قدیم شہر (یروشلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(قدیم یروشلم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
قدیم شہر
Old City (Jerusalem).jpg
Map of Jerusalem - the old city - EN.png
یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ مقام
سرکاری نام قدیم یروشلم شہر اور اس کی دیواروں
The Old City of Jerusalem and its Walls[1]references
محل وقوع references، یروشلمreferences، اسرائیلreferences
متناسقات 31°46′36″N 35°14′03″E / 31.776666666667°N 35.234166666667°E / 31.776666666667; 35.234166666667
رقبہ references
شامل Tanners' Gate
آرمینیائی محلہ
ابواب خولدا
باب اسباط
باب الخلیل
باب جدید
باب دمشق
باب رحمت
باب ساہرہ
باب صیہون
باب مغاربہ
مسلم محلہ
مسیحی محلہ
یہودی محلہ
حرم قدسی شریف Edit this on Wikidatareferences
معیار ii, iii, vireferences
حوالہ 148
شامل فہرست 1981 (5th اجلاس)
Endangered 1982–تا حال
ویب سائٹ references

قدیم شہر (انگریزی: Old City، عبرانی: העיר העתיקה‎، Ha'Ir Ha'Atiqah، عربی: البلدة القديمة، al-Balda al-Qadimah، آرمینیائی: Երուսաղեմի հին քաղաք، Yerusaghemi hin k'aghak' ) دیوار بند 0.9 مربع کلومیٹر (0:35 مربع میل) پر محیط علاقہ ہے، جو جدید شہر یروشلم میں واقع ہے۔[3]

تاریخ[ترمیم]

عہد نامہ قدیم کے مطابق گیارہویں صدی قبل مسیح میں داؤد علیہ السلام کے شہر کی فتح سے قبل یہاں یبوسی قوم آباد تھی۔ عہد نامہ قدیم کے مطابق یہ مضبوط دیواروں کے ساتھ قلعہ بند شہر تھا۔ داؤد علیہ السلام جس قدیم شہر پر حکومت کرتے تھے جسے شہر داؤد (City of David) کہا جاتا ہے، موجودہ شہر کی جنوب مشرق دیواروں کی طرف باب مغاربہ سے باہر تھا۔ داؤد علیہ السلام کے بیٹے سليمان علیہ السلام نے شہر کو وسعت دی۔ فارسی سلطنت کے دور میں 440 قبل مسیح میں نحمیا نے بابل سے واپسی پر شہر کی تعمیر نو کی۔ 41-44 عیسوی میںیہودیہ کے ہیرودیس اغریپا نے ایک نئی دیوار تعمیر کی جسے تیسری دیوار (Third Wall) کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں نے خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے تحت ساتویں صدی (637 عیسوی) میں یروشلم فتح کیا۔ سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران میں نماز کا وقت آ گیا اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پیش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔ 1193ء میں اس واقعہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاں عثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔

1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران یہ مغربی مسیحی فوج کے قبضے میں چلا گیا۔ 2 اکتوبر، 1187 کو صلاح الدین ایوبی نے اسے دوبارہ فتح کیا۔ اس نے یہودیوں کو طلب کیا اور شہر میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی۔

1219ء میں ایوبی خاندان کے سلطان دمشق المعظم عیسی شرف الدین نے شہر کی دیواروں کو مسمار کروا دیا۔1229ء میں یروشلم معاہدہ مصر تک تحت یہ فریڈرک دوم کے ہاتھوں میں چلا گیا، جس نے 1239ء میں دیواریں دوبارہ تعمیر کروائیں، لیکن انہیں امیر کرک نے دوبارہ مسمار کر دیا۔ 1243ء میں یروشلم دوبارہ مسیحیوں کے قبضے میں چلا گیا، جنہوں نے دیواروں کی دوبارہ مرمت کی۔ خوارزمی تاتاریوں نے 1244ء میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد دیواریں ایک بار پھر مسمار کر دیں۔

قدیم شہر کی موجودہ دیواریں سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان اول نے تعمیر کروائیں۔ دیواروں کی لمبائی تقریباً 4.5 کلومیٹر (2.8 میل) اور اونچائی میں 5 سے 15 میٹر (16 سے 49 فٹ) کا اضافہ کیا، اس کی موٹائی 3 میٹر (10 فٹ) ہے۔[4]

