نوابشاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(نواب شاہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
نوابشاہ
(اردو میں: نوابشاہ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
Tomb of Mian Noor Muhammad Kalhoro.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ ضلع نواب شاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 26°14′39″N 68°24′36″E / 26.244166666667°N 68.41°E / 26.244166666667; 68.41  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 4239 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 32 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
آبادی
کل آبادی 263102 (2017)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات
اوقات پاکستان کا معیاری وقت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 1169116  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

نواب شاہ پاکستان کے صوبہ سندھ کا معروف شہر ہے جو ضلع شہید بے نظیر آباد کا صدر مقام ہے۔ ضلع کا نام ستمبر 2008ء میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے نام پر شہید بے نظیر آباد رکھا گیا [2] تاہم ابھی تک یہ نام زبان زد عام نہیں ہو سکا۔ شہر اپنے گرم موسم کی وجہ سے معروف ہے جہاں موسم گرما میں درجۂ حرارت 51 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

نواب شاہ میں گرمی کی وجہ

نواب شاہ شہر کی آبادی میں گذشتہ ایک دہائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر پکے مکانات کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی اداروں کے دفاتر کی بھی تعمیر ہوئی ہے۔

نواب شاہ کے بزرگ شہری صالح بلو کا کہنا ہے جس طرح حیدرآباد کی ٹھنڈی راتیں مشہور تھیں اسی طرح موسم گرما میں نواب شاہ میں شام اور رات کو ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں اور بالائی سندھ کے اضلاع جیکب آباد اور شکارپور سے خاص طور پر لوگ یہاں آتے تھے۔

'ایس ایم خوجا روڈ، سکرنڈ روڈ، عید گاہ، قاضی احمد روڈ اور گاجرا روڈ سمیت ہر گلی میں درخت ہوتے تھے اب تو ان کا نام و نشان بھی مٹ گیا ہے، شہر کے باہر باغات ہوتے تھے، لیکن آْبادی بڑھنے کے ساتھ یہ باغات ختم ہو گئے اور وہاں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن گئی ہیں۔ دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے میں گھنے جنگلات تھے جو 60 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے تھے اب بمشکل 12 ہزار ایکڑ پر جنگلات ہوں گے، ان پر قبضہ کر کے زمین پر کاشت کاری کی جا رہی ہے۔

صالح بلو کے مطابق نواب شاہ میں کئی تعلیمی اور تحقیقی ادارے قائم ہوئے ہیں جس وجہ سے دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع کے لوگوں نے یہاں کا رخ کیا ہے، یعنی جو آبادی دو لاکھ تھی اس وقت 11 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

نواب شاہ کراچی سے تقریباً 250 کلومیٹر دور قومی شاہراہ پر واقع ہے اور یہ مرکزی ریلوے لائن کا ایک مصروف سٹیشن بھی ہے۔ اس علاقے میں گنے، کیلے، گندم کے علاوہ کپاس کی کاشت کی جاتی ہے جبکہ آس پاس میں نوشہروفیروز، مٹیاری اور خیرپور اضلاع واقع ہیں ہیں، اسی طرح دریائے سندھ کے دوسرے طرف دادو اور جامشورو اضلاع موجود ہیں۔

ماہر ماحولیات ندیم میر بحر کا کہنا ہے کہ کراچی سے آتے ہوئے نواب شاہ کے دائیں جانب پہاڑی سلسلہ موجود ہے جہاں سے جو گرمی نکل رہی ہے وہ اس خطے پر اثرات مرتب کرتی ہے اس کے علاوہ مشرقی طرف خیر پور ضلع ہے جس کے ساتھ بھارت کی صحرائی ریاست راجستھان واقع ہے وہاں سے اٹھنے والی گرم ہوا بھی یہاں تک اثر دکھاتی ہے۔ چونکہ یہ علاقہ سمندر سے دور ہے اس وجہ سے وہاں کی ٹھنڈی ہوائیں یہاں تک نہیں آتیں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر چوہدری قمر زمان نواب شاہ میں درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی موسمی تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ خطہ بالخصوص پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث گرمی کے رجحان میں شدت زیادہ ہے۔

'بلوچستان اور سندھ خشک سالی کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان میں موسم گرما کی مدت بڑھ رہی ہے اور سردیاں کم ہو رہی ہیں، جیسے سندھ میں اپریل میں درجہ حرارت شدید تھا لیکن شمالی علاقوں اور پنجاب میں سرد لہر آئی جس سے درجہ حرارت میں کمی ہوئی۔ یہ تمام عوامل موسمی تبدیلوں کا مظہر ہیں لیکن اس حوالے سے نہ خطے میں اور نہ ہی پاکستان میں اقدامات کیے گئے ہیں۔'

