شہزادہ مصطفیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہزادہ مصطفی
Şehzade Mustafa
Miniature of Şehzade Mustafa.jpg
شہزادہ مصطفی
شریک حیات رومیسہ سلطان
نسل نرگس شاہ سلطان
شہزادہ محمد
شہزادہ اورخان
شاہ سلطان
خاندان عثمانی خاندان
والد سلیمان اعظم
والدہ ماہ دوراں سلطان
پیدائش 1515
مانیسا، سلطنت عثمانیہ
وفات 6 اکتوبر 1553 (عمر 37–38)
قونیہ، سلطنت عثمانیہ
تدفین مرادیہ کمپلیکس، بورصہ

شہزادہ مصطفی (Şehzade Mustafa) (ترکی تلفظ: [ʃehza:ˈde mustaˈfa muhliˈsi]) سلیمان اعظم اور ماہ دوراں سلطان کا سب سے بڑا بیٹا تھا، جو 1533ء سے 1541ء تک مانیسا کا اور 1541ء سے 1553ء تک اماسیا کا شہزادہ تھا۔ شہزادہ مصطفی سلطنت عثمانیہ کا ظاہری وارث اور اناطولیہ میں بہت مقبول تھا۔ اس کی مقبولیت کی وجہ سے شہزادے کو مستقبل کا سلطان بھی کہاجاتاتھا مگر اس کی مقبولیت سے ملکہ خرم سلطان (حورام سلطان )حسد کرتی تھی وہ چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا عثمانیہ سلطنت کا حکمران بنے۔ جب تک وزیر اعظم ابراہیم پارگلی زندہ رہا ملکہ کی ہرچال ناکام رہی مگر جونہی ابراہیم پارگلی کا انتقال ہوا ملکہ کھل کر میدان میں آگئی ملکہ نے اپنی بیٹی مہر ماہ سلطان کی شادی رستم پاشاسے کردی اس طرح سازشی فطرت رستم پاشا نہ صرف سلطان کا مقرب خاص بنا بلکہ افواج کا سالار اعظم بھی بن گیا۔ دراصل حورام سلطان نے کئی سالوں سے بنائے ہوئے جال میں معصوم شہزادے کو آسانی سے پھنسا لیا اور غداری کا الزام لگوا کر سلطان سلیمان کو اپنے ہی ہاتھوں موت کی گھاٹ اتارا- اس کی سازشوں سے شہزادہ مصطفیٰ سلطان کی نظروں سے گر گیا اور بالآخر سلطان کے حکم پر شہزادہ کو موت کی سزادی گئی۔