پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے ریکارڈز کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ٹیسٹ کرکٹ بین الاقوامی سطح پر کھیلی جانے والی کرکٹ کی قدیم ترین شکل ہے [1]ایک ٹیسٹ میچ پانچ دن کے عرصے میں کھیلا جاتا ہے، اور یہ ٹیمیں کھیلتی ہیں جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے مکمل رکن ممالک کی نمائندگی کرتی ہیں۔ 1952ء میں آئی سی سی کا رکن کا درجہ، ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا اہل ہونے والا ساتواں ملک بن گیا۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 16 اکتوبر 1952ء کو بھارت کے خلاف کھیلا جس میں وہ ایک اننگز اور 70 رنز سے ہار گئی۔ انہوں نے اپنی پہلی فتح 23 اکتوبر 1952ء کو بھارت کے خلاف اپنے دوسرے میچ میں ریکارڈ کی تھی۔[2] اس کے بعد سے، انہوں نے ٹیسٹ کھیلنے والے ہر دوسرے ملک کے خلاف 434 میچ کھیلے ہیں۔ دسمبر 2021ء تک، آسٹریلیا (47.18)، جنوبی افریقہ (37.97) اور انگلینڈ (36.31) کے پیچھے، پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں 32.87 کے مجموعی طور پر جیتنے والے فیصد کے ساتھ چوتھی سب سے کامیاب ٹیم ہے۔

بیٹنگ[ترمیم]

یونس خان نے 2009ء میں سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی اننگز میں 765/5d کے مجموعی اسکور میں سب سے زیادہ 313 رنز بنائے،

ٹاپ آرڈر بلے باز اور سابق کپتان یونس خان نے پاکستان کی طرف سے بیٹنگ کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز 10,099 بنائے ہیں وہ اپنے ملک کے لیے فارمیٹ میں 10,000 سے زیادہ رنز بنانے والے پہلے اور واحد کھلاڑی ہیں۔ وہ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ سنچریوں 34 کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ ڈبل سنچریوں کے حوالے سے جاوید میانداد کے ساتھ 6 کے ریکارڈ ہولڈر ہیں۔حنیف محمد کے 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز ایک پاکستانی کرکٹر کا سب سے بڑا انفرادی سکور ہے، جس نے امتیاز احمد کے 209 کے پچھلے بہترین سکور کو پیچھے چھوڑ دیا، جو 1955ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھویں سب سے زیادہ انفرادی سکور بھی ہے۔ حنیف محمد 337 انضمام الحق (329)، یونس خان (313) اور اظہر علی (302 ناٹ آؤٹ) وہ پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹرپل سنچریاں اسکور کیں۔

باولنگ[ترمیم]

وسیم اکرم جنہیں عالمی کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بائیں ہاتھ کے باؤلرز میں شمار کیا جاتا ہے نے کئی ٹیسٹ ریکارڈز قائم ہیں۔ ان کے پاس سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں 414 کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ 5 وکٹیں فی اننگز 25 مرتبہ کا ریکارڈ بھی ہے۔ وسیم اکرم کے پاس ٹیسٹ کرکٹ میں 8ویں نمبر پر 257 ناٹ آؤٹ پر بیٹنگ کرتے ہوئے سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا ریکارڈ بھی بنایا۔ یہ کارنامہ اس نے 1996ء میں زمبابوے کے خلاف کھیلتے ہوئے حاصل کیا تھا۔ 1987ء میں قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف عبدالقادر کی 56 رنز کے عوض 9 وکٹیں کسی پاکستانی باؤلر کی ایک اننگز میں بہترین بولنگ کا ریکارڑ ہے اسی گراؤنڈ پر 1982ء میں عمران خان کی سری لنکا کے خلاف 116 رنز کے عوض 14 وکٹوں کا حصول کسی پاکستانی کھلاڑی کی ٹیسٹ میں بہترین باؤلنگ ہے۔ ان کے پاس 22.81 کے ساتھ پاکستان کے لیے بہترین باؤلنگ اوسط کا ریکارڈ بھی ہے۔

فیلڈنگ[ترمیم]

یونس خان نے بطور فیلڈر 118 میچوں میں 139 کیچ لیے، جو کسی پاکستانی کی جانب سے سب سے زیادہ کیچز کا ریکارڈ ہے جبکہ عالمی کرکٹ میں مجموعی طور پر 12ویں نمبر پر ہیں