1980ء میں اردن نے شہر کو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ بنانے کی تجویز پیش کی۔[5] 1981ء میں اسے فہرست میں شامل کر لیا گیا۔[6]

یروشلم کے محلے[ترمیم]

مسلم محلہ[ترمیم]

مسلم محلہ (انگریزی: Muslim Quarter، عربی: حارَة المُسلِمين) قدیم شہر کے شمال مشرقی کونے میں واقع چار محلوں میں سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا محلہ ہے۔ یہ مشرق میں باب اسباط سے شمالی دیوار کے ساتھ حرم قدسی شریف اور مغرب میں مغربی دیوار کے ساتھ باب دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی آبادی 2005ء میں 22،000 نفوس پر مشتمل تھی۔ قدیم شہر کے دیگر تین محلوں کی طرح 1929 کے فسادات سے پہلے یہاں بھی مسلم، یہودی اور عیسائوں کی مخلوط آبادی تھی۔[7]

مسیحی محلہ[ترمیم]

مسیحی (انگریزی: Christian Quarter، عربی: حارة النصارى) قدیم شہر کے شمال مغربی کونے میں واقع ہے۔ یہ شمال میں مغربی دیوار کے ساتھ باب جدید سے باب الخلیل تک پھیلا ہوا ہے۔ جنوب میں یہ آرمینیائی محلے اور یہودی محلے سے متصل ہے۔ مشرق میں یہ باب دمشق سے مسلم محلے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس محلے میں کلیسائے مقبرہ مقدس بھی موجود ہے جسے زیادہ تر مسیحی مقدس ترین مقام سمجھتے ہیں۔ مسیحی محلے میں تقریباً 40 مسیحی مقدس مقامات ہیں۔ حالانکہ آرمینیائی بھی مسیحی ہیں لیکن ان کا محلہ مسیحی محلہ سے الگ ہے۔ مسیحی محلہ زیادہ تر مذہبی سیاحتی اور تعلیمی عمارتوں پر مشتمل ہے ۔

آرمینیائی محلہ[ترمیم]

آرمینیائی محلہ (انگریزی: Armenian Quarter، آرمینیائی: Հայկական Թաղամաս، Haygagan T'aġamas, عربی: حارة الأرمن) قدیم شہر کے چار محلوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ حالانکہ آرمینیائی بھی مسیحی ہیں لیکن ان کا محلہ مسیحی محلہ سے الگ ہے۔ 1948ء عرب اسرائیل جنگ کے بعد چاروں محلے اردن کے زیر انتطام آ گئے۔

1967ء کی 6 روزہ جنگ کے نتیجے میں یروشلم اسرائیل کے زیر تسلط آ گیا۔ 1967ء کی جنگ کے دوران میں آرمینیائی خانقاہ کے اندر پائے جانے والے دو بم پھٹ نہ سکے جنہیں ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں 3،000 سے زائد آرمینیائی یروشلم میں مقیم ہیں جن میں سے 500 آرمینیائی محلہ میں رہتے ہیں۔[8][9]

یہودی محلہ[ترمیم]

یہودی محلہ (انگریزی: Jewish Quarter، عبرانی: הרובע היהודי‎، HaRova HaYehudi، عام مکینوں کی بول چام میں HaRova، عربی: حارة اليهود) دیوار بند شہر کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ یہ جنوب میں باب صیہون سے مغرب میں آرمینیائی محلہ تک اور مشرق میں مغربی دیوار اور کوہ ہیکل تک پھیلا ہوا ہے۔ یہودی محلہ بھرپور تاریخ مقام ہے اور یہاں آٹھویں صدی قبل مسیح سے تقریباً مسلسل یہودی آباد ہیں۔[10][11][12][13][14][15] 1948ء عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہ اردن کے زیر انتطام آ گیا، لیکن 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد یہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے چند ہی دنوں بعد اسرائیلی حکام مراکشی محلہ کے انہدام کا حکم دے دیا اور وہاں مقیم لوگوں کو زبردستی دوسری جگہ منتقل کر دیا تا کہ عوام کو دیوار گریہ تک کی رسائی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

مراکشی محلہ[ترمیم]

