عبدالاحد فاروقی کابلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ خواجہ عبد الاحد فاروقی سر ہندی

نام[ترمیم]

عبد الاحد سرہندی سرہند میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام زین العابدین تھا۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اس کے بعد آپ نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ مجھے کسی ایسے بزرگ کے پاس لے چلیں جن کو روحانیت میں اعلٰی مقام حاصل ہو۔ آپ کے والد صاحب نے کہا کہ بیٹا بزرگ گھر بیٹھ کر نہیں ملتے ان کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اس پر عبد الاحد سرہندی نے اپنے والد سے کہا تو پھر آپ کسی ولی کامل کی تلاش میں میری مدد کیجیے تاکہ میں اپنی منزل پاسکوں۔

نسب[ترمیم]

عبد الاحد بن زین العابدین بن عبد الحی بن محمد بن حبیب اللہ بن رفیع الدین بن نصیر الدین بن سلیمان بن یوسف بن اسحق بن عبد اللہ بن احمد بن یوسف بن شہاب الدین المعروف فرخ شاہ کابلی بن نصیر الدین بن محمود بن سلیمان بن مسعود بن عبد اللہ واعظ اصغر بن عبد اللہ واعظ اکبر بن ابو الفتح بن اسحق بن ابراہیم بن ناصر بن عبد اللہ بن عمر فاروق[1]

تعلیم باطن[ترمیم]

ایک روز عبد الاحد سرہندی کو خواب میں ایک بزرگ نظر آئے جو ان کو کہہ رہے تھے کہ عبد الاحد جلدی سے گنگوہ چلے آؤ۔ صبح بیدار ہوئے تو یہ خواب اپنے والد صاحب کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے تمہاری رہبری کے سامان پیدا کر دیے ہیں کیونکہ گنگوہ میں عبد القدوس بہت بڑے اور بلند پایہ بزرگ ہیں۔ اب آپ کا دل چاہتا تھا کہ کسی طرح اڑ کر گنگوہ پہنچ جاؤں۔ آپ کے والد آپ کی اس بے چینی سے بڑے پریشان تھے اس لیے انہوں نے گنگوہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ زین العابدین آپ کو لیکر گنگوہ روانہ ہو گئے۔

جب دونوں باپ بیٹا گنگوہی کے آستانے میں داخل ہوئے تو وہاں عبدالقدوس گنگوہی کی ہدایت پر ان کا خادم باری باری سب نئے آنے والوں کو خانقاہ کے اندر داخل کر رہا تھا کہ شیخ عبد القدوس نے خادم سے کہا کہ آج نئے آنے والے مہمانوں میں دو فاروقی سلسلے کے مہمان بھی ہیں ان کو میرے پاس بھیجو۔ چنانچہ جب خادم نے آپ کو پکارا تو عبد الاحد سرہندی اور ان کے والد زین العابدین ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگے اور یہ سمجھے کہ شاید یہ کوئی دوسرے صاحبان ہوں گے لیکن جب خادم نے دوبارہ پکارا تو آپ سمجھ گئے کہ آپ کو ہی پکارا جا رہا ہے۔ چنانچہ آپ اندر تشریف لے گئے۔

عبد الاحد فاروقی کو دیکھ کرعبد القدوس نے فرمایا کیوں بھئی یہاں آنے کے لیے اپنے والد کو کیوں تنگ کیا۔ اگر یہاں آنے کی اتنی جلدی تھی تو اکیلے چلے آتے۔ عبد الاحد سرہندی نے کہا حضرت تنہا آنے کی ہمت نہ تھی۔ اس کے بعد آپ کے والد آپ کو چھوڑ کر واپس سرہند چلے گئے۔ یہاں عبد الاحد سرہندی کو ایک علاحدہ حجرا دیا گیا جہاں آپ عبادت کیا کرتے تھے مگر آپ کی خواہش تھی کہ آپ کو بھی دوسرے درویشوں کے ساتھ رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے اس کا اظہار عبد القدوس گنگوہی سے کیا۔ عبد القدوس گنگوہی نے فرمایا پہلے آپ علوم دین کی تعلیم کی مکمل کر لیں اور شریعت رسول پر مستحکم ہو جائیں پھر آپ کا شمار از خود درویشوں میں ہو جائے گا۔ کسی کامل استاد سے اپنی تعلیم مکمل کریں پھر ہمارے پاس حاضر ہوں۔ ہم تم سے حدیث، فقہ، تفسیر اور تصوف کا امتحان لیں گے اگر تم اس میں پاس ہو گئے تو پھر تم یہاں رہ سکتے ہو۔