وکٹ کیپنگ[ترمیم]

وکٹ کیپنگ ریکارڑ میں وسیم باری پاکستان کے سب سے کامیاب وکٹ کیپر ہیں جنہوں نے وکٹوں کے پیچھے 228 آؤٹ کیے ہیں۔ اس طرح وہ وکٹ کیپرز کی عالمی فہرست میں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ آؤٹ کرنے والوں میں 11ویں نمبر پر ہیں۔

کلید[ترمیم]

علامت مطلب
کھلاڑی اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں سرگرم ہیں۔
* کھلاڑی ناٹ آؤٹ رہے یا پارٹنرشپ برقرار رہی
عالمی ریکارڈ
ڈی جب کوئی ٹیم ایک خاص وقت پر کھیل سے دستبرداری کا اعلان کرے (مثال:952/6d)
تاریخ ٹیسٹ میچ شروع ہونے کی تاریخ
اننگز کھیلی گئی اننگز کی تعداد
میچز کھیلے گئے میچوں کی تعداد
مخالف ٹیم پاکستان جس ٹیم کے خلاف کھیل رہا تھا۔
دورانیہ وہ وقت جب کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں سرگرم تھا۔t
کھلاڑی ریکارڈ میں شامل کھلاڑی
مقام ٹیسٹ کرکٹ گراؤنڈ جہاں میچ کھیلا گیا۔

ٹیم ریکارڈز[ترمیم]

ٹیم کی جیت، ہار اور ڈرا[ترمیم]

پاکستان نے 441 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جس کے نتیجے میں 145 فتوحات، 134 شکستوں اور 162 ڈراز کے ساتھ مجموعی جیت کا تناسب 32.87 ہے، جو ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں میں چوتھا سب سے زیادہ جیتنے کا تناسب ہے۔ ٹائی اس وقت ہو سکتی ہے جب کھیل کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے سکور برابر ہوں، بشرطیکہ آخری بیٹنگ کرنے والی سائیڈ نے اپنی اننگز مکمل کر لی ہو۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف دو میچز ٹائی پر ختم ہوئے ہیں جن میں سے کوئی بھی پاکستان شامل نہیں تھا۔

مخالف ٹیم میچز جیت ہار ٹائی ڈرا % جیت % یار % ڈرا اول ٓخری
 آسٹریلیا 66 15 33 0 18 22.72 50.00 27.27 1956 2019
 بنگلادیش 13 12 0 0 1 92.30 0.00 7.69 2001 2021
 انگلستان 86 21 26 0 39 24.41 30.23 45.34 1954 2020
 بھارت 59 12 9 0 38 20.33 15.25 64.40 1952 2007
 آئرلینڈ 1 1 0 0 0 100.00 00.00 00.00 2018 2018
 نیوزی لینڈ 60 25 14 0 21 41.66 23.33 35.00 1955 2021
 جنوبی افریقا 28 6 15 0 7 21.42 53.57 25.00 1995 2021
 سری لنکا 55 20 16 0 19 36.36 29.09 34.54 1982 2019
 ویسٹ انڈیز 54 21 18 0 15 38.88 33.33 27.77 1958 2021
 زمبابوے 19 12 3 0 4 58.82 17.64 23.52 1993 2013
Total 441 145 134 0 162 32.87 30.38 36.73 1952 2021
اعداد و شمار درست ہیں۔  بنگلادیش v  پاکستان at شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، ڈھاکہ، آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا دوسرا ٹیسٹ، 4–8 دسمبر 2021.

پہلی ٹیسٹ سیریز کی جیت[ترمیم]

مخالف ٹیم ملک میں پہلی جیت کا سال پہلی بیرون ملک جیت کا سال
 آسٹریلیا 1956
 بنگلادیش 2001 2002
 انگلستان 1984 1987
 بھارت 1978 1987
 آئرلینڈ YTP 2018
 نیوزی لینڈ 1955 1973
 جنوبی افریقا 2003
 سری لنکا 1982 1994
 ویسٹ انڈیز 1959 2017
 زمبابوے 1993 1995
Last updated: 20 جون 2020[3]

پہلے ٹیسٹ میچ کی جیت[ترمیم]

