شہزادہ مصطفیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شہزادہ مصطفی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
شہزادہ مصطفیٰ
(ترکی میں: Şehzade Mustafa ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Miniature of Şehzade Mustafa.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 اگست 1515  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مانیسا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 6 اکتوبر 1553 (38 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ارغلی، قونیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گلا گھونٹنا  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire.svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد سلیمان اعظم  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ماہ دوراں سلطان  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان عثمانی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گورنر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شہزادہ مصطفی (Şehzade Mustafa) (ترکی تلفظ: [ʃehza:ˈde mustaˈfa muhliˈsi]) سلیمان اعظم اور ماہ دوراں سلطان کا سب سے بڑا بیٹا تھا، جو 1533ء سے 1541ء تک مانیسا کا اور 1541ء سے 1553ء تک اماسیا کا شہزادہ تھا۔ شہزادہ مصطفی سلطنت عثمانیہ کا ظاہری وارث اور اناطولیہ میں بہت مقبول تھا۔ اس کی مقبولیت کی وجہ سے شہزادے کو مستقبل کا سلطان بھی کہاجاتاتھا مگر اس کی مقبولیت سے ملکہ خرم سلطان (حورام سلطان )حسد کرتی تھی وہ چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا عثمانیہ سلطنت کا حکمران بنے۔ جب تک وزیر اعظم ابراہیم پارگلی زندہ رہا ملکہ کی ہرچال ناکام رہی مگر جونہی ابراہیم پارگلی کا انتقال ہوا ملکہ کھل کر میدان میں آگئی ملکہ نے اپنی بیٹی مہر ماہ سلطان کی شادی رستم پاشاسے کردی اس طرح سازشی فطرت رستم پاشا نہ صرف سلطان کا مقرب خاص بنا بلکہ افواج کا سالار اعظم بھی بن گیا۔ دراصل حورام سلطان نے کئی سالوں سے بنائے ہوئے جال میں معصوم شہزادے کو آسانی سے پھنسا لیا اور غداری کا الزام لگوا کر سلطان سلیمان کو اپنے ہی ہاتھوں موت کی گھاٹ اتارا- اس کی سازشوں سے شہزادہ مصطفیٰ سلطان کی نظروں سے گر گیا اور بالآخر سلطان کے حکم پر شہزادہ کو موت کی سزادی گئی۔