آنامیری شمل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ڈاکٹر شِمل سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
این میری شمل
Annemarie Schimmel
Glass plate in the Bonngasse; بون، جرمنی
پیدائش 7 اپریل 1922 (1922-04-07)
Erfurt, Germany
وفات جنوری 26, 2003 (عمر 80 سال)
بون، جرمنی
تعلیم ڈاکٹریٹ تہذیب اور زبانیں اسلامی تاریخ پر ڈاکٹریٹ .
پیشہ ماہر ایرانیات، ماہر سندھیات، مستشرق، ماہر اسلامیات, ماہر تصوف، ماہر اقبالیات
ڈاکٹر شِمل


این میری شمل (پیدائش 7 اپریل 1922ء) (انگریزی: Annemarie Schimmel)ایرانیات، اقبالیات، سندھیات، اور علوم مشرق کی ماہراسلامی تہذیب کی معروف محقق اور معروف مستشرق۔جرمنی کے شہر ایفروت ( سیکسنی) میں پیدا ہوئیں۔انیس برس کی عمر میں بون یونیورسٹی سے ’مملوک مصر میں خلیفہ اور قاضی کا رتبہ‘ کے عنوان پر پی ایچ ڈی کیا۔اُن مستشرقین کے برعکس جو ، اسلام میں خامیاں اور اس کا مغربی تہذیب سے تصادم تلاش کرتے رہتے ہیں ،ایسی محقق تھیں جنہوں نے اسلام کا مطالعہ اور تحقیق اُس کے تخلیقی جوہر اور دانش کو ڈھونڈنے کے لیے کیا ـ

ابتدائی زندگی[ترمیم]

تعلیم وتدریس[ترمیم]

این مری شمل 1958ء سے متعدد بار پاکستان گیئں وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتی تھیں ـ انہوں نے پاکستان میں اقبالیات، تصوف اور علوم مشرقیہ پر متعدد لیکچر دیے ـان کو جرمن زبان کے علاوہ عربی ، فارسی اور ترکی سمیت متعدد مشرقی زبانوں پر عبور حاصل تھا ـ انہیں پاکستان کی علاقائی زبانوں ، سندھی ، سرائیکی اور پنجابی سے بھی شغف تھا۔این مری شمل کی انگریزی اور جرمن شاعری کے دو مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں جس سے ان کی تخلیقی اور دانشوارانہ تنوع کا پتا چلتا ہے ـ

تحقیقی کام[ترمیم]

این مری شمل سو سے زیادہ کتابوں کی مصنف تھیں اور ہاروڈ اور بون یونیورسٹیوں میں تدریس کرتی رہیں ـ انیس سو ترپن سے وہ انقرہ یونیورسٹی میں بھی پانچ سال تک وابستہ رہیں ـ اس دوران اُنہوں نے ترکی زبان میں کتب لکھیں اور علامہ اقبال کے کلام ’جاوید نامہ‘ کا ترکی میں ترجمہ کیا ۔ان کی بیشتر کتابیں اور مضامین تصوف کے موضوع پر ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے مسلمان مفکروں اور شاعروں کی سینکڑوں کتابوں کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا ـ ان کا گھر اسلام کے نایاب مخطوطوں سے بھرا ہوا تھا جن میں سے بہت سے نسخے انہوں نے بون یونیورسٹی کو دے دیے ـ انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں اسلام پر بھی ایک گراں قدر کتاب لکھی ـ

اقبالیات[ترمیم]

انہوں نے علامہ اقبال کی شاعری کے مجموعوں بانگ درا ، پیام مشرق اور جاوید نامہ کا جو جرمن زبان میں ترجمہ کیا انہیں جرمن ادب میں ایک بڑا مقام حاصل ہے۔ جاوید نامہ کا ترکی میں ترجمہ کیا۔این مری شمل نے علامہ اقبال کے مذہبی خیالات کے مطالعہ پر مبنی ایک کتاب ’جبرائیل کے پر‘ کے عنوان سے لکھی جسے اقبالیات میں ایک اہم کتاب شمار کیا جاتا ہے ـ پاکستان حکومت نے انھیں اقبالیات پر ان کے کام کے اعتراف میں 1988ء میں عالمی صدارتی اقبال ایوارڈ دیا ـ

ایرانیات[ترمیم]

سندھیات[ترمیم]

اعزازات[ترمیم]

این میری شمل کی قبر کا کتبہ، اس پر ایک مسلمان خلیفہ حضرت علی کا قول درج ہے، لوگ ابھی سوتے ہیں، مرنے کے بعد بیدار کیے جاہیں گے

اُن کی خدمات کے اعتراف میں دنیا کے بہت سے اسلامی اور مغربی ملکوں نے انہیں لا تعداد انعامات سے نوازا۔ حکومت پاکستان نے 1983ء میں انہیں ہلال امتیاز اور بعد میں ستارہ امتیاز دیا ۔لاہور میں نہر کے ساتھ ساتھ چلنے والی سڑک کو عظیم جرمن شاعر گوئٹے کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ نہر سے پار جو سڑک ہے وہ این مری شمل کے نام سے موسوم کی گئی ہے جس کے بارے میں وہ ازراہ مذاق کہا کرتی تھیں کہ ’پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا ۔پاکستان حکومت نے ان کے نام سے ایک تعلیمی وظیفہ بھی جاری کیا ـ

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]