مراکشی محلہ (انگریزی: Moroccan Quarter / Mughrabi Quarter) [16] (عربی: حارَة المَغارِبة، عبرانی: שכונת המוגרבים‎‎، Sh'khunat HaMughrabim) قدیم یروشلم جنوب مشرقی کونے میں ایک 770 سال پرانا محلہ تھا۔ جو مشرق میں مغربی دیوار (جسے دیوار گریہ بھی کہا جاتا ہے) اور حرم قدسی شریف سے متصل تھا۔ اس کے جنوب میں باب مغاربہ (مراکش کو عربی میں مغرب کہا جاتا ہے) اور مغرب میں یہودی محلہ واقع تھا۔ یہ مسلم محلہ کی توسیع تھی جسے صلاح الدین ایوبی کے بیٹے نے بارہویں صدی میں بنوایا۔[17]

1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد یروشلم اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے چند ہی دنوں بعد اسرائیلی حکام مراکشی محلہ کے انہدام کا حکم دے دیا اور وہاں مقیم لوگوں کو زبردستی دوسری جگہ منتقل کر دیا تا کہ عوام کو دیوار گریہ تک کی رسائی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔[18]

دروازے[ترمیم]

صلیبی جنگوں تک لاطینی مملکت یروشلم کے تحت یروشلم کے چار دروازے تھے جو ہر ایک سمت میں تھے۔ موجودہ دیوار سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان اول کے تعمیر کروائی جس کے گیارہ دروازے ہیں، جن میں سے سات کھلے جبکہ چار بند کر دیے گئے ہیں۔ 1887ء تک ہر دروازہ فجر کے وقت کھولا جاتا تھا اور مغرب کے وقت بند کر دیا جاتا تھا۔

کھلے دروازے[ترمیم]

نام عبرانی عربی متبادل نام تعمیراتی سال مقام
باب جدید HaSha'ar HeHadash (השער החדש) Al-Bab al-Jedid (الباب الجديد) Gate of Hammid 1887 شمالی طرف کا مغرب
باب دمشق Sha'ar Shkhem (שער שכם) Bab al-Amoud (باب العمود) Sha'ar Damesek, Nablus Gate, Gate of the Pillar 1537 شمالی طرف کا وسط
باب ساہرہ Sha'ar HaPerachim (שער הפרחים) Bab al-Sahira (باب الساهرة) Sha'ar Hordos, Flower Gate, Sheep Gate نامعلوم شمالی طرف کا مشرق
باب اسباط Sha'ar HaArayot (שער האריות) Bab al-Asbatt (باب الأسباط) /Bab Sittna Maryam Gate of Yehoshafat, St. Stephen's Gate, Gate of the Tribes 1538–39 مشرقی طرف کا شمال
باب مغاربہ Sha'ar HaAshpot (שער האשפות) Bab al-Maghariba (باب المغاربة) Gate of Silwan, Sha'ar HaMugrabim 1538–40 جنوبی طرف کا مشرق
باب صیہون Sha'ar Tzion (שער ציון) Bab El-Nabi Da'oud (باب النبي داود) Gate to the Jewish Quarter 1540 جنوبی طرف کا وسط
باب الخلیل Sha'ar Yaffo (שער יפו) Bab al-Khalil (باب الخليل) The Gate of David's Prayer Shrine, Porta Davidi 1530–40 مغربی طرف کا وسط

بند دروازے[ترمیم]

نام عبرانی عربی تفصیل دور مقام
باب رحمت Sha'ar HaRahamim (שער הרחמים) Bab al-Rahma (باب الرحمة) Gate of Mercy, the Gate of Eternal Life. Sealed in 1541. چھٹی صدی مشرقی طرف کا وسط
یک محرابی دروازہ دروازہ زیر زمین علاقے کی طرف جاتا ہے حرم قدسی شریف مصلی مروانی دورِ ہیرودیس حرم قدسی شریف کی مغربی دیوار
دو محرابی دروازہ دورِ ہیرودیس حرم قدسی شریف کی مغربی دیوار
ابواب خولدا Also known as the Triple Gate, as it comprises three arches دورِ ہیرودیس حرم قدسی شریف کی مغربی دیوار

مقدس مقامات[ترمیم]

مسلم مقدس مقامات[ترمیم]

مسجد اقصٰی[ترمیم]

حرم قدسی کے جنوبی حصے میں واقع مسجد اقصیٰ

مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

قبۃ الصخرۃ

جب حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہم راہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب مسیحیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو مسیحیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔

قبۃ الصخرۃ[ترمیم]

