محمد معصوم مجددی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سے وابستہ خواجہ محمد معصوم سرہندی المعروف عروۃ الوثقیٰ اور قیوم ثانی، حضرت مجدد الف ثانی کے پہلے فرزند اور جانشین ہیں۔

ولادت و تحصیل علم[ترمیم]

آپ کی ولادت سرہند شریف کی ایک بستی ملک حیدر میں شوال 1007ھ بمطابق مئی، 1599ء میں ہوئی۔ نام محمد معصوم، کنیت ابوالخیرات، لقب مجدالدین اور خطاب عروۃالوثقی ہے۔ اسی سال امام ربانی محمد باقی باللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ اس لئے امام ربانی عروۃ الوثقیٰ کی ولادت کو نیک فال خیال کرتے تھے اور اپنی زندگی ہی میں انکو قطب عالم کے منصب پر فائز ہونے کی بشارت دے دی تھی۔ گیارہ سال کی عمر میں امام ربانی نے آپ کو بیعت فرمالیا اور طریقت کی تعلیم دی۔ سولہ سال کی عمر میں تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل سے فارغ ہوئے۔ صرف ایک ماہ کی مختصر مدت میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔[1] شیخ محمد طاہر لاہوری جو مجدد الف ثانی کے خلیفہ ہیں، آخوند سجاول سرہندی مؤلف شرح وقایہ اور سلطان العلماء ملا بدر الدین سلطانپوری سے آپ نے تحصیل علم کی۔ آپ نے اپنے قیام حرمین الشریفین کے دوران اپنے خلیفہ مولانا سید زین العابدین یمنی محدث مدنی سے اجازتِ حدیث لی۔[2]

منصب ارشاد[ترمیم]

مجدد الف ثانی نے اپنے وصال سے قبل ہی آپ کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا اور اپنے ایک مکتوب بنام محمد سعید ومحمد معصوم عروۃ الوثقی میں بہت واضح طور پر تحریر فرمایا:

کل صبح کی نماز کے بعد مجلسِ سکوت یعنی مراقبہ و خاموشی کے وقت ظاہر ہوا کہ وہ خلعت جو میں پہنے ہوئے تھا مجھ سے جدا ہو گئی ہے اور اس کی بجائے دوسری خلعت میری طرف متوجہ ہے جو کہ اس خلعت کی جگہ پہنائی گئی۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ خلعتِ زائلہ (میری اتاری ہوئی خلعت) کسی کو دیتے ہیں یا نہیں۔ مجھے یہ آرزو ہوئی کہ یہ خلعت زائلہ میرے فرزندِ ارشد محمد معصوم کو دے دیں تو بہتر ہے۔ ایک لمحہ کے بعد دیکھا کہ وہ میرے فرزند کو مرحمت فرما دی گئی اور وہ پوری خلعت اس کو پہنا دی گئی۔ یہ خلعتِ زائلہ معاملہ قیومیت سے مراد ہے جو کہ تربیت و تکمیل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے اس عرصہ مجتمعہ کے ساتھ ارتباط کا باعث ہوا ہے۔[3]

گویا مجدد الف ثانی نے وضاحت فرما دی کہ اس خلعت سے مراد منصب قیومیت ہے جو ارشاد و تعلیم و تربیت سے عبارت ہے۔ حسنات الحرمین اور روضۃ القیومیہ میں ہے کہ قیام حرمین شریفین کے دوران آپ کو الہام ہوا کہ "تمہیں محض خلقت کے ارشاد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔[4][5] چنانچہ آپ سے خلق کثیر نے ظاہری و باطنی علوم میں فیض پایا۔

شادی[ترمیم]

آپ جب بالغ ہوئے تو مجدد پاک نے استخارہ کیا اور سید میر صفر احمد رومی کی صاحبزادی بی بی رقیہ کے ساتھ نکاح فرما دیا 6 صاحبزادے اور 5 صاحبزادیاں انہی کے بطن سے ہوئیں[6]

اولاد[ترمیم]

آپ کے 6 صاحبزادے اور5 صاحبزادیاں تھیں۔

دختران عفت مآب میں

  • امتہ اللہ ،
  • عائشہ ،
  • عارفہ ،
  • عاقلہ،
  • صفیہ شامل ہیں

۔[7][8][9][10]

مشہور خلفاء[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے آپ کے نفس گرم، توجہ مبارک اور صحبت میں ایسی برکت دی تھی کہ آپ کے حین حیات ہی آپ کے خلفاء پورے عرب، ماوراء النہر اور افغانستان سے سرہند تک اس طرح پھیل گئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ دعوت و عزیمت کے مبارک منصب پر فائز ہو کر آپ جہاں بھر کو منور فرما رہے ہیں۔ شاہ احمد سعید مجددی نے لکھا ہے کہ آپ کے دستِ مبارک پر 9 لاکھ افراد نے بیعت کی اور آپ کے خلفاء تقریباً 7 ہزار تھے۔[11]

