یوم جمہوریہ بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یوم جمہوریہ
Indian Army-Madras regiment.jpeg
مدراس ریجمنٹ میں سالانہ یوم جمہوریہ میں پریڈ کرتے ہوئے فوجی۔ تصویر 2004۔
منانے والے بھارت
تقاریب پریڈ، اسکولوں میں مٹھائی تقسیم اور ثقافتی رقص۔
تاریخ 26 جنوری
دورانیہ 1 دن
تکرار سالانہ

یوم جمہوریہ بھارت بھارت کی ایک قومی تعطیل ہے جسے ملک بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ حکومت ہند ایکٹ جو 1935ء سے نافذ تھا منسوخ کر کے اس دن دستور ہند کا نفاذ عمل میں آیا اور دستور ہند کی عمل آوری ہوئی۔ [1] دستور ساز اسمبلی نے دستور ہند کو 26 نومبر 1949ء کو اخذ کیا اور 26 جنوری 1950ء کو تنفیذ کی اجازت دے دی۔ دستورِ ہند کی تنفیذ سے بھارت میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہوا۔

بھارت میں عوامی تعطیلات کی اہم اور لازمی تین تعطیلات میں سے ایک یوم جموریہ ہے۔ دیگر دو تعطیلات یوم آزادی بھارت اور گاندھی جینتی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1950ء، نئی دہلی، صدر بابو راجندر پرساد یوم جمہوریہ کے موقع پر اجلاس میں شریک۔ گھوڑے کی بگی پر جلوس۔

بھارت 15 اگست 1947ء کو آزاد ہوا۔ اس کے پس منظر میں بھارت کی تحریک آزادی رہی، اور انڈین نیشنل کانگریس کا رول خاصا موثر رہا۔

بھارت بھارت آزادی ایکٹ (10 & 11 Geo 6 c. 30)، جو ایک پارلیمانی دفعہ تھا، اس کے تحت برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ یہ ایک ملک نہیں بلکہ برطانیہ کے زیر اقتدار کئی ممالک تھے جو متفرق تاریخوں میں آزاد ہوئے۔ لیکن 1947ء میں بھارت اور پاکستان دو ممالک آزادی کے بعد قائم کیے گئے۔ برطانوی زیر اقتدار ممالک کو کامن ویلتھ اقوام بھی کہتے ہیں۔ [2]

تقریبات و اجلاس[ترمیم]

اہم اور خاص یوم جمہوریہ تقریبات نئی دہلی میں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن بھارتی صدر جمہوریہ کی زیر صدارت اور موجودگی میں یہ تقریبات اور اجلاس بڑے ہی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔ ان تقریبات کا اہم مقصد بھارت کو خراج پیش کرنا ہوتا ہے۔

2014ء کے پینسٹھویں یوم جمہوریہ تقریبات میں، مہاراشٹر کے پروٹوکول ڈپارٹمنٹ نے اس اجلاس کو شہر ممبئی میں مرائن ڈرائیو علاقے میں منعقد کیا تھا۔

دہلی یوم جمہوریہ پریڈ[ترمیم]

بھارت کے دار الحکومت نئی دہلی میں واقع رئسینا ہلز اور راشٹراپتی بھون کے قریب یہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اسی علاقہ میں راج پتھ (شاہراہ) اور انڈیا گیٹ باب ہند بھی واقع ہے۔[3] اس تقریب کی شروع میں وزیر اعظم گلدستوں سے باب ہند کے پاس، گمنام شہید فوجیوں کو خراج پیش کرتے ہیں اور فوجیوں کی شہادت کو یاد کیا اور خراج پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صدر ہند اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔

باجے اور ساز بازی[ترمیم]

یہ تقریب اس وقت منعقد ہوتی ہے جب دفتری طور پر یوم جمہوریہ تقریبات کا اختتام ہو جاتا ہے۔ یہ تقریب 29 جنوری کو منعقد کی جاتی ہے، جو یوم جمہوریہ کا تیسرا دن ہوتا ہے۔ اس تقریب میں بھارت کی فوجی طاقتیں بھارتی فوج، بھارتی بحریہ اور فضائیہ کے بینڈ (باجے اور ساز) پیش کیے جاتے ہیں۔ اس تقریب کا انعقاد رئیسینا ہلز اور اس کے نزدیک واقع وجے چوک پر ہوتا ہے۔

