بالِ جبریل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بال جبریل علامہ اقبال کے کلام کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو بانگ درا کے بعد 1935ء میں منظر عام پر آئی۔ اس مجموعے میں اقبال کی بہترین طویل نظمیں موجود ہیں۔ جن میں مسجد قرطبہ۔ ذوق و شوق۔ اور ساقی نامہ شامل ہیں۔

بال جبریل کی مشہور نظمیں[ترمیم]

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمان[ترمیم]

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ
تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی
یہ بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
اے لآ اِلہٰ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ
رازِ حرم سے شاید اقبال با خبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے اندر محرمانہ

بال جبریل[ترمیم]

میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بُت کدہ صفات میں

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلّیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دَیر و حرم کی نقش بند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں

گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود
گاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہّمات میں

تُو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا، سینۂ کائنات میں

افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوں[ترمیم]

افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوں
پوشیدہ نہیں مردِ قلندر کی نظر سے
معلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ میں بھی
مدت ہوئی گزرا تھا اس راہ گزر سے
الفاظ کے پیچوں میں اُلجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے !
پیدا ہے فقط حلقۂ اربابِ جنوں میں
وہ عقل کہ پاجاتی ہے شعلے کو شرر سے
جس معنی پیچیدہ کی تصدیق کرے دل
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا
نہ ایراں میں رہے باقی، نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصرو کسریٰ
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذر و دِ لق اویس و چادرِ زہرا

حضورِ حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی
یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا
ندا آئی کہ آشوبِ قیامت سے یہ کیا حکم ہے
گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحائے!
لبلب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مے لاَ سے
مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہ اِلَا
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے بھی یورپ کا واویلا
اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موجِ تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمان جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا!
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہ
نو مید نہ ہو ان سے اے رہبرِ فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
اے طائرِ لا ہوتی ہے اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
دار و سکندر سے وہ مردِ فقیرِ اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسدؓ اللہی
آئینِ جوانمرداں حق گوئی و بیباکی!
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

قیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سے
یا مردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر[ترمیم]

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

کرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا!

سوزو تب و تاب اول، سوزو تب و تاب آخر!

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

میخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری!

ہوجاتے ہیں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری، جلوت کی گھڑی آئی

چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر!

تھا ضبط بہت مشکل اس سیلِ معانی کا

کہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے[ترمیم]

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے اس پر غرور کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور کیا کہنا
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمین ہے پست میری آن بان کے آگے
جو بات مجھ میں ہے تجھکو وہ ہے نصیب کہاں
بھلاں پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں
کہا یہ سُن کر گلہری نے منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں تو بھی تو آخر مری طرح چھو ٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہاں میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
قدم اُٹھانے کی طاقت ذرا نہیں تجھ میں
نری بڑائی ہے خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کے دکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی بڑا نہیں قدرت کے کارخانے مین

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

علامہ اقبال کی مزيد شاعری پڑھنے کے لیے اردو پلیس