مولف مقامات معصومیہ نے جو آپ کے نواسے تھے ، آپ کے بہت سے خلفاء کے نام ان کی وطنی نسبتوں سمیت تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض کی صحبت انہیں بھی میسر آئی۔ انہوں نے تیس خلفاء کے مفصل حالات بھی لکھے ہیں۔[2]

آپ کے مشہور ترین خلفاء درج ذیل ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

سفر حرمین شریفین[ترمیم]

آپ 1067ھ بمطابق 1657ء میں حج کے لیے ہندوستان سے روانہ ہوئے ۔ آپ کے تقریباً تمام صاحبزادگان بھی آپ کے ہم سفر تھے۔ صاحبِ روضۃ القیومیہ کے مطابق آپ خواجہ محمد سعید و خواجہ محمد یحیی اور سات ہزار خاص مریدوں جن میں دو ہزار آپ کے خلفاء اور سات سو مجد دالف ثانی کے خلفاء کے ہمراہ روانہ ہوئے۔[5]

آپ کے اس سفر حرمین شریفین کے دوران جہاں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی بہت سی کتب تالیف ہوئیں وہیں عرب میں اس سلسلہ کی نشرواشاعت بھی ہوئی جبکہ مجدد الف ثانی کے بہت سے خلفاء پہلے ہی سے یہاں سرگرم عمل تھے اس لیے خواجہ محمد معصوم کا استقبال بھی بڑا پرجوش ہوا۔[4]

اتباع سنت[ترمیم]

اتباعِ سنت اور عمل بہ عزیمت کے سلسلے میں آپ مجدد الف ثانی کے عملی نمونہ تھے، جس کا اظہار مکتوبات معصومی میں بخوبی ہوتا ہے۔ امام ربانی نے آپ کو وصیت فرمائی تھی کہ تم خوش دل ہو یا تنگ دل، ہر صورت میں جس سے بھی ملو خواہ وہ اچھا ہو یا برا، کشادہ پیشانی اور حسن اخلاق سے ملو۔ کسی پر اعتراض نہ کرو، گفتگو میں سختی ہرگز نہ کرو، خانقاہ کی ٹوٹی چٹائی کو تختِ سلطنت سمجھو۔ پرانی جھونپڑی اور سوکھی روٹی پر قناعت کرو۔ صحبت امراء اور مجلس سلطان سے پرہیز رکھو۔خواجہ معصوم کی زندگی اسی عہد پر ختم ہوئی کہ سلطان شاہ جہاں آپ کی رفاقت کی تمنا کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ سلطان عالمگیر حلقۂ ارادت میں داخل ہوا۔ حاکمِ وقت تھا مگرآپ کا اس پر اس قدر رعب طاری رہتا تھا کہ مجلس میں جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتا تھا اور آپ کی خدمت میں ادب کی بنا پر زبان سے شاذ و نادر ہی کچھ عرض کرتا تھا۔ لکھ کر گذارشات پیش کرتا تھا۔ مشہور روایت کے مطابق آپ کے ساٹھ ہزار خلفاء اور نو لاکھ مریدین تھے۔ کئی بادشاہ آپ کے مرید تھے۔ جب آپ حجاز مقدس تشریف لے گئے تو ہزاروں کی تعداد میں اہل حرمین آپ سے بیعت ہوئے۔ اس قدر تبلیغی مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کا مشغلہ کبھی ترک نہ کیا۔ عصر کے بعد وعظ نصیحت کی مجلس ہوتی تھی۔ خواتین کی تلقین اور نصیحت کے لئے وقت مقرر ہوتا تھا۔ لوگ باعیال آپ کے دربار میں آتے، جن کے لئے علیحدا جگہ کا انتظام ہوتا تھا اور آپکی صاحبزادیاں درمیان میں واسطہ ہوتی تھیں۔[1]

محمد معصوم اور اورنگ زیب عالمگیر[ترمیم]

اورنگزیب عالمگیر کی تخت نشینی (1659ء) سے بہت پہلے خواجہ محمد معصوم کے ساتھ اس کی عقیدت کے ثبوت ملتے ہیں۔ چنانچہ 1048ھ / 1638ء میں وہ باقاعدہ بیعت ہونے کے لیے خواجہ کی بارگاہ میں سرہند حاضر ہوا، جہاں اسے سلطنت کی خوش خبری بھی دی گئی تھی۔[5]

خواجہ محمد معصوم کے فرزند خواجہ سیف الدین نے اپنے ایک مکتوب میں واضح طور پر اورنگزیب عالمگیر کے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہونے اور حضرت خواجہ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا ذکر کیا ہے۔[12]

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال 9 ربیع الاول 1079ھ بمطابق 17 اگست 1668ء کو سرہند میں ہوا۔اورمدفن سرہند شریف، انڈیا میں ہے۔[13]

حوالہ جات[ترمیم]