اس اجلاس کی صدارت بھارت کے صدر کرتے ہیں۔ جیسے ہی صدر صاحب اس مقام پر پہنچتے ہیں، قومی سلامی دی جاتی ہے اور جن گن من گایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملیٹری بینڈ بجائے جاتے ہیں، جن میں مختلف اقسام کے طاش، نقارے، ساز، باجے، ٹرمپیٹ شامل ہیں۔

اس ترانے کے علاوہ مہاتما گاندھی کا گیت گایاجاتا ہے اور آخر میں ہندی ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا گایا جاتا ہے۔ [4][4][5] [5][6][6]

نگار خانہ[ترمیم]

مہمانان خصوصی[ترمیم]

یوم جمہوریہ کے موقع پر مدعو کیے اور حاظر ہوئے مہمانان خصوصی ممالک۔ یوگوسلیویا اس میں نہیں بتایا گیا ہے۔

1950ء سے بھارت اپنی ان تقریبات میں دنیا کے مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بحیثیت مہمان خصوصی مدعو کرتا آرہا ہے۔ ان تقریبات کے اجلاسات مختلف مقامات پر منعقد ہوتے جاتے ہیں، [7] خصوصاً یہ اجلاس دہلی کے راج پتھ (شاہراہ) پر منعقد ہوتا ہے۔[7] مہمان ملک کی حیثیت سے اس ملک کو مدعو کیا جاتا ہے، جس کا تعلق بھارت کے ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی رجحانات پر مبنی ہے۔ بالخصوص، غیر جانبدار اور مشرقی بلاک کے ممالک۔ سرد جنگ کے دوران بھی مغربی ممالک کو مدعو کیا گیا۔ خاص طور پر پاکستانی وزیر برائے غذا و کاشتکاری 1965ء کے اجلاس میں شریک رہے۔ ایک سے زیادہ مرتبہ مدعو کئے جانے والے ممالک میں بھوٹان، سری لنکا، روس، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ غیر جانبدار ممالک جیسے نائجیریا، یوگوسلیویا، ماریشس بھی شامل ہیں۔

