کرغیزستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(کرغزستان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
جمہوریہ کرغیز
Kyrgyz Republic

  • Кыргыз Республикасы  (کرغیز)
    Kyrgyz Respublikasy
  • Киргизская Республика  (روسی)
    Kirgizskaya Respublika
Flag of Kyrgyzstan
Flag
Emblem of Kyrgyzstan
Emblem
ترانہ: 
Кыргыз Республикасынын Мамлекеттик Гимни
Kyrgyz Respublikasynyn Mamlekettik Gimni
کرغیزستان کا قومی ترانہ
محل وقوع  کرغیزستان  (green)
محل وقوع  کرغیزستان  (green)
دار الحکومت
and سب سے بڑا شہر
بشکیک
دفتری زبانs[1]
نسلی گروہ
مذہب
اسلام، روسی آرتھوڈاکس چرچ
نام آبادی
حکومتوحدانی ریاست پارلیمانی نظام
• صدر
سورونبائی جینبیکوف
سورنبائی جینبیکوف
مقننہسپریم کونسل
آزادی سوویت اتحاد سے
14 اکتوبر 1924
5 دسمبر 1936
• آزادی کا اعلان
31 اگست 1991
• تسلیم
25 دسمبر 1991
رقبہ
• کل
[آلہ تبدیل: invalid number] (87th)
• پانی (%)
3.6
آبادی
• 2015 تخمینہ
6٫000٫000[4] (110th)
• 2009 مردم شماری
5٫362٫800
•  کثافت
27.4/کلو میٹر2 (71.0/مربع میل) (176th)
جی ڈی پی (پی پی پی)2015 تخمینہ
• کل
$20.095 بلین[5]
• فی کس
$3٫363[5]
جی ڈی پی (برائے نام)2015 تخمینہ
• کل
$6.650 بلین[5]
• فی کس
$1٫113[5]
جینی (2012)27.4[6]
ادنی
ایچ ڈی آئی (2014)Increase2.svg 0.655[7]
متوسط · 120th
کرنسیسوم (KGS)
منطقۂ وقتیو ٹی سی+6 (KGT)
ڈرائیونگ سائیڈدائیں
کالنگ کوڈ+996
آیزو 3166 رمزKG
انٹرنیٹ ٹی ایل ڈیKg.

جمہوریہ کرغیزستان (یا قرقیزستان) (Kyrgystan) وسط ایشیا میں واقع ایک ترک نژاد مسلمان ریاست ہے- اس کے شمال میں قازقستان، مغرب میں ازبکستان، جنوب میں تاجکستان اور مشرق میں عوامی جمہوریہ چین واقع ہیں۔ اس کا دار الحکومت اس کا سب سے بڑا شہر بشکیک ہے ۔

"کرغیز" یا "قرقیز" کے معنی "چالیس قبیلے" ہیں جو ترک روایت کے مطابق زمانہ قدیم میں متٌحد ہو کر ایک قوم بن گئے تھے۔ کرغیزستانی جہنڈے پر اس اتحاد کی نشاندہ چالیس کرنیں ہیں۔ بعض تاریخدانوں اور زبانشناسوں کے مطابق قرقیز کے اصل لفظی معنی لال ہیں جو اس علاقہ میں مقیم ترک قبیلوں کا قومی رنگ ہوا کرتا تھا۔

تاریخ[ترمیم]

آٹھویں صدی میں جب عرب افواج نے وسط ایشیا فتح کیا تو یہاں مقیم آبادی مسلمان ہونے لگی۔ بارویں صدی میں چنگیز خان نے اس علاقے کا قبضہ کر لیا اور یوں چھ صدیوں تک یہ چین کا حصہ رہا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں دو معاہدوں کے تحت یہ علاقہ روسی سلطنت کا مفوّضہ صوبہ کرغزیہ بن گیا۔ اس دور میں کئی سرکش کرغیز چین یا افغانستان منتقل ہو گئے۔ 1919ء سے یہاں سوویت دور شروع ہوا جو 31 اگست 1991ء میں جمہوریہ کرغیزستان کی آزادی کے ساتھ اپنے اختتام پر پہنچا۔

جغرافیہ[ترمیم]

کرغیزستان کی مساحت 198500 کلومیٹر مربع ہے جس میں سے %65 تیان شان اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں کا علاقہ ہے۔ اس علاقے کے شمال مشرق میں 1606 میٹر کی بلندی پر اسیک کول کی نمکین جھیل واقع ہے جو دنیا میں اس نوعیت کی دوسری سب سے بڑی جھیل ہے۔ کرغیز زبان میں اس کے معنی "گرم جھیل" ہیں کیونکہ اتنے برفانی علاقے میں اور اس بلندی پر ہونے کے باوجود یہ سال بھر جمتی نہیں ہے۔ اس نمکین جھیل کے علاوہ کرغیزستان باقی کئی وسط ایشیائی ممالک کی طرح مکمل طور پر خشکی سے محصور ہے۔ اس کی سرحدیں کسی سمندر سے نہیں ملتیں۔

