مندرجات کا رخ کریں

باب مغاربہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
باب مغاربہ
 

تاریخ تاسیس 1537  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک ریاستِ فلسطین
اسرائیل   ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
تقسیم اعلیٰ یروشلم   ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متناسقات 31°46′29″N 35°14′02″E / 31.774722222222°N 35.233888888889°E / 31.774722222222; 35.233888888889   ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 6957221  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نقشہ

 

تصویر : پرانے یروشلم اور مسجد اقصیٰ کے دروازے۔
باب المغریبہ پرانے شہر کے دروازوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ دیواروں کے باہر سے نظر آتا ہے۔
مغربی دروازہ مسجد اقصیٰ کے مغربی دروازوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ باہر سے دیکھا جاتا ہے، مغربی دیوار (البراق وال) کے ساتھ۔ یہ آج مسلمانوں کے لیے بند ہے۔

بابُ مغاربہ یروشلم میں دو دروازوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے: ایک قدیم شہر کی جنوبی فصیل میں واقع ہے، جبکہ دوسرا مسجدِ اقصیٰ کے مغربی دروازوں میں سے ایک ہے۔ اس نام کی نسبت محلۂ مغاربہ کے باشندوں سے ہے، جو اصل میں بلادِ مغرب (شمالی افریقہ) سے آئے تھے اور جن کا محلہ بعد میں مسمار کر دیا گیا۔[2]

29 جولائی 2001 کو ایک صہیونی گروہ کی جانب سے بابُ مغاربہ کے مقام پر تیسرے ہیکل کا سنگِ بنیاد رکھنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، جب فلسطینیوں نے اس کی مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس صہیونی گروہ، جسے «امنائے جبلِ ہیکل» کہا جاتا ہے، کو 25 جولائی 2001 کو اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے سنگِ بنیاد رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔[3]

19 دسمبر 2004 کو اسرائیلی حکومت نے اپنے ایک اجلاس میں پانچ ملین شیکل کی رقم اس منصوبے کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی، جس کا عنوان تھا: «بابُ المغاربہ کی سڑک کو ہٹانا اور اس کے متبادل پل کی تعمیر»۔ حکومت نے اس منصوبے کے نفاذ کی ذمہ داری براہِ راست وزیرِ اعظم کے دفتر کو سونپی۔ اسی ماہ سڑک کے نیچے ہونے والی کھدائی کے نتیجے میں سڑک کے کچھ حصے منہدم ہو گئے، نیز بابُ المغاربہ کی سہارادینے والی دیوار کے بعض حصے بھی گر گئے۔[4]

تسمیہ

[ترمیم]

اس دروازے کو بابُ المغاربہ اس کے قریب واقع جامعِ مغاربہ کی نسبت سے کہا گیا، جو مسجدِ اقصیٰ کے اندر واقع ہے اور اس سے باہر موجود محلہ مغاربہ کے نام پر موسوم تھا۔ یہ وہ محلہ تھا جہاں شمالی افریقہ سے آئے ہوئے مغربی مجاہدین سکونت پزیر تھے، جو فتحِ صلاحی کے موقع پر آئے تھے۔ اس محلے کو الملک الافضل بن صلاح الدین نے ان کے لیے وقف کیا تھا۔[5][6][7]

یہ دروازہ «بابُ البراق» اور «بابُ النبی» کے نام سے بھی معروف رہا ہے، کیونکہ یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ نبی محمد شبِ اسراء و معراج کے موقع پر اسی دروازے سے مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔ بعض مؤرخین کے مطابق خلیفہ عمر بن خطاب بھی فتحِ یروشلم کے بعد اسی سمت سے مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔[8]

تاریخ

[ترمیم]

تعمیر

[ترمیم]

اس دروازے کی موجودہ عمارت دورِ مملوکی میں ازسرِنو تعمیر کی گئی۔ یہ تعمیر مصر کے سلطان الملک الناصر محمد بن قلاوون کے عہد میں 713 ہجری / 1313 عیسوی میں انجام پائی۔

بابُ المغاربہ، حائطِ براق کے سب سے قریب واقع دروازہ ہے۔ ابتدا میں یہ ایک چھوٹا دروازہ تھا، بعد میں اسے وسیع کیا گیا۔ یہ دروازہ شہرِ داؤد، عینِ جیحون، برکۂ سلوان اور گاؤں سلوان تک جانے والے راستوں سے جڑا ہوا تھا۔ بازنطینی دور میں اس کے قریب سے ثانوی شارعِ کاردو گزرتا تھا، جو شمال میں بابُ العمود کو جنوب میں برکۂ سلوان سے ملاتا تھا۔

اردنی دورِ حکومت (1948–1967) میں اس دروازے کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے مزید وسیع کیا گیا۔ دروازے کے بیرونی حصے پر ایک محراب ہے جو تکیہ نما پتھروں سے مشابہ دکھائی دیتی ہے اور اس کے اوپر گول، گلابی شکل کی تزئین بنی ہوئی ہے۔

محلِ وقوع

[ترمیم]

یہ دروازہ محلۂ مغاربہ کے ساتھ واقع ہے، جو قدیم شہرِ یروشلم کے مشہور محلّوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس محلے کی شہرت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ 1967 میں یروشلم پر قبضے کے بعد اسرائیل نے اس محلے کو مسمار کر دیا اور اس کی جگہ ایک میدان قائم کیا، جسے «ساحۃ المبکی» کا نام دیا گیا، تاکہ حائطِ براق پر آنے والے یہودی زائرین اور عبادت گزاروں کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

واقعات

[ترمیم]

بابُ مغاربہ کے راستے یروشلم کے تقریباً 7 فیصد مسلمان باشندے مسجدِ اقصیٰ میں نماز کے لیے داخل ہوتے ہیں۔ 6 فروری 2007 سے اسرائیلی حکومت نے اس دروازے کی طرف جانے والی سڑک کو منہدم کرنا شروع کیا، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور ان میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے۔

اخبار الاتحاد کے مطابق، 1983 میں عدالتِ عالیہ نے یروشلم میں بابُ مغاربہ کے مقام پر مذہبی یہودیوں کو عبادت کی اجازت دی تھی۔[9]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1.   ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ باب مغاربہ في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2026ء {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |accessdate= (معاونت) و|accessdate= میں 15 کی جگہ line feed character (معاونت)
  2. حسن موسى. القدس والمسجد الأقصى المبارك: حق عربي وإسلامي عصي على التزوير. الصفحة 153.
  3. "مؤسسة الأقصى والأوقاف الإسلامية تحذران من مخطط إسرائيلي لهدم جدار باب المغاربة". WAFA Agency (بزبان انگریزی). Archived from the original on 12 يناير 2021. Retrieved 2021-05-23. {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)
  4. حسن موسى. القدس والمسجد الأقصى المبارك: حق عربي وإسلامي عصي على التزوير. الصفحة 189.
  5. تعرف على أبواب المسجد الأقصى الـ15 آرکائیو شدہ 2019-04-05 بذریعہ وے بیک مشین
  6. باب المغاربة - أرشيف المسجد الأقصى المبارك آرکائیو شدہ 2017-12-05 بذریعہ وے بیک مشین
  7. باب المغاربة - الدولية آرکائیو شدہ 2020-01-09 بذریعہ وے بیک مشین
  8. "باب المغاربة".. شاهد على تاريخ القدس آرکائیو شدہ 2017-10-13 بذریعہ وے بیک مشین
  9. "ActivePaper Archive"۔ jrayed.org۔ 2020-01-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-01-26