عبد الشکور لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امام اہل سنت، مولانا

عبد الشکور لکھنوی
ذاتی
فرقہ سنی
فقہی مسلک حنفی
قابل ذکر کام سیرت خلفائے راشدین

مولانا عبد الشکور صاحب 23 ذی الحجہ 1293ھ بمطابق 8 جنوری 1877ء کو لکھنؤ سے 11 کلو میٹر دور "اودھ" کے تاریخی اورمردم خیز قصبہ "کاکوری" ضلع لکھنؤ میں 23 ذی الحجہ 1293ھ بمطابق 1874ء میں بوقت صبح صادق مولوی حافظ ناظر علی صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے ،آپ کی پیدائش کی خوش خبری حضرت مولانا عبد السلام ہنسوی صاحب (المتوفی1881ھ) نے پہلے ہی آپ کے والد ماجد کو دے دی تھی اور فرمادیا تھا کہ ان شاء اللہ تم کو ایک نیک فرزند عطا ہوگا، جس سے تمہارے گھر میں خیروبرکت ہوگی ۔ عقیقہ کے بعد حضرت شاہ صاحب ہنسوی ؒ نے اس بچہ پر باطنی توجہ بھی فرمائی اور کہا کہ بیج ڈال دیا گیا ہے اور ان شاء اللہ بار آور ہوگا۔ ان مبشرات کے ساتھ آپ کا بچپن گزرا،کم سنی کا زمانہ ختم ہوا اور سنِ شعور کو پہنچے تو والد ماجد نے اپنے پیر ومرشد حضرت شا ہ عبد السلام صاحب ؒ سے آپ کی بسم اللہ کرائی، اس موقع پر حضرت شاہ صاحب ؒ نے آپ کے لیے یہ دعا بھی فرمائی تھی "خدا تعالی برخور داررااز علومِ نا فعہ بہرہ و رگرداند" .

تعلیم وتربیت[ترمیم]

آپ کی ابتدائی تعلیم ضلع فتح پور میں ہوئی، قاعدہ بغدادی، پارہ عم اور فارسی کی چندابتدائی کتابیں مولوی عبد الوہاب ساکن ہنسوہ ضلع فتح پور سے پڑھیں ،اس کے بعد فارسی کی باقی کتب درسیہ مولانا سید مظہر حسین ؒ ، متوطن کوڑہ جہان آباد ضلع فتح پور سے شاہ وارث حسن کوڑوی کی رفاقت میں پڑھیں، انہوں نے بڑی توجہ اور دل سوزی سے پڑھایا اور فارسی لکھنے اور بولنے کی مشق بھی کرائی۔فارسی سے فراغت پانے کے بعد میزان،پنج گنج وزبدہ وغیرہ بھی وہیں پڑھیں، دوسری کتابیں مولوی سید تعشق حسین ؒ صاحب کوڑوی اور مولوی محمد یاسین خان صاحب ؒ ،ساکن گتنی ضلع پرتاب گڑھ سے تحصیل کوڑا اور فتح پور میں پڑھیں، اس کے بعد کچھ کتابیں فصول اکبری،شرح جامی،قطبی میرتک، فقہ میں شرح وقایہ اولین و ہدایہ آخرین، اصول فقہ میں اصول شاشی اور نور الانوار وغیرہ مختلف اساتذہ منجملہ مولا نا سید مظہر حسین صاحب ؒ سے ضلع فتح پور اور دیگر مقامات میں پڑھیں. آپ کے والد ماجد صاحب کو یہ بڑی تمنا تھی کہ آپ کو مسندِوقت علامہ ابو الحسنات ، مولانا عبد الحئی فرنگی محلی صاحب کی شاگردی میں دے دیں مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا ،چناں چہ1310ھ بمطابق1892ء میں جب آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ پہنچے تو اس وقت حضرت مولانا فرنگی محلی صاحب رحمة اللہ علیہ وفات پاچکے تھے، لہذا ان کے شاگردِ رشید اور جانشین حضرت مولانا سید عین القضا ةصاحب کی خدمت میں آپ کی حاضری ہوئی ،اس طرح آپ اپنے اصلی مربی و استاد خصوصی مولانا سید عین القضاة صاحب ؒ کے حلقہٴ درس میں داخل کر دیے گئے۔ اس طرح مولانا عین القضاةصاحب ؒ کی خدمت میں رہ کر مسلسل سات سال تک آپ نے با ضابطہ بقیہ علوم وفنون کی تکمیل فرمائی.[1]

علم طب[ترمیم]

علم طب کی تحصیل حکیم عبد الولی سے کی۔

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء میں تدریس پر مامور ہوئے اور ایک عرصہ تک پڑھاتے رہے۔ پھر لکھنؤ آکر اپنے استاد کے مدرسہ فارقیہ میں تدریس کرنے لگے اور ایک مدت تک پڑھاتے رہے۔ آپ نے لکھنؤ میں ایک تاریخی ادارہ قائم کیا جہاں فارض التحصیل علما کو مناظرے کی تربیت دی جاتی۔

بیعت و اجازت[ترمیم]

آپ نے ابو احمد (خلیفہ شاہ عبد الغنی مجددی) کے ہاتھ پر بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔

تصانیف[ترمیم]

آپ کی بہترین تصانیف میں علم الفقہْ، ترجمہ اسد الغابہ، ترجمہ تاریخٰ طبری،۔۔۔ ترجمہ ازالۃ الخفاء عن خلافت الخلفاء۔۔۔ مجموعہ تفسیر آیات الامامۃ و الخلافۃ۔۔۔۔ سیرت خلفاء راشدین اور سرت النبیؐ کے موضوع پر نفحۃ الجزیہ اور سیرت الحبیب الشفیع من الکلام العزیز الرفیع وغیرہ شامل ہیں۔

اہم کارنامے[ترمیم]

  • اہل سنت اور صحابہ کرام کے دفاع میں کئی کامیاب مناظرے کیے۔
  • لکھنؤ میں دارالمبلغین قائم کیا اور مستند علما کو فرق باطلہ سے ٹکر لینے کے علمی انداز سکھائے۔
  • سینکڑوں علما نے آپ سے تربیت مناظرہ ٖحاصل کی۔

وفات[ترمیم]

17 ذی قعدہ 1381ھ بمطابق 21 مئی 1962ء کو رحلت فرما گئے۔

  1. http://www.farooqia.com/ur/lib/1434/10/p46.php