قبۃ الصخرۃ (Dome of the Rock) یروشلم/بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ یہ ہشت پہلو عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں ميں شمار ہو رہی ہے۔ یہ حرم قدسی شریف کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی اور یہودی اسے (Dome of the Rock) کہتے ہیں۔ عربی میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔

630ء میں خلیفہ عمر بن الخطاب نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد اس علاقے کو صاف کیا اور چٹان واضح ہوئی (اور اس کے ساتھ مسجد اقصی ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے) جبکہ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے 685ء اور 691ء کے درمیان میں کثیر سرمائے سے چٹان کے اوپر گنبد تعمیر کرایا جو فن تعمیر کا ایک عظیم اور زندہ شاہکار ہے۔ دنیا اسی گنبد کو قبۃ الصخرہ کے نام سے جانتی ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کے قریب قبہ معراج ، جہاں سے سفرِ معراج کی ابتداء ہوئی

قبہ معراج[ترمیم]

قبہ معراج یا گنبد معراج (انگریزی: Dome of the Ascension; عربی: قبة المعراج Qubbat al-Miraj; عبرانی: כִּיפָּת הַעֲלִיָּיה‎‎ Kippat Ha'Aliyah) اسلامی روایات کے مطابق یہ حرم قدسی شریف میں وہ مقام ہے جہاں سے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم معراج پر روانہ ہوئے۔

مسجد عمر (یروشلم)[ترمیم]

مسجد عمر (یروشلم)

مسجد عمر (Mosque of Omar) (عربی: مسجد عمر بن الخطاب) یروشلم میں کلیسائے مقبرہ مقدس کے جنوبی صحن کے سامنے واقع ہے۔ 637ء میں مسلم افواج کی یروشلم کی فتح کے وقت سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس/ Sophronius کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران میں نماز کا وقت آ گیا اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔

خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔

1193ء میں اس واقہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے میں ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاںعثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔

قبہ سلسلہ[ترمیم]

قبہ سلسلہ

قبہ سلسلہ یا گنبد زنجیر (انگریزی: Dome of the Chain) (عربی: قبة السلسلة) قدیم یروشلم میں قبۃ الصخرۃ کے نزدیک ایک علاحدہ گنبد ہے۔ یہ حرم قدسی شریف کے قدیم ترین عمارتی ڈھانچوں میں سے ایک ہے۔ یہ کوئی مسجد یا مزار نہیں ہے لیکن یہ نماز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔[19]

روایات کے مطابق اس مقام پر داؤد کے بیٹے سلیمان نے جنت سے زمین تک ایک زنجیر معلق کی تھی۔ کسی تنازع کی صورت میں سچا شخص اسے تھام لیتا تھا مگر یہ جھوٹے شخص کی پہنچ سے دور ہو جاتی تھی۔[20]

اسلامی روایات کے مطابق روز قیامت پارسا اس زنجیر سے جنت جا سکیں گے جبکہ یہ گنہگاروں کو روک دے گی۔[21]

قبہ نبی[ترمیم]

قبہ نبی

قبہ نبی یا گنبد نبی (انگریزی: Dome of the Prophet; عربی: فبة النبي‎) جسے قبہ جبرائیل یا گنبد جبرائیل (انگریزی: Dome of Gabriel; عربی: قبة جبرائيل) بھی کہا جاتا ہے، یہ حرم قدسی شریف میں قبہ معراج کے نزدیک ایک علاحدہ گنبد ہے۔ یہ قبۃ الصخرۃ کے نزدیک عثمانیوں کے بنائے جانے والے تین گنبدوں میں سے ایک ہے۔[22]

اصل قبہ نبی یروشلم کے عثمانی گورنرمحمد بے نے 1538ء میں تعمیر کروایا۔[23][24] تاہم اس کی تعمیر نو 1620ء سلیمان ثانی کے دور میں یروشلم کے عثمانی گورنر فاروق بے نے کی۔ گنبد آج زیادہ تر 1620ء کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔[25]

اسللامی تاریخدانوں خاص کر جلال الدین سیوطی کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے معراج پر جانے سے قبل انبیا اور فرشتوں کی امامت کی تھی۔ عثمانی دور میں یہاں ہر رات دیا روشن کیا جاتا تھا۔

مصلی مروانی[ترمیم]

