غامد
غامد یا بنو غامد جزیرہ نما عرب کا ایک معزز، قدیم اور عظیم الشان قحطانی اور ازدی عرب قبیلہ ہے (بالخصوص ازدِ شنوءہ شاخ سے)۔ ان کا تاریخی اور موجودہ مسکن حجاز کا پہاڑی علاقہ "سراة غامد" (موجودہ الباحہ) ہے۔ اس کے علاوہ ان کی آبادی رانیہ، بیشہ، تربہ اور وادی الدواسیر کی وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔[1][2][3]
نام، نسب اور وجہ تسمیہ
[ترمیم]- شجرۂ نسب: بنو غامد کا شجرۂ نسب مشہور قحطانی شاخ الأزد سے جا ملتا ہے۔[4] قبیلے کے جدِ اعلیٰ کے اصل نام میں مؤرخین کا اختلاف ہے؛ ابن الکلبی کے مطابق ان کا نام "عامر" تھا،[5] جبکہ ابن درید، کحالہ اور زرکلی کے نزدیک ان کا نام "عمرو" تھا، جنھیں "غامد" کے لقب سے شہرت ملی۔ ان کا کامل شجرہ نسب درج ذیل ہے:
- غامد (عمرو) بن عبد اللہ بن کعب بن الحارث بن عبد اللہ بن مالک بن نصر بن الأزد (شنوءہ) بن الغوث بن نابت بن مالک بن زید بن کہلان بن سبأ بن یشجب بن یعرب بن قحطان۔[4][6][7]
- وجه تسمیہ
- روایتِ ابن الکلبی: قبیلے کے جدِ اعلیٰ نے اپنی قوم میں واقع ایک شدید جھگڑے کو سلجھایا اور اختلافات پر پردہ ڈال دیا (عربی میں "تغمّد" کے معنی ڈھانپنے کے ہیں)، جس پر انھیں "غامد" کا لقب ملا۔ اسی مناسبت سے ایک غامدی شاعر نے کہا:
تلافیتُ شرّاً كان بين عشيرتيفأسمانیَ القیل الحَضُوریُّ غامدا[5][8]
- اقرب ترین قبائل: غامد کے قریب ترین قبائل میں دیگر ازدی شنوا قبائل، بالخصوص قبیلہ زہران، بنو لہب اور ثمالہ شامل ہیں۔[7]
قبائلی تقسیم اور بطون
[ترمیم]غامد کے چار فرزندوں سے قبیلے کے بنیادی بطون اور ذیلی شاخیں پھیلیں:[9][2]
- سعد مناۃ: سب سے بڑی عسکری و تمدنی شاخ، جس کے اہم بطون "الدؤل" (جس سے بنو وابلہ اور بنو عبد اللہ نکلے) اور "ثعلبہ" (جس سے بنو ذبیان، مازن اور ذهل نکلے) ہیں۔[9][5]
- محمیہ: اس کے بطون میں "شکر" (شہم، سیل) اور "سعد الأکبر" (سعد الأصغر، فجاءۃ) شامل ہیں۔
- مالک: اس کی مرکزی شاخ "سیار" ہے جس سے رفاعہ، ہجہاج، عبیدہ اور الغوث کے بطون نکلے۔
- ظبیان: اس سے "غنْم" (سلیمان، سالم) اور "ثعلبہ" (ذهل، مالک) کی شاخیں پھوٹیں۔
ہم عصر قبائلی انتظامی تقسیم
[ترمیم]ماضی میں پورے قبیلے کی قیادت "آل عبد العزيز" (بلجرشی میں الشعبہ کے رہنے والے) کے پاس تھی۔ موجودہ دور میں انتظامی اور جغرافیائی طور پر بنو غامد درج ذیل قبائل میں تقسیم ہیں:[10]
|
|
|
جغرافیائی حدود اور مساکن
[ترمیم]بنو غامد کا بنیادی مسکن طائف کے جنوب میں واقع "جبال السراۃ" کا پہاڑی سلسلہ ہے جو اب سعودی عرب کے صوبہ الباحہ کے نام سے معروف ہے۔ جغرافیائی طور پر ان کی سرحدیں شمال میں وادی تربہ سے لے کر جنوب میں وادی طبالہ اور مشرق میں وادی رانیہ سے مغرب میں تہامہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔[1][2]
