائی۔ اگلے دن 7 اگست کو تمام ریاستی اعزازات کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔[26][27]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Sushma-Swaraj — بنام: Sushma Swaraj — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. اشاعت: سی این این نیوز 18 — تاریخ اشاعت: 6 اگست 2019 — Sushma Swaraj, Former Foreign Minister and BJP Stalwart, Passes Away — اخذ شدہ بتاریخ: 6 اگست 2019
  3. ^ ا ب https://web.archive.org/web/20190820105457/https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/ — سے آرکائیو اصل فی 20 اگست 2019
  4. General Election 2014 — Election Commission of India
  5. https://www.workwithdata.com/person/swaraj-smt-sushma-1952 — اخذ شدہ بتاریخ: 21 اکتوبر 2024
  6. http://164.100.47.194/Loksabha/Members/AlphabeticalList.aspx — اخذ شدہ بتاریخ: 25 جولا‎ئی 2018
  7. https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  8. "At a glance: Sushma Swaraj, from India's 'youngest minister' to 'aspiring PM'"۔ انڈیا ٹی وی۔ 15 جون 2013۔ 2 جولائی 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2013 {{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  9. BJP's Sushma Swaraj to contest Lok Sabha polls from Vidisha constituency آرکائیو شدہ 13 مارچ 2014 بذریعہ وے بیک مشین۔ NDTV.com (13 مارچ 2014)۔ Retrieved 21 مئی 2014.
  10. Tunku Varadarajan (24 جولائی 2017)۔ "India's Best-Loved Politician"۔ وال اسٹریٹ جرنل۔ 26 جولائی 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2017 {{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  11. "Sushma Swaraj is 'India's Best-Loved Politician', opines US magazine Wall Street Journal"۔ زی نیوز۔ 25 جولائی 2017۔ 25 جولائی 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2017 {{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  12. "Why Sushma Swaraj won't contest 2019 general elections"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 1 دسمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-31
  13. "Sushma Swaraj writes emotional tweet to PM Modi, says she is grateful"۔ India Today۔ 30 مئی 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-30
  14. "Sushma Swaraj"۔ Encyclopædia Britannica
  15. "The push for a Swaraj party"۔ Tehelka۔ 12 دسمبر 2013 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2013 {{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  16. "Sushma Swaraj Biography"۔ 25 جون 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2014 {{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  17. "Indian FM Sushma Swaraj's parents hailed from Lahore – Pakistan – Dunya News"۔ dunyanews.tv۔ Dunya News۔ 12 دسمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2015 {{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  18. ^ ا ب Sushma Swaraj آرکائیو شدہ 3 جون 2016 بذریعہ وے بیک مشین۔ India Today۔ Retrieved 28 مئی 2016.
  19. ^ ا ب پ "Detailed Profile – Smt. Sushma Swaraj – Members of Parliament (Lok Sabha) – Who's Who – Government: National Portal of India"۔ India.gov.in.۔ 27 اپریل 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2014 {{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  20. "Cabinet reshuffle: Modi government's got talent but is it being fully utilised?"، دی اکنامک ٹائمز، 10 جولائی 2016، 15 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا، اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2016 {{حوالہ}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  21. Archis Mohan (27 دسمبر 2015)۔ "How Sushma Swaraj helped Modi get his Pak groove back"۔ بزنس اسٹینڈرڈ۔ 31 دسمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2016 {{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  22. "Compendium of General Elections to Vidhan Sabha (1967–2009) in Haryana State" (PDF)۔ NIC۔ 26 مارچ 2014 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2014 {{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر |dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
  23. "BJP leader and former external affairs minister Sushma Swaraj passes away"۔ Business Standard۔ 6 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-06
  24. "Sushma quits as MLA, retains MP's post"۔ The Tribune۔ 5 دسمبر 1998۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-06
  25. "Sushma Swaraj, Former Foreign Minister and BJP Stalwart, Passes Away at 67 After Heart Attack | LIVE"۔ News18۔ 6 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-06
  26. "Sushma Swaraj passes away at 67". India Today (بزبان انگریزی). 6 Aug 2019. Retrieved 2019-08-06.