مصلی مروانی

مصلی مروانی (عربی: المصلى المرواني) جسے اصطبل سلیمان (Solomon's Stables) (عبرانی: אורוות שלמה‎) بھی کہا جاتا ہے ایک زیر زمین جگہ ہے جو اب ایک مسلم عبادت گاہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ حرم قدسی شریف میں مسجد اقصیٰ سے نیچے جانے والی سیڑھیوں پر واقع ہے ۔

قبہ خلیلی[ترمیم]

قبہ خلیلی

قبہ خلیلی یا گنبد خلیلی (انگریزی: Dome of al-Khalili; عربی: فبة الخلیلی‎) حرم قدسی شریف میں قبۃ الصخرۃ کے شمال میں ایک چھوٹی گنبد والی عمارت ہے۔

یہ عمارت اٹھارویں صدی میں عثمانیوں نے اپنے فلسطین پر حکومت کے دوران میں فلسطینی شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والے شیخ محمد الخلیلی کی مناسبت سے تعمیر کی۔[26]

قبہ یوسف[ترمیم]

قبہ یوسف

قبہ یوسف یا گنبد یوسف (انگریزی: Dome of Yusuf; عربی: فبة یوسف‎) حرم قدسی شریف میں قبۃ الصخرۃ کے جنوب میں علاحدہ گنبد ہے۔ اسے سب سے پہلے بارہویں صدی میں صلاح الدین ایوبی نے تعمیر کروایا، جبکہ اس کے بعد کئی بار اس کی مرمت ہو چکی ہے۔[27][28][29]

اس پر دو کتبے موجود ہیں ایک بارہویں صدی جس ہر صلاح الدین کا نام اور تاریخ 1191 درج ہے، جبکہ دوسرا سترہویں صدی کا ہے جس پر یوسف آغا کا نام جو غالبا یروشلم کا عثمانی گورنر تھا اور تاریخ 1681 درج ہے۔[27][30][31]

یہودی مقدس مقامات[ترمیم]

یہودیوں کے نزدیک کوہ کنیسہ (Temple Mount) (مسلم حرم قدسی شریف اور بیت المقدس) جس پر سب سے پہلے عبرانی کتاب مقدس کے مطابق سليمان علیہ السلام [32] نے پہلا معبد جسے ہیکل سلیمانی بھی کہا جاتا ہے 957 قبل مسیح میں بنوایا۔[33] کئی مقامات مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یکساں مقدس ہونے کی وجہ سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل موجودہ دور کے یہودی مقدس مقامات کی فہرست ہے۔

دیوارِ گریہ، جہاں آکر رونا یہودیوں کے نزدیک مذہبی فرائض میں سے ایک ہے

دیوار گریہ[ترمیم]

دیوار گریہ جسے مغربی دیوار (عبرانی:הכותל המערבי) بھی کہا جاتا ہے، قدیم شہر یروشلم میں واقع یہودیوں کی اہم مذہبی یادگار ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیے اسے "دیوار گریہ" کہا جاتا ہے جبکہ مسلمان اس کو دیوارِ براق کہتے ہیں۔

یہودی مذہب کے مطابق یہ دیوار مقدس معبد کی باقیات میں سے ہے اور اسی لیے یہودیت کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ یہودیوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔ اس کے قریب ہی یہودیوں کا مقدس ترین سینا گوگ ہے، جس کو بنیادی پتھر کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر یہودی ربیوں کے مطابق اس مقدس پتھر پر، کوئی یہودی پیر نہیں رکھ سکتا اور جو ایسا کرتا ہے، عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے بہت سے یہودیوں کے مطابق وہ تاریخی چٹان جس پر قبۃ الصخرۃ واقع ہے، مقدس بنیادی پتھر ہے۔[34] جبکہ کچھ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ مقدس بنیادی پتھر دیوارِ گریہ کے بالکل مخالف سمت میں واقع الکاس آبشار کے نزدیک ہے۔[35] یہ مقام مقدس ترین مقام تھا، جب مقدس معبد قائم تھا۔ یہودی روایات کے مطابق دیوارِ گریہ کی تعمیر داؤد نے کی تھی اور موجودہ دیوارِ گریہ اُسی دیوار کی بنیادوں پر قائم کی گئی تھی، جس کی تاریخ ہیکل سلیمانی سے جاملتی ہے۔[36]

مغربی دیوار سرنگ[ترمیم]