معاشرتی اور تمدنی طور پر بنو غامد کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:[11] 1. غامد الحاضرہ (سراۃ): سراۃ کے پہاڑی علاقوں میں آباد شہری آبادی، جن کا مرکزی شہر الباحہ اور بلجرشی ہے۔[12] 2. غامد البادیہ: سراۃ کی مشرقی و شمالی ڈھلوانوں اور صحرائی وادیوں (عقیق، بدہ وغیرہ) میں بسنے والے بدو غامدی جو اونٹ اور مویشی پالتے ہیں۔[12] 3. تہامہ کے غامدی: فرات غامد الزناد کی پہاڑیوں اور ساحلی پٹی کی زرخیز وادیوں میں آباد آبادی۔[1]
تاریخی احوال اور معرکے
[ترمیم]زمانہ جاہلیت
[ترمیم]- مقابلہ ابرہہ حبشی: جب ابرہہ حبشی مکہ جاتے ہوئے ازد کی سرزمین سے گذرا تو بنو غامد نے پیش قدمی کر کے اس کی فوج کا مقابلہ کیا اور انھیں شکست دی۔ اس موقع پر شاعر عبد شمس بن مسروح الغامدی نے اپنے اشعار کہے۔[13]
- ایامِ عرب: جاہلیت کے متعدد معرکوں میں قبیلے نے نمایاں شرکت کی، جن میں یوم ذی غلف (جس میں ازدی لشکر کی قیادت ان کے پاس تھی)، یوم الأحسبہ (جس کا ذکر ابو ظبیان الاعرج نے اپنے فخریہ اشعار میں کیا)، یوم حراق، یوم ثرام، یوم دوقہ اور یوم عیار شامل ہیں۔[5][14]
قبولِ اسلام اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں وفود
[ترمیم]1. مکہ مکرمہ میں پہلا وفد: صحابی حضرت ابو ظبیان الاعرج کی قیادت میں قبیلے کا ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا (جس میں مخنف بن سلیم، عبد اللہ بن سلمہ اور جندب بن زہیر شامل تھے)۔ آپ ﷺ نے ان کے حقوق اور اموال کی تحفظ کے لیے ایک مکتوب تحریر فرمایا۔[15] 2. مدینہ منورہ میں دوسرا وفد (10 ہجری): 10 ہجری کے ماہِ رمضان میں 10 اراکین پر مشتمل وفد مدینہ پہنچا۔ بقیع الغرقد میں پڑاؤ ڈال کر اور لباس تبدیل کر کے بارگاہِ رسالت میں حاضری دی اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مامور فرمایا کہ وہ انھیں قرآن کی تعلیم دیں۔[1][16]
اسلامی فتوحات اور تاریخ
[ترمیم]بنو غامد نے جنگ قادسیہ اور عراق و خراسان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخِ اسلام میں دو غامدی گھرانے اور ان کی شخصیات بہت نمایاں رہیں:
آلِ سلیم
[ترمیم]- حضرت مخنف بن سلیم غامدی رضی اللہ عنہ: ممتاز صحابی اور جنگجو، جو جنگِ قادسیہ کے موقع پر کوفہ میں قبیلہ ازد کے سالارِ اعلیٰ تھے۔ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انھیں اصفہان و ہمدان کا گورنر بنایا اور وہ معرکہ نہروان میں بھی شریک رہے۔[5][6]
- عبد الرحمن بن مخنف غامدی: 15 ہجری کوفہ میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد کے بعد عراق میں ازد کے سردار اور خلیفہ عبد الملک بن مروان کے عہد میں خوارج (ازارقہ) کے خلاف مہمات کے عظیم الشان سپہ سالار بنے، 75 ہجری میں خوارج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔[17]
- جعفر بن عبد الرحمن بن مخنف: نامور عسکری قائد جنھوں نے اپنے والد کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے خارجی سردار قطری بن الفجاءہ کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا اور رئے کے عامل رہے۔[18]
آلِ نعیم
[ترمیم]- عبد الرحمن بن نعیم غامدی: بنو غامد کے عظیم فاتح جو خلیفہ عمر بن عبد العزیز اور ہشام بن عبد الملک کے ادوار میں خراسان کے گورنر اور سپہ سالار رہے۔ عباسی خلافت کے قیام کے وقت مدائن داخل ہونے والی فوج کی قیادت بھی کیے۔[2][19]
