رحیمداد خان مولائی شیدائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
رحیمداد خان مولائی شیدائی
معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1894ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سکھر،  سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 فروری 1978ء (84 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سکھر،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مدفون ٹکری میاں آدم شاہ کلھوڑو سکھر  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند
پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مورخ،  صحافی،  مترجم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں جنت السندھ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

رحیمداد خان مولائی شیدائی (پیدائش: 1894ء - وفات: 12 فروری، 1978ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور مؤرخ، صحافی اور مترجم تھے جو اپنی کتاب تاریخ تمدن سندھ اور جنت السندھ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

رحیمداد خان مولائی شیدائی 26 اپریل 1894ء کو سکھر، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام میر رحیم داد خان تھا۔[1][2][3] 1913ء میں ریلوے میں ملازمت اختیار کی جہاں وہ کلینر، فائرمین، ٹرین کلرک، یارڈ فورمین، سیکنڈ گارڈ اور پھر گارڈ مقرر ہوئے۔ 1939ء میں محکمہ ریلوے سے سبکدوشی اختیار کی۔ 1934ء میں مولائی شیدائی کا پہلا مضمون شائع ہوا جس کا نام ممتاز محل تھا۔ یہ مضمون دین محمد وفائی کی نظر سے گذرا تو انھوں نے مولائی شیدائی کو مزید لکھنے کی ترغیب دی۔[1] ریلوے میں ملازمت کے دوران ان کے مضامین ستارہ سندھ، توحید، الوحید اور سندھو نامی اخبارات میں مولائی شیدائی کے قلمی نام سے شائع ہوتے تھے۔ یہ قلمی نام دین محمد وفائی اور پیر علی محمد راشدی نے رکھا تھا۔ 1941ء میں وزیر اعلیٰ سندھ خان بہادر اللہ بخش سومرو کی اخبار روزنامہ آزاد کے سب ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ روزنامہ آزاد کانگریسی اخبار تھا اسی لیے انھوں نے علاحدگی اختیار کرکے 1945ء میں روزنامہ ہلال پاکستان حیدرآباد کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 1950ء میں سندھ یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو مقرر ہوئے جہاں وہ پانچ سال تک رہے۔[4]۔ ان کی تصانیف میں جنت السندھ، تاریخ تمدن سندھ، مختصر تاریخ بلوچستان اور تاریخ قلات خاص کر مشہور ہیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

وفات[ترمیم]

رحیمداد خان مولائی شیدائی 12 فروری، 1978ء کو سکھر، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ سکھر میں ٹیکری آدم شاہ میں سپرد خاک ہوئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]