مغربی دیوار سرنگ (Western Wall Tunnel)

(عبرانی: מנהרת הכותל‎، کلمہ نویسی: Minheret Hakotel) مغربی دیوار (دیوار گریہ) کی مکمل لمبائی کو بے نقاب کرنے والی ایک زیر زمین سرنگ ہے۔ سرنگ مغربی دیوار سے ملحق اور قدیم یروشلم شہر کی عمارتوں کے تحت واقع ہے۔ مغربی دیوار کا کھلی فضا میں حصہ تقریباً 60 میٹر (200 فٹ) طویل ہے جبکہ، اس کا زیادہ تر حصہ زیر زمین ہے۔ سرنگ دیوار کے اضافی حصہ جو 485 میٹر (1،591 فٹ) لمبا ہے، تک رسائی دیتی ہے۔

تیفیریت اسرائیل کنیسہ

تیفیریت اسرائیل کنیسہ[ترمیم]

تیفیریت اسرائیل کنیسہ (انگریزی: Tiferet Yisrael Synagogue؛ عبرانی: בית הכנסת תפארת ישראל‎) انیسویں اور بیسویں صدی کے درمیان میں قدیم یروشلم کا سب سے شاندار کنیسہ تھا۔ اسے 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تباہ کر دیا گیا تھا۔ 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیلی انتطامیہ نے کھنڈر کے طور پر ہی رکھا۔

کنیسہ خرابا[ترمیم]

کنیسہ خرابا

کنیسہ خرابا (انگریزی: בית הכנסת החורבה، عبرانی: בית הכנסת החורבה‎، کلمہ نویسی: Beit ha-Knesset ha-Hurba، لفظی معنی۔ "برباد کنیسہ") قدیم یروشلم کے یہودی محلہ میں ایک تاریخی کنیسہ ہے۔

1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران میں اسے تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد یروشلم پر اسرائیلی کنٹرول/قبضہ کے بعد 2010ء میں از سر نو تعمیر کیا گیا۔

چار سفاردی کنیسہ جات[ترمیم]

چار سفاردی کنیسہ جات

چار سفاردی کنیسہ جات (Four Sephardic Synagogues) قدیم یروشلم کے یہودی محلہ میں واقع ہیں۔ یہ چار کینساوں کا ایک مجموعہ ہے جو مختلف ادوار میں تعمیر کیے گئے، جنہیں سفاردی یہودیوں کی مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، جن میں ہر ایک مختلف رسومات کے لیے ہے۔

Solid lightblue.png یوحنان بین زکائی کنیسہ (Yochanan ben Zakai Synagogue)

G10.png استمبولی کنیسہ (Istanbuli Synagogue)

Magenta-square.gif نبی الیاہو کنیسہ (Eliahu Ha'navi Synagogue)

Solid yellow.svg امتسائی کنیسہ (Emtsai Synagogue)

مسیحی مقدس مقامات[ترمیم]

کلیسائے مقبرہ مقدس[ترمیم]

کلیسائے مقبرہ مقدس

کلیسائے مقبرہ مقدس (Church of the Holy Sepulchre) (عربی: كنيسة القيامة، kanīssat al Qi'yāma; لاطینی: ecclesia Sancti Sepulchri; عبرانی: כנסיית הקבר הקדוש‎، Knesiyat HaKever HaKadosh) (آرمینیائی: Սուրբ Յարութեան տաճար، Surb Harut’ian tačar; یونانی: Ναός της Αναστάσεως، Naós tēs Anastáseōs) قدیم یروشلم کے مسیحی محلہ میں ایک کلیسا ہے۔[37]

راہ غم[ترمیم]

راہ غم

راہ غم یا راہ درد یا ویا دولوروسا (Via Dolorosa) (لاطینی،"Way of Grief"، "Way of Sorrows"، "Way of Suffering" or simply "Painful Way") (عربی: طريق الآلام) قدیم یروشلم میں دو حصوں میں منقسم ایک گلی ہے، جہاں یسوع مسیح قید خانے سے اپنی صلیب اٹھا کر چلتے ہوئے مقام مصلوبیت پر آئے۔ راستے کی لمبائی تقریباً 600 میٹر (2،000 فٹ) ہے۔ مقام مصلوبیت پر اب کلیسائے مقبرہ مقدس قائم ہے۔ موجودہ راستے پر نو جگہ پر اسٹیشن صلیب نشان زدہ ہیں۔ اسٹیشن صلیب سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں یسوع مسیح صلیب اٹھا کر چلتے ہوئے رکے یا گرے۔ پندرہویں صدی کے آواخر سے اسٹیشنوں کی تعداد چودہ ہے، جس میں نو راہ غم پر جبکہ پانچ کلیسائے مقبرہ مقدس کے اندر ہیں۔[38]

