قہوہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قہوہ
قہوہ
قہوہ
قسمگرم اور سرد (عام طور پر گرم)
اصل ملکایتھوپیا
متعارفاندازہ پندرہویں صدی (مشروب)
رنگگہرا بھورا، خاکستری، سیاہ، ہلکا بھورا، سفید

قہوہ یا کافی (Coffee) دنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا مشروب ہے۔ یہ کافی کے پودے کے بھنے اور پیسے ہوئے بیجوں سے حاصل ہوتا ہے۔ گرم یا ٹھنڈا یہ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ چاۓ کے مقابلے میں کافی میں کیفین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ پینے والے کو تازہ دم کر دیتی ہے۔ اور نیند بھگا دیتی ہے۔

مصدر و ماخذ[ترمیم]

قہوہ (قَهْوَة) [1] کا لفظ عربی فعل قَهِيَ (بھوک کی کمی) سے نکلا ہے، جو حوالہ ہے اس مشروب کی بھوک دبانے کی خصوصیت کی طرف۔ عربی سے یہ لفظ عثمانی ترکوں میں رائج ہوا جہاں سے ڈچ لفظ koffie ایجاد ہوا۔ 1582 میں ڈچ زبان سے انگریزی زبان میں کافی (coffee) کے طور پر رائج ہوا۔ کافی پیالے (coffee pot) کی اصطلاح 1705 میں شروع ہوئی [2] اور کافی وقفہ (coffee break) کی اصطلاح 1952 میں مشہور ہوئی۔

تاریخ[ترمیم]

قہوہ کے آغاز کی دیومالائی داستانیں[ترمیم]

ایک داستان کے مطابق، کا اصل وطن ایتھوپیا کے علاقے کفا کے لوگوں نے پہلے قہوے کے پودے کو دریافت کیا [3] مگر 15ویں صدی سے قبل اس بات کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔کہا جا تا ہے کہ خالد نام کا ایک عرب ایتھوپیا کے علاقہ کافہ میں ایک روز بکریاں چرا رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے جا نور ایک خاص قسم کی بوٹی کھانے کے بعد چاق و چوبند ہو گئے تھے۔ چنانچہ اس نے اس درخت کی بیریوں کو پانی میں ابال کر دنیا کی پہلی کافی تیار کی۔ یہ کہانی 1671 سے پہلے نہیں ملتی اور اسے غیر مستند مانا جاتا ہے۔ ایک اور داستان کے مطابق شیخ عمر نے قہوہ دریافت کیا۔ ایک قدیم سلسلہ وار تاریخی مسودے (عبدالقادر مسودہ) میں عمر موکا(یمن) سے جلا وطن کر دیا جاتا ہے اوہ وہ زابد سے 90 کلومیٹر دور ایک صحرائی غار میں رہنا شروع کر دیتا ہے [4]۔ اتفاقاََ بھوک کے ہاتھوں مجبور عمر بیری کے پتے کھاتے ہیں تو انہیں اس کا ذائقہ کڑوا محسوس ہوتا ہے، وہ اسے ابال کر ایک بھورے مشرب کا روپ دے کر پیتے ہیں جس سے ان کی توانائی بحال ہو جاتی ہے۔ اس جادوئی بوٹی کہانیاں جب موکا، یمن پہنچتی ہیں تو عمر کو واپس بلا لیا جاتا ہے اور انہیں ایک صوفی کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ [5]

قہوہ کا تاریخی سفر[ترمیم]

قہوہ کے درخت یا کافی پینے کے بارے میں ابتدائی معتبر ثبوت 15 ویں صدی کے وسط میں یمن میں احمد الغفار کی تحریروں میں ملتے ہیں۔ قہوہ کا استعمال عرب میں صوفی کے ذریعے رواج پایا جنہوں نے اسے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے دیر تک جاگنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔[6] یمن سے قہوہ کے آغاز پر مختلف رائے ہے،جس میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ قہوے کا پودا شاید ایتھوپیا سے براستہ بحیرہ عرب یمن پہنچا۔ [7] ایک روایت کے مطابق قہوہ افریقہ ساحلوں سے عدن لانے والے محمد ابن سعد تھے [8] ۔ دیگر ابتدائی روایات کے مطابق شاذلیہ صوفی طریقت کے علی بن عمر نے عرب میں قہوہ متعارف کروایا [9] ۔