- المقدم اور قدامہ بن عبد الرحمن: اموی دور میں بالترتیب جوزجان کے گورنر اور خراسان کے نامور عسکری رہنما رہے۔
- بکر بن محمد بن عبد الرحمن: کوفہ کے جلیل القدر، ثقہ محدث اور معزز شخصیت۔[20]
- عبد السلام بن نعیم: خلیفہ ابو العباس السفاح کے دور میں دیوان کے وزیر رہے۔[21]
دیگر نامور شخصیات
[ترمیم]- حضرت صخر الغامدی: جلیل القدر صحابیِ رسول ﷺ۔[22]
- حضرت سفیان بن عوف غامدی: صحابیِ رسول ﷺ اور سلطنتِ روم کے خلاف فوجی مہمات ("الصوائف") کے سپہ سالار۔[2]
- حضرت ابو ظبیان الاعرج: (عبد شمس بن الحارث) نامور صحابی اور جنگِ قادسیہ میں قبیلے کے پرچم بردار۔[2]
- ابو جعفر محمد بن عبد اللہ الغامدی (وفات 242ھ): بغداد اور موصل کے نامور محدث اور امامِ علل الحدیث۔[22]
- عبد اللہ بن سلمہ الغامدی: دورِ جاہلیت کے ممتاز شاعر جن کے قصائد "المفضلیات" میں شامل ہیں۔[2]
- الغامدیہ (صحابیہ): بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر توبہ نصوح کرنے والی مشہور صحابیہ۔[23]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 عمر رضا كحالة (1994)۔ معجم قبائل العرب القديمة والحديثة۔ بيروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 3۔ ص 877
- 1 2 3 4 5 6 7 خير الدين الزركلي (2002)۔ الأعلام۔ بيروت: دار العلم للملايين۔ ج 5۔ ص 115
- ↑ فؤاد حمزة (2002)۔ قلب جزيرة العرب۔ مكتبة الثقافة الدينية۔ ص 186
- 1 2 محمد سليمان الطيب (2001)۔ موسوعة القبائل العربية۔ القاهرة: دار الفكر العربي۔ ج 6۔ ص 286
- 1 2 3 4 5 6 7 الصحاري (1984)۔ الأنساب للصحاري۔ مسقط: وزارة التراث وثقافة۔ ج 1۔ ص 224
- 1 2 ابن سعد (1969)۔ الطبقات الكبرى۔ بيروت: دار صادر۔ ج 6۔ ص 285
- 1 2 الحسن بن أحمد الهمداني (1990)۔ صفة جزيرة العرب۔ صنعاء: دار اليمامة۔ ج 1۔ ص 119
- 1 2 ابن دريد (1991)۔ الاشتقاق۔ بيروت: دار ومكتبة الهلال۔ ج 1۔ ص 490
- 1 2 محمد سليمان الطيب (2001)۔ موسوعة القبائل العربية۔ القاهرة: دار الفكر العربي۔ ج 6۔ ص 337
- ↑ معجم قبائل المملكة العربية السعودية - حمد الجاسر، ص 93
- ↑ محمد سليمان الطيب (2001)۔ موسوعة القبائل العربية۔ القاهرة: دار الفكر العربي۔ ج 6۔ ص 460
- 1 2 محمد سليمان الطيب (2001)۔ موسوعة القبائل العربية۔ القاهرة: دار الفكر العربي۔ ج 6۔ ص 480
- ↑ "المنمق في أخبار قريش"۔ المكتبة الشاملة
- ↑ "معجم البلدان"۔ المكتبة الشاملة
- ↑ "جامع الأحاديث"۔ المكتبة الشاملة
- ↑ ابن سعد (1969)۔ الطبقات الكبرى۔ بيروت: دار صادر۔ ج 1۔ ص 297
- ↑ "تاريخ الطبري"۔ المكتبة الشاملة
- ↑ "تاريخ الطبري"۔ المكتبة الشاملة
- ↑ "فتوح البلدان"۔ المكتبة الشاملة
- ↑ "الفوائد الرجالية"۔ مكتبة الفقاهة
- ↑ "أخبار الدولة العباسية"۔ المكتبة الشاملة
- 1 2 السمعاني (1962)۔ الأنساب۔ حيدرآباد الدكن: مجلس دائرۃ المعارف العثمانية۔ ج 10۔ ص 11
- ↑ وزارة الأوقاف المصرية (2001)۔ موسوعة الأعلام۔ القاهرة: وزارة الأوقاف۔ ج 1۔ ص 428