سال مہمان کا نام ملک حواشی
1950 صدر Sukarno Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا
1951
1952
1953
1954 King Jigme Dorji Wangchuck[8] Flag of Bhutan.svg بھوٹان
1955 گورنر جنرل ملک غلام محمد[9] Flag of Pakistan.svg پاکستان پہلا مہمان جسے راج پت پریڈ میں مدعو کیا گیا [10]
1956
1957
1958 مارشل Ye Jianying[11] Flag of the People's Republic of China.svg چین
1959
1960 صدر Kliment Voroshilov[12] Flag of the Soviet Union.svg سوویت اتحاد
1961 Queen ایلزبتھ دوم[13] Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ
1962
1963 بادشاہ Norodom Sihanouk[14] Flag of Cambodia.svg کمبوڈیا
1964
1965 وزیر زراعت و خوراک رانا عبد الحمید Flag of Pakistan.svg پاکستان دوسری بار مدعو
1966
1967
1968 وزیر اعظم Alexei Kosygin Flag of the Soviet Union.svg سوویت اتحاد دوسری بار مدعو
صدر مارشل ٹیٹو[15] Flag of SFR Yugoslavia.svg یوگوسلاویہ
1969 وزیر اعظم Todor Zhivkov[16] Flag of Bulgaria.svg بلغاریہ
1970
1971 صدر Julius Nyerere[17] Flag of Tanzania.svg تنزانیہ
1972 وزیر اعظم سر رام غلام [18] Flag of Mauritius.svg موریشس
1973 صدر Mobutu Sese Seko[19] Flag of Zaire.svg زائر
1974 صدر مارشل ٹیٹو Flag of SFR Yugoslavia.svg یوگوسلاویہ دوسری بار مدعو
وزیر اعظم Sirimavo Bandaranaike[20] Flag of Sri Lanka.svg سری لنکا
1975 صدر Kenneth Kaunda[21] Flag of Zambia.svg زیمبیا
1976 وزیر اعظم Jacques Chirac[22] Flag of France.svg فرانس
1977 First Secretary Edward Gierek[23] Flag of Poland.svg پولینڈ
1978 صدر Patrick Hillery[24] Flag of Ireland.svg جمہوریہ آئرستان
1979 وزیر اعظم Malcolm Fraser[25] Flag of Australia.svg آسٹریلیا
1980 صدر جسکا د ایستاں Flag of France.svg فرانس
1981 صدر Jose Lopez Portillo[26] Flag of Mexico.svg میکسیکو
1982 بادشاہ Juan Carlos I[27] Flag of Spain.svg ہسپانیہ
1983 صدر Shehu Shagari[28] Flag of Nigeria.svg نائجیریا
1984 بادشاہ Jigme Singye Wangchuck[29] Flag of Bhutan.svg بھوٹان دوسری بار مدعو
1985 صدر الفونسین[30] Flag of Argentina.svg ارجنٹائن
1986 وزیر اعظم Andreas Papandreou[31] Flag of Greece.svg یونان
1987 صدر Alan Garcia[32] Flag of Peru.svg پیرو
1988 صدر Junius Jayewardene[33] Flag of Sri Lanka.svg سری لنکا دوسری بار مدعو
1989 General Secretary Nguyen Van Linh[34] Flag of Vietnam.svg ویت نام
1990 وزیر اعظم Anerood Jugnauth[35] Flag of Mauritius.svg موریشس دوسری بار مدعو
1991 صدر Maumoon Abdul Gayoom[36] Flag of Maldives.svg مالدیپ
1992 صدر Mário Soares[36] Flag of Portugal.svg پرتگال
1993 وزیر اعظم John Major[36] Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ دوسری بار مدعو
1994 وزیر اعظم Goh Chok Tong[36] Flag of Singapore.svg سنگاپور
1995 صدر نیلسن منڈیلا[37] Flag of South Africa.svg جنوبی افریقا
1996 صدر Fernando Henrique Cardoso[38] Flag of Brazil.svg برازیل
1997 وزیر اعظم Basdeo Panday[38] Flag of Trinidad and Tobago.svg ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو
1998 صدر Jacques Chirac[38] Flag of France.svg فرانس تیسری بار مدعو
1999 بادشاہ Birendra Bir Bikram Shah Dev[38] Flag of Nepal.svg نیپال
2000 صدر Olusegun Obasanjo[39] Flag of Nigeria.svg نائجیریا دوسری بار مدعو
2001 صدر عبدالعزيز بوتفليقہ[39] Flag of Algeria.svg الجزائر
2002 صدر Cassam Uteem[39] Flag of Mauritius.svg موریشس تیسری بار مدعو
2003 صدر Mohammed Khatami[39] Flag of Iran.svg ایران
2004 صدر Luiz Inacio Lula da Silva [40] Flag of Brazil.svg برازیل دوسری بار مدعو
2005 بادشاہ Jigme Singye Wangchuck[40] Flag of Bhutan.svg بھوٹان تیسری بار مدعو
2006 شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز[40] Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
2007 صدر ولادیمیر پیوتن[40] Flag of Russia.svg روس تیسری بار مدعو
2008 صدر نکولس سرکوزی[40] Flag of France.svg فرانس چوتھی بار مدعو
2009 صدر Nursultan Nazarbayev[40] Flag of Kazakhstan.svg قازقستان
2010 صدر Lee Myung Bak[41] Flag of South Korea.svg جنوبی کوریا
2011 صدر Susilo Bambang Yudhoyono[42][43] Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا دوسری بار مدعو
2012 وزیر اعظم ینگلک شنواترا[44] Flag of Thailand.svg تھائی لینڈ
2013 King Jigme Khesar Namgyel Wangchuck[45] Flag of Bhutan.svg بھوٹان چوتھی بار مدعو
2014 وزیر اعظم Shinzo Abe[46] Flag of Japan.svg جاپان
2015 صدر بارک اوبامہ Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا پہلا امریکی صدر جسے مدعو کیا گیا[47]


دیگر مقامات پر تقریبات[ترمیم]

ملک بھر میں ہر ریاست، ضلع اور یہاں تک کے اسکول اور مدارس میں بھی یہ تقریبات منائی جاتی ہیں۔ ملک کے باہر بھی، وہ ممالک اور مقامات جہاں بھارتی عوام رہتے ہیں، یہ تقریبات منائی جاتی ہیں۔