دینی علم کا حصول[ترمیم]

شیخ کا حکم پا کرعبد الاحد سرہندی حصول علم کے لیے سفر پر روانہ ہو گئے اور مختلف جگہوں سے دینی علوم حاصل کیا۔ آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ میں بھی مہارت حاصل کی۔ جب آپ اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس گنگوہ پہنچے تو آپ کو پتہ چلا کہ عبد القدوس گنگوہی اس دارفانی سے رخصت ہوچکے ہیں تو آپ عبد القدوس گنگوہی کے صاحبزادے رکن الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فاتحہ پڑھی۔ رکن الدین نے فرمایا ہمیں بابا نے حکم دیا تھا کہ جب عبد الاحد واپس آئے تو حدیث، تفسیر، فقہ اور تصوف میں اس کا امتحان لے کر اپنے پاس رہنے کی اجازت دے دینا۔ عبد الاحد سرہندی ہر امتحان دینے کے لیے تیار تھے چنانچہ رکن الدین نے آپ کا امتحان لیا۔ عبد الاحد سرہندی کے جوابی دلائل اور وضاحتیں سن کر رکن الدین حیران رہ گئے اور اسی وقت آپ کو سلسلہ چشتیہ اور سہروردیہ کا خرقہ خلافت عطا فرمایا اور آپ کو رہنے کی اجازت دے دی۔[2]

زہد و تقوی[ترمیم]

عبد الاحد سرہندی زہد و تقویٰ میں بڑی ہی معروف ہستی تھے۔ آپ نے رکن الدین سے تربیت حاصل کرنے کے بعد ایک مدت گوشہ نشینی میں گزار دی۔ اس کے بعد آپ نے حدیث، فقہ اور تفسیر کی تعلیم دینا شروع کردی۔ آپ مسجد میں بیٹھ کر سینکڑوں شاگردوں کو زیور تعلیم سے آراستہ فرماتے تھے۔

شادی[ترمیم]

ایک روز جب آپ سکندریہ میں وعظ فرما رہے تھے تو ایک خاتون تقریر ختم ہونے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ میری چھوٹی بہن آپ سے بہت متاثر ہے اور دینی تعلیم کی بڑی شوقین ہے۔ ہم سب گھر والوں نے آپ کے اوصاف دیکھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری بہن کی شادی آپ کے ساتھ ہو جائے۔ آپ نے یہ باتیں سننے کے بعد کہا کہ میں اکثر جذب و سکر کی حالت میں ہوتا ہوں شادی کرنے کے بعد عائلی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتا اس لیے میں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اس خاتون نے ہمت نہیں ہاری اور سنت رسول سے شادی کی اہمیت کے حوالے سے ایک دن آپ کو قائل کر لیا اور یوں عبد الاحد سرہندی کی شادی انتہائی خاموشی اور سادگی سے ہو گئی۔ شادی کے بعد آپ اپنی زوجہ محترمہ کو لے کر گنگوہ سے سرہند آ گئے۔ آپ کے سات صاحبزادے تھے [3]

عجیب خواب[ترمیم]