مخالف ٹیم اندرون ملک بیرون ملک
مقام سال مقام سال
 آسٹریلیا کراچی 1956 سڈنی کرکٹ گراؤنڈ 1977
 بنگلادیش ملتان کرکٹ اسٹیڈیم 2001 بنگابندو قومی اسٹیڈیم 2002
 انگلستان کراچی 1984 اوول 1954
 بھارت قذافی اسٹیڈیم 1978 یونیورسٹی گراؤنڈ 1952
 آئرلینڈ YTP YTP مالاہائڈ کرکٹ کلب گراؤنڈ 2018
 نیوزی لینڈ کراچی 1955 کیرسبروک 1973
 جنوبی افریقا قذافی اسٹیڈیم 2003 کنگزمیڈ کرکٹ گراؤنڈ 1998
 سری لنکا کراچی 1982 اسگیریا اسٹیڈیم 1986
 ویسٹ انڈیز کراچی 1959 کوئینز پارک اوول 1958
 زمبابوے کراچی 1993 کوئنز اسپورٹس کلب 1995
Last updated: 20 جون 2020[4]

ٹیم کا اسکورنگ ریکارڈز[ترمیم]

ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز[ترمیم]

09-2008ء میں پاکستان نے سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں 765/5d کا مجموعی اسکور بنایا جو کسی ایک اننگ میں پاکستان کا سب سے زیادہ۔سکور ہے یہ ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے اس میں یونس خان کے 568 گیندوں پر 27 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے بننے والے 313 رنز نمایاں اور کامران اکمل کے 158 رنز بھی اس مجموعے کو ترتیب دینے میں معاون ثابت ہوئے تھے ریکارڑ کی درستگی کے لیے آپ کو بتا دیتے ہیں کہ کسی ایک اننگ میں سب سے زیادہ رنز کا عالمی ریکارڑ سری لنکا کے پاس ہے جس نے بھارت کے خلاف 6 وکٹوں پر 952 کا پہاڑ جیسا ہدف مقرر کیا تھا اس بڑے سکور میں سنتھ جے سوریا کے 340 روشن ماہنامہ 225 ارجنا راناتونگا 86 مہیلا جے وردھنے 66 اس بڑی ٹیم اننگ کے معمار تھے۔

رینک سکور مخالف ٹیم مقام تاریخ
1 765–6d  سری لنکا نیشنل اسٹیڈیم, کراچی 21 فروری 2009
2 708  انگلستان کیننگٹن اوول, لندن 6 اگست 1987
3 699–5  بھارت قذافی سٹیڈیم, لاہور 1 دسمبر 1989
4 679–7d 13 جنوری 2006
5 674–6 اقبال سٹیڈیم, فیصل آباد 24 اکتوبر 1984

سب سے زیادہ ہدف کا کامیاب تعاقب[ترمیم]

دسمبر 2016ء میں برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف ناکام رن کے تعاقب میں پاکستان کا چوتھی اننگز کا سب سے بڑا مجموعہ 450 وجود میں آیا آسٹریلیا نے پاکستان کو 490 رنز کا ہدف دیا تھا۔ تاہم پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا چوتھی اننگز کا مجموعہ 382/3 ہے جو 2015ء میں سری لنکا کے خلاف پالے کیلے میں تخلیق ہوا جسے پاکستان کا سب سے کامیاب تعاقب قرار دیا جا سکتا ہے۔

رینک سکور ہدف مخالف ٹیم مقام تاریخ
1 382/3 377  سری لنکا پالیکیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم, پالیکیلے, سری لنکا 3 جولائی 2015
2 315/9 314  آسٹریلیا نیشنل اسٹیڈیم, کراچی, پاکستان 28 ستمبر 1994
3 302/5 302  سری لنکا شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم, شارجہ, یو اے ای 16 جنوری 2014
4 277/3 274  نیوزی لینڈ بیسن ریزرو, ویلنگٹن, نیوزی لینڈ 26 دسمبر 2003
5 262/9 261  بنگلادیش ملتان کرکٹ اسٹیڈیم, ملتان, پاکستان 3 ستمبر 2003
آخری بار اپ ڈیٹ کیا گیا: 20 جون 2020[5]

کسی ایک اننگز میں سب سے کم رنز[ترمیم]