اسکولوں، مذہبی مدارس اور تعلیم گاہوں کو خوب سجایا جاتا ہے، طلبا کے لیے یہ عید جیسا موقع ہے۔ ایک ہفتہ پہلے سے تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، رنگ برنگے کاغذی ڈیزائن سے اسکولوں کو سجایا جاتا ہے، اسکول کے باغات اور میدانوں کو بھی سجایا جاتا ہے، مقابلے رکھے جاتے ہیں، خواہ وہ مقابلے کھیل کے میدان کے ہوں یا پھر ادبی اور سائنسی۔ جیتنے والے طلباء کو انعامات اور اسناد (میرٹ سرٹیفکیٹس) دئے جاتے ہیں۔ این۔سی۔سی۔ یا پھر کوئی ونگ اگر اسکول میں ہو جیسے، ایئر ونگ، سکاؤٹس ایند گائڈس، نیشنل گرین کور، یا پھر کوئی ایسا خصوصی گروپ ہو تو ان کی پریڈز پیش کی جاتی ہیں۔ جھنڈا (پرچم) لہرایا جاتا ہے، اور اس کو سلامی دی جاتی ہے۔ مٹھائیاں تقسیم، تقاریر، انعامات، پھر ثقافتی پروگرام وغیرہ کا انعقاد۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Introduction to Constitution of India"۔ Ministry of Law and Justice of India۔ 29 July 2008۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 October 2008۔ 
  2. "Indian Independence Act 1947"۔ The National Archives, Her Majesty's Government۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 July 2012۔ 
  3. "India Celebrates 63rd Republic Day". Eastern Fare. Efi-news.com. 26 January 2012. http://www.efi-news.com/2012/01/india-celebrates-63rd-republic-day.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 July 2012. 
  4. ^ 4.0 4.1 "Curtain Raiser – Beating Retreat Ceremony 2011"۔ Ministry of Defence۔ 28 January 2011۔ 
  5. ^ 5.0 5.1 "Beating Retreat weaves soul-stirring musical evening". The Times of India. 29 Jan 2011. http://timesofindia.indiatimes.com/india/Beating-Retreat-weaves-soul-stirring-musical-evening/articleshow/7386283.cms. 
  6. ^ 6.0 6.1 "Martial music rings down the curtain". The Times of India.. 30 Jan 2011. http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2011-01-30/delhi/28374820_1_republic-day-celebrations-bands-ceremony. 
  7. ^ 7.0 7.1 "Yog Sandesh Jan-10 English"۔ Scribd.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  8. "Selected works of Jawaharlal Nehru"۔ claudearpi.net۔ 
  9. http://web.archive.org/web/20050205163551/http://www.dawn.com/2005/01/31/fea.htm
  10. Rajan، Mannaraswamighala Sreeranga (1964). India in world affairs, 1954-56. http://books.google.com/?id=iru1AAAAIAAJ&dq=visit+india+republic+day+january+1964+nehru&q=republic+day#search_anchor. 
  11. Deepak، B. R (2005-01-01). India & China, 1904-2004: A century of peace and conflict. آئی ایس بی این 9788178271125. http://books.google.com/?id=Rh1uAAAAMAAJ&dq=visited+india+as+guest+%22republic+day%22+%221957%22&q=marshall#search_anchor. 
  12. Prasad، Rajendra (1984). Dr. Rajendra Prasad: Correspondence and Select Documents. آئی ایس بی این 9788170230021. http://books.google.com/?id=QfqUPmd1nvQC&pg=PA375&lpg=PA375&dq=Voroshilov+visited+india+january#v=onepage&q=Voroshilov%20visited%20india%20january&f=false. 
  13. "Pandit Jawaharlal Nehru, News Photo, Her Majesty Queen Elizabeth be"۔ Timescontent.com۔ 1961-01-26۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  14. Indian Information. 1962. http://books.google.com/?id=41jVAAAAMAAJ&dq=Norodom+Sihanouk+visit+to+india+january+1963+republic+day&q=invitation+1963+radhakrishnan#search_anchor. 
  15. "visit to New Delhi of Mr Kosygin on the occasion of Republic Day - Google zoeken"۔ Google.com۔ 2013-11-02۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  16. Asian Recorder. 1969. http://books.google.com/?id=v2LVAAAAMAAJ&dq=bulgari+president+T.+Zhivkov+visit+to+india+january+1969+republic+day&q=Todor+Zhivkov+republic+day#search_anchor. 
  17. India. 1971. http://books.google.com/?id=Ij9EAAAAIAAJ&dq=visit+to+india+january+1971+republic+day&q=principal+guest#search_anchor. 
  18. Foreign Affairs Record. 1972. http://books.google.com/?id=y1IgAAAAMAAJ&dq=visit+to+india+Republic+Day+celebration+january+1972&q=Ramgoolam+republic+day#search_anchor. 
  19. Reed، Sir Stanley (1974). The Times of India Directory and Year Book Including Who's who. http://books.google.com/?id=nw62AAAAIAAJ&dq=President+Mobutu+of+Zaire+visited+a+state+visit+to+India+from+January+21+1973&q=President+Mobutu+#search_anchor. 