نجات دہندہ کا لوتھری کلیسا[ترمیم]

کلیسا نجات دہندہ

نجات دہندہ کا لوتھری کلیسا (Lutheran Church of the Redeemer) قدیم یروشلم میں قائم ہونے والا دوسرا لوتھری (پروٹسٹنٹ) کلیسا ہے (جبکہ پہلا کلیسا مسیح ہے جو باب یافا کے قریب ہے)۔

سینٹ جیمز کلیسا[ترمیم]

سینٹ جیمز کلیسا

سینٹ جیمز کلیسا (Cathedral of St. James, Jerusalem) (آرمینیائی: Սրբոց Յակոբեանց Վանք Հայոց) قدیم یروشلم میں بارہویں صدی کا آرمینیائی محلہ میں ایک آرمینیائی کلیسا ہے۔

سینٹ توروس کلیسا[ترمیم]

سینٹ توروس کلیسا

سینٹ توروس کلیسا (St. Toros Church) قدیم یروشلم میں آرمینیائی محلہ میں واقع ہے۔ یہ سینٹ جیمز کلیسا کے برابر میں واقع ہے۔ اس میں آرمینیوں کی طرف سے 4،000 سے زیادہ قدیم مسودات رکھے گئے ہیں۔[39]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Old City of Jerusalem and its Walls"۔ یونیسکو۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2014۔
  2. ۔ See Positions on Jerusalem
  3. Teddy Kollek۔ "Afterword"۔ بہ John Phillips۔ A Will to Survive – Israel: the Faces of the Terror 1948-the Faces of Hope Today۔ Dial Press/James Wade۔ about 225 acres
  4. Heike Zaun-Goshen۔ "Keys to the Treasure Trove – Jerusalem's Old City Gates"۔ Jerusalem Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-10۔
  5. Advisory Body Evaluation (PDF file)
  6. "Report of the 1st Extraordinary Session of the World Heritage Committee"۔ Whc.unesco.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-10-14۔
  7. "שבתי זכריה עו"ד חצרו של ר' משה רכטמן ברחוב מעלה חלדיה בירושלים העתיקה"۔ Jerusalem-stories.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-10-14۔
  8. (آرمینیائی زبان میں) http://web.archive.org/web/20181226020940/http://www.armeniadiaspora.com/cgi-sys/suspendedpage.cgi۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت); |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  9. (آرمینیائی زبان میں) http://web.archive.org/web/20181226020938/http://www.armenian-patriarchate.org/page6.html۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت); |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  10. University of Cape Town, Proceedings of the Ninth Annual Congress, South African Judaica Society 81(1986) (referencing archaeological evidence of "Israelite settlement of the Western Hill from the 8th Century BCE onwards")۔
  11. Simon Goldhill, Jerusalem: City of Longing 4 (2008) (conquered by "Early Israelites" after the "ninth century B.C.")
  12. William G. Dever & Seymour Gitin (eds.)، Symbiosis, Symbolism, and the Power of the Past: Canaan, Ancient Israel, and Their Neighbors from the Late Bronze Age Through Roman Palaestina 534 (2003) ("in the 8th-7th centuries B.C.E.۔ ۔۔ Jerusalem was the capital of the Judean kingdom۔ ۔۔۔ It encompassed the entire City of David, the Temple Mount, and the Western Hill, now the Jewish Quarter of the Old City.")
  13. John A. Emerton (ed.)، Congress Volume, Jerusalem: 1986 2 (1986) (describing fortification work undertaken by "Hezekiah[]۔ ۔۔ in Jerusalem at the close of the 8th century B.C.E.")
  14. Hillel Geva (ed.)، 1 Jewish Quarter Excavations in the Old City of Jerusalem Conducted by Nahman Avigad, 1969–1982 81 (2000) ("The settlement in the Jewish Quarter began during the 8th century BCE.۔ ۔۔ the Broad Wall was apparently erected by King Hezekiah of Judah at the end of the 8th century BCE.")
  15. Koert van Bekkum, From Conquest to Coexistence: Ideology and Antiquarian Intent in the Historiography of Israel’s Settlement in Canaan 513 (2011) ("During the last decennia, a general consensus was reached concerning Jerusalem at the end of Iron IIB. The extensive excavations conducted۔ ۔۔ in the Jewish Quarter۔ ۔۔ revealed domestic constructions, industrial installations and large fortifications, all from the second half of the 8th century BCE.")