پاکستان کے خلاف سب سے کم اننگز کا مجموعی اسکور 53 ہے [[ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم نے 1986-87ء میں پاکستان میں 1986 میں ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان کے پہلے ٹیسٹ میں۔

رینک سکور مخالف ٹیم مقام تاریخ
1 53  ویسٹ انڈیز اقبال اسٹیڈیم, فیصل آباد, پاکستان 24 اکتوبر 1986
2 70  نیوزی لینڈ بنگابندو قومی اسٹیڈیم, ڈھاکہ, بنگلہ دیش 7 نومبر 1955
3 71  سری لنکا اسگیریا اسٹیڈیم, کینڈی, سری لنکا 26 اگست 1994
4 72  انگلستان شیخ زاید کرکٹ اسٹیڈیم, ابوظہبی, یو اے ای 25 جنوری 2012
5 73  نیوزی لینڈ قذافی اسٹیڈیم, لاہور, پاکستان 1 مئی 2002
 سری لنکا اسگیریا اسٹیڈیم, کینڈی, سری لنکا 3 اپریل 2006

نتائج کا ریکارڈ[ترمیم]

ایک ٹیسٹ میچ اس وقت جیتا جاتا ہے جب ایک فریق اپنی دو اننگز کے دوران مخالف فریق کے بنائے گئے کل رنز سے زیادہ رنز بناتا ہے۔ اگر دونوں فریقوں نے اپنی دونوں مختص اننگز کو مکمل کر لیا ہے اور آخری میدان میں اترنے والی ٹیم کے پاس رنز کی مجموعی تعداد زیادہ ہے تو اسے رنز سے جیت کہا جاتا ہے۔ یہ ان رنز کی تعداد کی نشاندہی کرتا ہے جو انہوں نے مخالف سائیڈ سے زیادہ بنائے تھے۔ اگر ایک فریق ایک ہی اننگز میں اپنی دونوں اننگز میں دوسرے فریق کے مجموعی رنز سے زیادہ رنز بناتا ہے تو اسے اننگز اور رنز سے جیت کہا جاتا ہے۔ اگر آخری بیٹنگ کرنے والی سائیڈ میچ جیتتی ہے، تو اسے وکٹوں کی جیت کے طور پر جانا جاتا ہے، جو کہ ابھی گرنے والی وکٹوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔

سب سے بڑی جیت کا مارجن (اننگز)[ترمیم]

:Inzamam-ul-Haq margin by an innings.
انضمام الحق کی قیادت میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو اننگز اور 324 رنز سے شکست دی،

اوول میں 1938ء ایشز سیریز میں انگلینڈ میں آسٹریلین کرکٹ ٹیم کا پانچواں ٹیسٹ انگلینڈ نے ایک اننگز اور 579 رنز سے جیت لیا، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اننگز کی سب سے بڑی فتح ہے۔ پانچویں سب سے بڑی فتح نیوزی لینڈ کی قومی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف 2002ء کے دورہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے پہلے ٹیسٹ میں قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کی جیت تھی، جہاں میزبان ٹیم نے ایک اننگز اور 324 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

رینک مارجن مخالف ٹیم مقام تاریخ
1 اننگز اور 324 رنز  نیوزی لینڈ قذافی سٹیڈیم, لاہور 1 مئی 2002
2 اننگز اور 264 رنز  بنگلادیش ملتان کرکٹ اسٹیڈیم, ملتان 29 اگست 2001
3 اننگز اور 188 رنز  آسٹریلیا نیشنل اسٹیڈیم، کراچی, کراچی 15 ستمبر 1988
4 اننگز اور 184 رنز  بنگلادیش ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم, چٹاگانگ 9 دسمبر 2011
5 اننگز اور 178 رنز شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم, ڈھاکہ 9 جنوری 2002
Last updated: 30 August 2017[6]
  1. en:List of Pakistan Test cricket records#cite note-1
  2. en:List of Pakistan Test cricket records#cite note-7
  3. "Records / Pakistan / Test matches / Series summary". ESPNcricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 20 جون 2020. 
  4. "Records / India / Test matches / Test Records". ESPNcricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 20 جون 2020. 
  5. "Pakistan Test records – Highest successful run chases". ESPNcricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 20 جون 2020. 
  6. "Pakistan – Test matches – Largest victories". ESPNcricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 30 اگست 2017.