  20. Indian and Foreign Review. 1973. http://books.google.com/?id=9mhDAAAAYAAJ&dq=visit+India+in+January+1973+guest+%22republic+day%22&q=tito#search_anchor. 
  21. Lok Sabha (1975). Lok Sabha Debates. http://books.google.com/?id=BVnVAAAAMAAJ&q=President+Kenneth+Kaunda+visit+to+india+1974+republic+day&dq=President+Kenneth+Kaunda+visit+to+india+1974+republic+day. 
  22. http://www.ambafrance-au.org/france_australie/spip.php?article1521[مردہ ربط]
  23. The Eastern Economist. 1977. http://books.google.com/?id=s94nAAAAMAAJ&dq=Edward+Gierek+visit+india+in+january+1976&q=Edward+Gierek+1977#search_anchor. 
  24. "Patrick J. Hillery"۔ Clarelibrary.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  25. "Bilateral Visits"۔ Hcindia-au.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  26. "MEA | MEA Links : Indian Missions Abroad"۔ Mealib.nic.in۔ 2013-09-23۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  27. "MEA | MEA Links : Indian Missions Abroad"۔ Mealib.nic.in۔ 2013-09-23۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  28. "MEA | MEA Links : Indian Missions Abroad"۔ Mealib.nic.in۔ 2013-09-23۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  29. "MEA | MEA Links : Indian Missions Abroad"۔ Mealib.nic.in۔ 2013-09-23۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  30. "Sorry for the inconvenience"۔ Mea.gov.in۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  31. "Sorry for the inconvenience"۔ Mea.gov.in۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  32. "meacommunity.org"۔ meacommunity.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  33. "meacommunity.org"۔ meacommunity.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  34. "meacommunity.org"۔ meacommunity.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  35. http://www.indianexpress.com/news/choosing-rday-chief-guest-behind-the-warm-welcome-a-cold-strategy/571348/6
  36. ^ 36.0 36.1 36.2 36.3 "Choosing R-Day chief guest: Behind the warm welcome, a cold strategy"۔ Indian Express۔ 2010-01-25۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  37. "General South African History timeline" sahistory.org.za Accessed on 13 June 2008.
  38. ^ 38.0 38.1 38.2 38.3 "Choosing R-Day chief guest: Behind the warm welcome, a cold strategy"۔ Indian Express۔ 2010-01-25۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  39. ^ 39.0 39.1 39.2 39.3 "Choosing R-Day chief guest: Behind the warm welcome, a cold strategy"۔ Indian Express۔ 2010-01-25۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  40. ^ 40.0 40.1 40.2 40.3 40.4 40.5 "Choosing R-Day chief guest: Behind the warm welcome, a cold strategy"۔ Indian Express۔ 2010-01-25۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  41. "Choosing R-Day chief guest: Behind the warm welcome, a cold strategy"۔ Indian Express۔ 2010-01-25۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  42. "Indonesian President next R-Day parade chief guest - Rediff.com India News"۔ News.rediff.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  43. "Indonesian President next R-Day parade chief guest – Rediff.com India News"۔ Rediff.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2012۔ 
  44. New Delhi, 2 Dec (IANS) (20 January 2012)۔ "Thai PM to be chief guest on India's Republic Day"۔ Deccan Herald۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2012۔ 
  45. "India invites King of Bhutan as chief guest at Republic Day celebrations"۔ Ibnlive.in.com۔ 2013-01-26۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  46. "India likely to Japanese Prime Minister Shinzo Abe as Republic Day chief guest : India, News - India Today"۔ Indiatoday.intoday.in۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-01-24۔ 
  47. <script>(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));</script>

بیرونی روابط[ترمیم]