محکمہ موسمیات کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت کے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے جس کی نشان دہی پہلے ہی ہو چکی ہے۔

’پاکستان میں بننے والے گرمی کے دباؤ کا مرکز سندھ میں ہے، جس میں نواب شاہ، نوشہرو فیروز، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور بلوچستان کے علاقے سبی پر مشتمل ہے جہاں ہوا کا دباؤ کم ہے۔ ان علاقوں میں پہلے ہی بہت گرمی ہوتی ہے جب نواب شاہ میں 52 سینٹی گریڈ پر درجہ حرارت پہنچا تو آس پاس میں بھی 49 اور 50 سینٹی گریڈ تھا، اب آنے والے سالوں میں نئے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔‘۔

تاریخ[ترمیم]

نواب شاہ 1935ء میں تقسیم ہند سے قبل سندھ کو الگ صوبہ بنائے جانے سے پہلے ہی ضلعی حیثیت رکھتا تھا، جو اسے 1912ء میں عطا کی گئی۔ شہر کا نام 1881ء میں سن، دادو سے ہجرت کر کے اس علاقے میں آباد ہو کر نواب شاہ کی بنیاد رکھنے والے سید نواب شاہ سے موسوم ہے۔ 1912ء میں جب نواب شاہ کو ضلعی حیثیت ملی تھی تو اس میں 7 تحصیلیں کنڈیارو، نوشہرو فیروز، مورو، سکرنڈ، نواب شاہ، سنجھورو اور شہدادپور تھیں۔ ان میں سے نوشہرو فیروز اب الگ ضلعی حیثیت رکھتا ہے۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

یہ شہر قومی شاہراہ (قومی شاہراہ 5) پر واقع ہے جو اسے ملک کے دیگر حصوں سے منسلک کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایک بڑا ریلوے اسٹیشن اور ایک اہم ہوائی اڈا بھی واقع ہے۔ نواب شاہ کا ہوائی اڈا جنگ عظیم دوم کے زمانے سے قائم ہے جو برطانیہ کی شاہی فضائیہ کے زیر استعمال رہا۔ اب یہ پاکستان کے قومی فضائی ادارے پی آئی اے کے زیر استعمال ہے جو اسے کراچی کے جناح بین الاقوامی ہوائی اڈے کے متبادل کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ کراچی کے ہوائی اڈے پر ہنگامی صورت حال پیدا ہونے کی صورت میں پروازوں کا رخ نواب شاہ کی جانب کر دیا جاتا ہے۔

تعلیمی ادارے[ترمیم]

نواب شاہ میں ایک جامعہ بنام "قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی" واقع ہے جو سندھ کے باوقار تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ دوسرا معروف ادارہ پیپلز univeristy میڈیکل hospital ہے جو خصوصی طور پر لڑکیوں کے لیے قائم کیا گیا تعلیمی ادارہ ہے جہاں انہیں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جلد ہی یہ ادارہ جامعہ کی حیثیت اختیار کر لے گا۔نوابشاہ میں اس کہ علاوہ ایک اور یونیورسٹی کا قیام عمل میں آ چکا ہے جس کا نام شھید بینظیر یونیورسٹی رکھا گیا ہےجو کہ ایک جنرل پرپوز جامعہ ہے جس کو سندھ بھر کے لیے ایک ماڈل یونیورسٹی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ اس یونیورسٹی کا نظام اور انٹرنیشنل لیول کا معیار تعلیم ہے جو صحیح طریقے سے اینٹی کاپی کلچر ڈولپمینٹ ہے اور اس میں یونیورسٹی کو خاطر خواہ نتائج بھی آنا شروع ہو گئے ہیں اس کے علاوہ بھی نوابشاہ میں تعلیم کے شعبے کے حساب سے کراچی کے بعد سندھ بھر میں سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے جس میں کئی نئیں کالجز اور اکیڈمیز کا قیام ہے اور اور جس کو مستقبل میں تعلیم کے لحاظ سندھ کا سینٹرل حب دیکھا جا رہا ہے.

اہم شخصیات[ترمیم]

پاکستان کے موجودہ صدر آصف علی زرداری کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔ ان کی ہمشیرہ فریال ٹالپر گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ضلعی ناظمہ منتخب ہوئیں۔ بعد ازاں قومی انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے پر آپ نے ناظمہ کے عہدے سے استعفے دے دیا۔ ان دونوں کے علاوہ ضلع سے متعدد دیگر اہم شخصیات بھی نمودار ہیں، جن میں چند درج ذیل ہیں:

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر"صفحہ نوابشاہ في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 جون 2019۔
  2. ضلع نواب شاہ کو بے نظیر سے موسوم کر دیا گیا - روزنامہ ڈان 17 ستمبر 2008ء