  16. Alternative spelling reported by :
     ·
    The Legacy of Solomon۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ نومبر 28, 2012۔
     ·
    Henry Cattan۔ The Palestine Question۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ نومبر 28, 2012۔
     ·
    Annelies Moors۔ Discourse and Palestine: Power, Text and Context۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ نومبر 28, 2012۔
  17. F. E. Peters۔ Jerusalem۔ Princeton, New Jersey: Princeton University Press۔ صفحات 357–359, 394–396۔ one of the best documented endowments, one that embraced the entire quarter of Western Muslims or Maghrebis
  18. M. Dumper, Jerusalem: Then and Now، in Middle East Report, 182 [1] : "On جون 10, 1967, within days of the Israeli occupation of Jerusalem, Israeli authorities flattened an area between the Western Wall and the Jewish Quarter known as the Harat al-Magharibeh, or Moroccan Quarter, and forced the Palestinian inhabitants to leave."
  19. Al-Aqsa Guide: 31. Dome of the Chain (Silsilah) Al Aqsa Friends 2007.
  20. Murphy-O'Connor, Jerome۔ (2008)۔ The Holy Land: An Oxford Archaeological Guide from Earliest Times to 1700 Oxford University Press, p.97. ISBN 0-19-923666-6.
  21. Dome of the Chain Archnet Digital Library.
  22. Prophet's Dome Archnet Digital Library.
  23. Dome of the Prophet Noble Sanctuary Online Guide.
  24. Humanities Through the Arts - KET Education
  25. Al Masjidul Aqsa Site Plan Al-Aqsa Friends 2007.
  26. Al-Aqsa Guide Al-Aqsa Friends 2007.
  27. ^ ا ب Carole Hillenbrand۔ The Crusades: Islamic perspectives۔ Routledge۔ صفحہ 191۔ آئی ایس بی این 978-0-415-92914-1۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  28. Gülru Necipoğlu۔ Muqarnas: An Annual on the Visual Culture of the Islamic World۔ BRILL۔ صفحہ 73۔ آئی ایس بی این 978-90-04-11084-7۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  29. Myriam Rosen-Ayalon۔ Islamic art and archaeology in Palestine۔ Left Coast Press۔ صفحہ 97۔ آئی ایس بی این 978-1-59874-064-6۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  30. Qubbat Yusuf Archnet Digital Library.
  31. Al-Aqsa Guide Friends of al-Aqsa 2007.
  32. "Temple, the." Cross, F. L.، ed. The Oxford dictionary of the Christian church. New York: Oxford University Press. 2005
  33. New American Heritage Dictionary, entry: 'Temple'
  34. Radbaz Responsa 691: "Under the dome on the Temple Mount, which the Arabs call El-Sakhrah, without a doubt, is the location of the Foundation Stone."; Ya'ari, Avraham: Igrot Eretz Yisrael by Obadiah ben Abraham، رمات گان 1971: "I sought the place of the Foundation Stone where the تابوت سکینہ was placed, and many people told me it is under a tall and beautiful dome which the Arabs built in the Temple precinct."
  35. Sternbuch, Moishe Teshuvos Ve-hanhagos Vol. 3, Ch. 39: “In truth they have erred, thinking that the stone upon they built their dome was in fact the Foundation Stone, however, most possibly, the Stone is located further to the south in the open space opposite the exposed section of the Western Wall.”
  36. Frishman, Avraham; Kum Hisalech Be’aretz، Jerusalem 2004
  37. In American English also spelled Sepulcher۔ Also called the Basilica of the Holy Sepulchre۔
  38. Jerome Murphy-O'Connor, The Holy Land, (2008)، page 37
  39. "The Armenian Orthodox Patriarchate"۔ The Armenian Patriarchate of St. James, Jerusalem۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مئی 2011۔

متناسقات: 31°46′36″N 35°14′03″E / 31.77667°N 35.23417°E / 31.77667; 35.23417