عرب سے یہ سلطنت عثمانیہ پہنچا اور وہیں سے یہ یورپ پہنچا اور پھر ساری دنیا میں مقبول ہو گیا۔ ایتھوپیا سے یہ کافی بین یمن پہنچے جہاں صوفی ازم سے وابستہ لوگ ساری ساری رات اللہ کا ذکر کرنے اور عبادت کر نے کے لیے اس کو پیتے تھے۔ پندرھویں صدی میں کافی مکہ معظمہ پہنچی، وہاں سے ترکی جہاں سے یہ 1645 میں وینس (اٹلی) پہنچی۔ 1650 میں یہ انگلینڈ لائی گئی۔ لانے والا ایک ترک پاسکوا روزی (Pasqua Rosee) تھا جس نے لندن سٹریٹ پر سب سے پہلی کافی شاپ کھولی۔ عربی کا لفظ قہوہ ترکی میں قہوے بن گیا جو اطالین میں کافے اور انگلش میں کافی بن گیا۔

کھپت[ترمیم]

نورڈک ممالک سب سے زیادہ کافی پینے والے ممالک میں شامل ہیں۔ فن لینڈ میں کافی کی کھپت برازیل کے مقابلے میں دگنی ہے۔ ریاستہائے متحدہ کافی کی کھپت کے لحاظ سے 2018 میں 25 ویں نمبر پر تھا۔[10] 2018 میں سب سے زیادہ کافی استعال کرنے والے 10 ممالک فی کس سالانہ کے حساب سے مندرجہ ذیل ہیں:

ملک کھپت
فن لینڈ 12 کلو
ناروے 10 کلو 900 گرام
آئس لینڈ 9 کلو
ڈنمارک 8 کلو 700 گرام
ہالینڈ 8 کلو 400 گرام
سویڈن 8 کلو 200 گرام
سوئٹزرلینڈ 7 کلو 900 گرام
بیلجم 6 کلو 800 گرام
لکسمبرگ 6 کلو 500 گرام
کینیڈا 6 کلو 500 گرام

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sweetser, Heather Marie (2012) A Chapter in the History of Coffee: A Critical Edition and Translation of Murtaḍā az-Zabīdī's Epistle on Coffee آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ etd.ohiolink.edu [Error: unknown archive URL] M.A. Thesis, Ohio State University. p. 12.
  2. Ukers، William (1935). All About Coffee. New York: Tea & Coffee Trade Journal Company. صفحات 9–10. 
  3. Weinberg & Bealer 2001، صفحات 3–4
  4. Houtsma، M. Th.؛ Wensinck، A. J.؛ Arnold، T. W.؛ Heffening، W.؛ Lévi-Provençal، E.، ویکی نویس (1993). "Ḳawah". First Encyclopedia of Islam. IV. E.J. Brill. صفحہ 631. ISBN 978-90-04-09790-2. اخذ شدہ بتاریخ January 11, 2016. 
  5. Souza 2008، صفحہ 3
  6. Hattox، Ralph S. (1985). Coffee and coffeehouses: The origins of a social beverage in the medieval Near East. University of Washington Press. صفحہ 14. ISBN 978-0-295-96231-3. 
  7. Burton، Richard F. (1856). First footsteps in East Africa. London: Longman. صفحہ 78. ali omar coffee yemen. 
  8. R. J.، Gavin (1975). Aden Under British Rule, 1839-1967 (بزبان انگریزی). C. Hurst & Co. Publishers. صفحہ 53. 
  9. Precis of Papers Regarding Aden, pg. 166, 1838-1872
  10. Bernard، Kristine (5 January 2018). "Top 10 Coffee Consuming Nations". Worldatlas.com (بزبان انگریزی). Quebec, Canada: World Atlas. اخذ شدہ بتاریخ 29 اکتوبر 2019.