کرغیزستان میں سونے اور دیگر قیمتی فلزات کی کئی رسوبات موجود ہیں۔ پہاڑوں کے باعث ملک میں صرف آٹھ فیصد علاقہ کشت کاری کے لائق ہے اور تقریباً سب مزروعہ زمیں جنوب میں واقع وادئ فرغانہ تک محدود ہے۔ اس وادی میں سے کرغیزستان کے دو بڑے دریا، قارو دریو (کالا دریا) اور نارین گزرتے ہیں۔ ان کے سنگم سے دریائے سیحوں نکلتا ہے جو بعض اسلامی روایات کے مطابق جنت کے چار دریاوں میں سے ایک ہے۔

معاشرتی اور سیاسی تقاسیم[ترمیم]

کرغیزستان کی آبادی گزشتہ دہائیوں میں پچاس لاکھ تک پہنچ چکی ہے تاہم بیشتر کرغیزستانی ابھی بھی کسان یا خانہ بدوش ہیں۔ اُنتّر فیصد کرغیزستانی ترک نژاد کرغیز (قرقیز) قوم سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ بقیہ پچیس فیصد نسلاً ازبک اور روسی ہیں۔ ان کے علاوہ تاتار، اوغر، قزاق، تاجک اور یوکرینی قومیں بھی یہاں آباد ہیں۔ اگرچہ یہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، سرکاری زبانیں صرف کرغیز اور روسی ہیں۔

اسّی فیصد کرغیزستانی مسلمان ہیں- ان میں سے اکثریت حنفی فقہ سے منسلک ہے جو یہاں سترہویں صدی میں رائج ہوا۔ شہروں سے باہر اسلامی روایات مقامی ترک قبائلی روایات اور عقائد سے ملی ہوئی ہیں۔ بقیہ کرغیزستانی زیادہ تر روسی یا یوکرینی تقلیدی کنائس کے مسیحی ہیں۔ سوویت دور میں یہاں سرکاری لامذہبیت (دہریت) عائد تھی اور کرغیزستان کا آئین اب بھی حکومت میں دین کی مداخلت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم آزادی کے بعد اسلام معاشرتی اور سیاسی سطحوں پر بتدریج اہمیت حاصل کر رہا ہے۔ اس کے باوجود کچھ سیاسی اور معاشرتی گروہ اب بھی سوویت دور کی دہریت کے حامی ہیں۔

کرغیزستان سات صوبوں میں مقسوم ہے جو اوبلاست (област) کہلاتے ہیں (جمع: اوبلاستار / областтар)۔ دار الحکومت بشکیک اور وادئ فرغانہ میں واقع شہر اوش انتظامی طور پر خود مختار علاقے ہیں جو "شار" کہلاتے ہیں۔ صوباؤں کے نام ہیں: باتکین، چوئی، جلال آباد، نارین، اوش، تالاس اور ایسیک کول۔

آبادیات[ترمیم]

مذہب[ترمیم]

کرغیزستان کی بھاری اکثریت مسلمان آبادی پر مشتمل ہے، 1998ء کی مردم شماری کے مطابق کرغیزستان کی کل آبادی کا 86.3% اسلام کے پیروکاروں پر مشتمل ہے اور ان کی اکثریت اہلسنت ہے۔[8] مسلمان پہلے پہل یہاں آٹھویں صدی عیسوی میں وارد ہوئے۔[9] آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ کرغزستان ایک کثیر النسلی اور اسلام کے ساتھ کثیر مذہبی ملک ہے (بشمول اہل سنت، اہل تشیعبدھ مت، بہائیت، مسیحیت (بشمول روسی راسخ الاعتقاد، اور کاتھولک کلیسیایہودیت، اور دیگر مذاہب سب ملک میں موجود ہے۔ سنی اسلام ملک کا سب سے بڑا مذہب ہے، سنیوں کی تعداد، کل آبادی کا 75-80% ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Constitution". Government of Kyrgyzstan.
    Article 5
    1. The state language of the Kyrgyz Republic shall be the Kyrgyz language.
    2. In the Kyrgyz Republic, the Russian language shall be used in the capacity of an official language.
     
  2. "Ethnic composition of the population in Kyrgyzstan 1999–2014" (PDF) (بزبان روسی). National Statistical Committee of the Kyrgyz Republic. 6 جولائی 2014 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2014. 
  3. Kyrgysztan in the CIA کتاب حقائق عالم۔
  4. "Long-awaited six millionth resident born in Kyrgyzstan" (بزبان انگریزی). 24.kg News Agency. اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2015. 
  5. ^ ا ب پ ت "Report for Selected Countries and Subjects". World Economic Outlook Database, اپریل 2016. بین الاقوامی مالیاتی فنڈ. اپریل 2016. 7 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2016. 
  6. "Gini index". عالمی بنک. 7 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2016. 
  7. "2015 Human Development Report" (PDF). United Nations Development Programme. 2015. 7 جنوری 2019 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  8. [1]
  9. Gendering Ethnicity: Implications for Democracy Assistance By L. M. Handrahan, pg. 100