علاؤ الدین صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علاؤ الدین صدیقی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 جنوری 1938  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 3 فروری 2017 (79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

علاؤ الدین صدیقی جو سجادہ نشین ہیں آستانہ نیریاں شریف آزاد کشمیر کے ۔

ولادت[ترمیم]

علاؤ الدین صدیقی 1 جنوری 1938ء کو نیریاں شریف آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ آپ دوسرے صاحبزادے تھے۔غوث الزماں خواجہ غلام محی الدین غزنوی کے۔

نسبت[ترمیم]

ان کی نسبت نقشبندیہ مجددیہ ہے جو ان کے والد اور شیخ، خواجہ غلام محی الدین غزنوی سے ان کو ملی۔ آپ افغانستان کے معزز پٹھان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

نام کے ساتھ" صدیقی " سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی روحانی نسبت سے لکھتے تھے۔ یہ بھی مشہور ہے کہ آپ خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد سے ہیں یہ غلط ہے ۔ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد پاک جو چالیس کے قریب تھی۔ تمام کی تمام طاعون کے مرض سے وفات ہوئی۔ڈاکڑ اسحاق قریشی صاحب نے اپنی کتاب "جمال نقشبند" میں جو لکھا ہے کہ پیر علاؤالدین صدیقی رحمتہ اللہ علیہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے ہیں غلط ہے غالبا آپ اس کی صحیح تحقیق نہیں فرما سکے۔

اولاد امجاد[ترمیم]

خلفاء اکرام[ترمیم]

آپ کے تقریبا ستر (70) خلفاء ہیں جن میں مشہور خلفاء کے نام درج ذیل ہیں

  • 1۔ علامہ صاحبزادہ پیر سلطان العارفین صدیقی سجادہ نشین دربار عالیہ نیریاں شریف
  • 2۔ صاحبزادہ علامہ پیر نور العارفین نیریاں شریف
  • 3- صاحبزاد علامہ پیر ظہیر الدین نیریاں شریف UK
  • 4۔ صاحبزادہ پیر محمد زاہد قاسم راولپنڈی
  • 5۔ سید الخلفاء صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی۔ ڈسکہ
  • 6۔ خلیفہ پیر مظہر اقبال -دینہ
  • 7۔ خلیفہ پیر محمد شعبان -جہلم
  • 8۔ پیر عبد المجید ۔ کراچی
  • 9۔ خلیفہ سید صداقت شاہ وزیرآباد
  • 10۔ خلیفہ بشیر -گوجرانوالہ
  • 11۔ عبدالطیف خان نقشبندی ۔ لاھور
  • 12۔ صاحبزادہ پیر عمادالدین نقشبندی ۔گوجر خان

بانی[ترمیم]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

شیخ العالم نے ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والد و پیرو مرشد سے حاصل کی ایک نوجوان حیثیت سے انہیں ایک بابرکت ماحول ملا اس کے بعدآپ جامعہ حقائق العلوم حضرو سے مشکوۃ اور جلالین پڑھی دینی تعلیم کی تکمیل جامعہ رضویہ فیصل آباد سے مولانا سردار احمد سے کی اور دورہ تفسیر کی تکمیل عبد الغفور ہزاروی سے کی [1]

وفات[ترمیم]

شیخ العالم 3فروری 2017ء کو لندن میں وفات پا گئے۔ اپکا مزار نیریاں شریف میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]