گاندھی جناح مذاکرات 1944

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مدراس کے سابق وزیراعظم اور تقسیم ہند کے بعد بھارت کے پہلے ہندوستانی گورنر جنرل چکروتی راج گوپال اچاری کا شمار غیر منقسم ہندوستان کے اہم سیاسی راہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔ آپ موہن داس کرم چند گاندھی کے نہایت ہی قابل بھروسہ پیروکار اور معتقد خاص تھے۔ کرپس مشن کے بعد راج گوپال اچاری نے کانگریس اور لیگ کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے ایک فارمولا مرتب کیا جسے راج گوپال اچاری فارمولا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔


فہرست

اہم نکات [ترمیم]

1۔ ہندوستان میں عبوری مدت کے لیے ایک عبوری حکومت قائم کرنے کے سلسلے میں کانگریس کی کوششوں میں مسلم لیگ تعاون کریگی ۔

2۔ جنگ کے بعد ایک کمیشن قائم کیا جائے گا جو ہندوستان کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں واقع ان ضلعوں کی جو آپس میں ملحق ہیں اور جہاں مسلمانوں کی قطعی اکثریت ہے کی نشاندہی کرے گا۔ نشاندہی کے بعد ان علاقوں میں ضلعی سطحوں پر بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ریفرنڈم منعقد کرایا جائے گا۔ تاکہ مذکورہ علاقوں کا باقی ہندوستان سے علیحدگی کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔ اگر اکثریت نے ہندوستان سے الگ اور ایک خود مختار ریاست کے حق میں رائے دی تو ان کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا۔ تقسیم ہند کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان بغیر کسی تعصب کے مشترکہ سرحد پر واقع ضلعوں کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ دونوں ممالک میں کسی ایک کے ساتھ الحاق کرے

3۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اجازت ہوگی کہ ضلع سطح پر مذکورہ ریفرنڈم کے انعقاد سے پہلے اپنے اپنے مؤقف کی تشہیر کیے جائیں گے

4۔ تقسیم ہند کی صورت میں دفاع، مالیات ، رسل و رسائل اور دیگر ضروری شعبوں میں باہمی معاہدے کیے جائیں گے۔

5۔ تقسیم ہند کی صورت میں دونوں ممالک کےدرمیان آبادی کی منتقلی مکمل طور پر رضاکارانہ ہوگی ۔

6۔ مندرجہ بالا نکات پر عمل درآمد اس صورت میں ہوگا جب برطانیہ مکمل اختیارات اور ذمہ داری ہندوستان کو سونپ دے۔


گاندھی کی حمایت [ترمیم]

مارچ 1943ء میں گاندھی نے اپنی طرف سے فارمولے کی حمایت کر دی ۔ 18 اپریل 1944ء کو اسے قائداعظم کے پاس بھیجا گیا ۔ 10 جولائی 1944ء کو اسے پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ راج گوپال اچاری فارمولے نے برطانوی سرکار کی طرف سے کرپس مشن 1942ء اور آل انڈیا نیشنل کانگریس کی تحریک ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ کے بعدستیہ گرہ کے علمبردار موہن داس کرم چند گاندھی اور مسلم لیگ کے صدر قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان ہندوستانی مسئلے کا متفقہ حل ڈھوندنے کے لیے مذکرات شروع کرنے کی راہ ہموار کر دی ۔

مذاکرات [ترمیم]

راج گوپال اچاری فارمولے پر قائداعظم محمد علی جناح اور گاندھی کے درمیان ستمبر 1944ء میں مذکرات ہوئے۔ 9 ستمبر سے 27 ستمبر1944ء ک دونوں راہنماؤں کے درمیان چودہ ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران 21 خطوط کا تبادلہ بھی کیاگیا ۔ جن میں 12 قائداعظم اور 9 گاندھی نے لکھے۔ لیکن 27 ستمبر 1944ء کو ان مذکرات کی ناکامی کا اعلان کیاگیا۔


ناکامی کے اسباب [ترمیم]

1۔ گاندھی ذاتی حیثیت سے جبکہ قائداعظم آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مذکرات میں شریک رہے۔

2۔ گاندھی مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم ماننے کے لیے تیار نہ تھے

3۔ راج گوپال اچاری فارمولے کے اہم نکات پر عمل درآمد ہندوستان سے انگریز کے انخلاء سے مشروط کیا گیا تھا۔

4۔ گوپالی فارمولے میں ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں کوئی شق موجود نہیں تھی اور نہ تقسیم ہند کی صورت میں دونوں ممالک میں اقلیتی فرقوں کے تحفظ کےلیے کوئی ضمانت دی گئی تھی۔

قائداعظم نے راج گوپال اچاری فارمولے کےاندر مسلمانوں کے مجوزہ ریاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا

“It is a maimed, mutilated, and motheaten Pakistan”

قائداعظم محمد علی جناح کانگریس راہنماؤں کے سیاسی چالوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ انگریز کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد کانگریس کبھی بھی اچاری فارمولے کے اہم شقوں پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔ اور یوں گاندھی ۔ جناح مذکرات ناکام ثابت ہوئے۔ اگر ان مذکرات کا کوئی نتیجہ برآمد ہوا تو صرف یہ کہ قائداعظم کے وقار میں اضافہ ہوا۔ کیونکہ ان مذکرات کے تمام دور بمبئی میں ان ہی کی رہائش گاہ ، مالابار ہل میں منعقد ہوئے۔