یونس علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(حضرت یونس سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاء علیہ سلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ھود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعيب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سليمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ آپ کے نام پر قرآن پاک میں پوری ایک سورت ہے۔ آپ کی قوم نہایت سرکش تھی۔ سالوں کی تبلیغ کے باوجود جب آپ کی قوم نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے سے کرنے کردیا تو آپ نے اُن کو اللہ کی طرف سے سخت عذاب کی نوید دی، جس پر اُس قوم کے سرکش لوگوں نے حضرت یونس علیہ سلام کی باتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ “اگر تمہارے خدا کی طرف سے عذاب آنے والا تو تم ہمیں اُس کا وقت بتاؤ، جس پر حضرت یونس علیہ سلام نے جلال کی حالت میں اپنی طرف سے اُنہیں چالیس دن کے بعد عذابِ الٰہی کی خبر دی جوکہ اللہ کو ناگوار گزری کیونکہ اللہ نے اُس قوم کو عذاب سے ڈرانے کے لئے ہدایت کی تھی نہ کہ عذاب نازل کرنے کا وقت بتانے کی۔ دوسرے نادانی اُس وقت ہوئی کہ جب حضرت یونس علیہ سلام عذاب کی نوید دینے کے بعد اُس وطن کو ترک کرکے بیوی بچوں سمیت نکل آئے۔ نتیجتاً سخت آزمائشوں میں مبتلا ہوئے، آپ کے بیوی بچے بچھڑ گئے، اس دوران آپ کو اندازہ ہوگیا کہ رب تعالٰیٰ کسی بات پر ناراض ہوگیا ہے۔ جب آپ دریا کے طرف جانے کے لئے ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی کو طوفان نے گھیر لیا۔ اُس وقت کے رواج کے مطابق کشتی کے ملاح اور دوسرے مسافر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کشتی میں کوئی اللہ کا نافرمان بندہ سوار ہے، جس کی وجہ سے تمام کشتی والوں کو اس طوفان کا سامنا ہے۔ جس پر حضرت یونس علیہ سلام نے اُن سے کہا کہ مجھے دریا میں پھینک دو، تم کو اس طوفان سے نجات مل جائے گی لیکن کشتی والوں نے کہا کہ آپ تو اللہ کے نبی اور نیک بندے ہیں، آپ کو کیسے دریا بُرد کیا جاسکتا ہے۔ آخر کو سب اس نتیجے پر پہنچے کہ قرعہ کرلیتے ہیں، جس کا نام نکل آئے گا، اُس کو دریا بُرد کردیا جائیگا۔ قرعہ کے نتیجے میں بھی حضرت یونس علیہ سلام کا نام نکلا، دوبارہ قرعہ نکالا گیا، پھر حضرت یونس علیہ سلام کا نام نکلا، بالآخر جب تیسری بار بھی قرعہ میں حضرت یونس علیہ سلام کا نام نکلا تو حضرت یونس علیہ سلام نے اُن سے اصرار کیا کہ اُنہیں (حضرت یونس علیہ سلام) دریا بُرد کردیا جائے۔ بالآخر آپ کو دریامیں ڈال دیا گیا۔ دریا میں آپ کو ایک عظیم القامت مچھلی نے نگل لیا اور آپ تقریباً چالیس روز تک اُس مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ چالیس دن کے بعد آپ نے رب تعالٰیٰ سے معافی مانگی، جس کے لئے بھی روایتوں میں آتا ہے کہ ایک انہیں مندرجہ ذیل مبارک کلمات یاد آئے:

لا الـہ الا أنت سبحانك اني ڪنت من الظالمين

جب حضرت یونس علیہ سلام نے مندرجہ بالا کلمات پڑھ کر رب سے معافی مانگی تو آپ کی معافی قبول کرلی گئی اور اُس مچھلی نے آپ کو ساحل پر اُگل دیا لیکن مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے سبب، اتنے کمزور اور ناتواں ہوگئے تھے کہ اس عالم میں اگر آپ پر ایک مکھی بھی بیٹھ جاتی تو آپ تاب نہ لاسکتے تھے۔ اللہ تبارک و تعالٰیٰ نے آپ کے رزق کے لئے وہاں ایک انگور کی بیل اُگ گئی اور ایک ہرنی روز وہاں آکر آپ کو دودھ پلا دیتی۔ حضرت یونس علیہ سلام کے تفصیلاً واقعہ احادیث و قصص الانبیاء میں ملتا ہے۔
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