تارا بائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تارابائی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
تارا بائی
Tarabai

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1675  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تالبد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 دسمبر 1761 (85–86 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ستارا (شہر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کولہاپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شوہر راجا رام اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
ساتھی چھترپتی شاہو (–1749)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ساتھی (P451) ویکی ڈیٹا پر
نسل شیواجی دوم
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات

تارابائی بھونسلے (1675ء – 9 دسمبر 1761ء بمقام ستارا) سنہ 1700ء سے 1708ء تک مرہٹہ سلطنت کی نائب السلطنت رہیں۔ وہ چھترپتی راجا رام بھونسلے کی ملکہ، سلطنت کے بانی شیواجی کی بہو اور شیواجی دوم کی ماں تھیں۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے مغلیہ سلطنت کے خلاف تحریک مقاومت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے بیٹے کی نابالغی میں نائب السلطنت کے طور پر کام کرتی رہیں۔

جب تارا بائی نے اپنے بیٹے شیواجی دوم کو کولہاپور کا چھترپتی بنانا چاہا تو شاہو مہاراج اور دوسرے سرداروں نے ان کی مخالفت کی۔ تاہم کانہوجی آنگرے، داماجی تھورٹ، چندرسین جادھو اور دیگر بہت سے سرداروں نے ان کی حمایت کی اور تعاون کیا۔

سوانح حیات[ترمیم]

تارا بائی کا تعلق موہتے قبیلہ[1] سے تھا، ان کے والد مشہور مرہٹہ جرنیل ہمبی راؤ موہتے تھے۔ نیز وہ سوئیرا بائی کی بھتیجی بھی تھیں، اس رشتے سے وہ اپنے شوہر راجا رام کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ سنہ 1700ء میں راجا رام کی وفات ہوئی تو تارا بائی نے اپنے شیرخوار بچے شیواجی دوم کو ان کا جانشین تسلیم کیا اور خود نائب السلطنت کے طور پر کام کرنے لگیں۔[2]

مرہٹہ افواج کی کمانداری[ترمیم]

نائب السلطنت کے طور پر تارا بائی نے اورنگ زیب عالمگیر کی افواج سے جنگ کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ چونکہ انہیں گھڑ سوار افواج کی نقل و حرکت میں خاصی مہارت حاصل تھی، اس لیے جنگوں کے دوران میں ان کی چالیں کارگر ثابت ہوتیں۔ تارا بائی نے مغلوں سے جنگ جاری رکھی اور اس کی سربراہی کرتی رہی۔ ایک مرتبہ مغلوں سے مصالحت کی کوشش بھی کی جو اس انداز میں کی گئی تھی کہ مغلوں نے اسے فی الفور مسترد کر دیا اور نتیجتاً تارا بائی نے مرہٹہ مقاوت کو جاری رکھا۔ 1705ء تک مرہٹہ نرمدا ندی پار کر کے مالوہ پر حملہ آور ہو چکے تھے۔ سنہ 1707ء میں اورنگ آباد کے قریب واقع خلدآباد میں اورنگ زیب نے وفات پائی، ان کے وفات کی خبر سے مرہٹوں نے سکھ کی سانس لی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Biswamoy (editor) Pati؛ Sumit Guha؛ Indrani Chatterjee۔ Issues in modern Indian history : for Sumit Sarkar۔ Mumbai: Popular Prakashan۔ صفحہ 30۔ آئی ایس بی این 9788171546589۔
  2. Sailendra Sen۔ A Textbook of Medieval Indian History۔ Primus Books۔ صفحہ 201۔ آئی ایس بی این 978-9-38060-734-4۔
  3. Richard M. Eaton۔ A Social History of the Deccan, 1300-1761: Eight Indian Lives, Volume 1۔ Cambridge, England: Cambridge University Press۔ صفحات 177–203۔ آئی ایس بی این 0-521-25484-1۔