عبد الاحد سرہندی نے ایک رات بڑا عجیب خواب دیکھا کہ پوری کائنات پر تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ عجیب الخلقت جانوروں کے علاوہ سور، بندر اور ریچھ انسانوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ایک طرف بدصورت انسانوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور ان کو ایک بڑی قدوقامت والا شخص سزا دے رہا ہے۔ اس دوران اچانک ایک نورعبدالاحدسرہندی کے سینے سے نکلتا ہے اور پوری دنیا روشن ہوجاتی ہے۔ پھر بجلی کوندتی ہے جس سے سارے درندے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پھر سارا میدان صاف کر دیا جاتا ہے اور اس پر ایک تخت بچھا دیا جاتا ہے جس پر ایک نورانی شکل والے بزرگ آ کرتشریف فرماہو جاتے ہیں اور ان کے اردگرد نورانی شکل والے لاتعداد بزرگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر فرشتوں کی ایک فوج ایک طرف سے آتی ہے اور سب کی زبان پر قرآن مجید کی ایک ہی آیت ہے جس کا مطلب ہے کہہ دو حق آگیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کو بھاگنا ہی تھا۔ اس آواز کے ساتھ ہی بہت سے لوگ ایک سمت سے روتے ہوئے آتے ہیں اور صاحب مسند کے آگے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور وہ ان کو سزائیں دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عبد الاحدسرہندی کی آنکھ کھل گئی آپ نے اپنا یہ خواب اپنی بیوی کو سنایا تو انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ شاہ کمال کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان کو اپنا خواب بیان کریں وہ آپ کو بہتر مشورہ دینگے۔

عبد الاحد سرہندی شاہ کمال کے پاس پہنچے اور انہیں اپنا خواب سنایا۔ شاہ کمال مسکرائے اور فرمایا کہ اس مرتبہ تمہارے ہاں جو فرزند ہوگا وہ کفر وظلمت کا خاتمہ کریگا اور دین کی اشاعت و تبلیغ کو جلا بخشے گا۔ جب وہ پیدا ہو تو فوراً مجھے اطلاع دینا اور اس وقت تک اس کے منہ میں کوئی چیز نہ ڈالنا جب تک میں نہ پہنچ جاؤں۔ عبد الاحدسرہندی یہ خبر سن کر خوشی سے سرشار ہوکر گھر واپس چلے گئے۔[4] جب عبد الاحد سرہندی کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی تو آپ نے جاکر شاہ کمال کو اطلاع دی چنانچہ حضرت شاہ کمال آپ کے ساتھ آپ کے گھر تشریف لے آئے۔ شاہ کمال نے کیمیائی نظریں نومولود پر مرکوز کر دیں اور انگشت شہادت بچے کے منہ میں دے دی اور فرمایا یہ بچہ تجدیددین اور روحانی فیض خلق خدا کو پہنچانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ نومولود کافی دیر تک حضرت شاہ کمال کی انگلی چوستا رہا۔ حتیٰ کہ شاہ کمال بولے! بس کر بیٹا کچھ ہماری نسل کے لیے بھی رہنے دے تونے تو ہماری نسبت لے لی ہی۔ یہی وہ بچہ تھا جو بعد میں مجدد الف ثانی کہلائے اور جنہوں نے عہدساز اور جلیل القدر بادشاہ کو اپنے آگے سرنگوں کر لیا۔

وصال[ترمیم]

آپ 17 رجب 1007 ہجری بمطابق 1598ءکو80 سال کی عمر میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کا مزار اقدس سرہند سے شمال کی جانب ایک میل کے فاصلے پر واقع ہے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حضرات القدس دفتر دوم، بدر الدین سرہندی، صفحہ 22، مکتبہ نعمانیہ سیالکوٹ
  2. سیرت طیبہ عبد الخالق توکلی، صفحہ41
  3. سیرت مجدد الف ثانی محمد مسعود احمد صفحہ 79، امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی
  4. سیرت طیبہ عبد الخالق توکلی،صفحہ29
  5. سیرت مجدد الف ثانی محمد مسعود احمد صفحہ 77،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی