مراد ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مراد دوم سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سلطان سلطنت عثمانیہ
مراد ثانی
مراد ثانی

سلطان سلطنت عثمانیہ
دور حکومت 26 مئی 1421 – اگست 1444
ساتھی yes
دور ستمبر 1446 – 3 فروری 1451
معلومات شخصیت
پیدائش جون 1404  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اماسیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 فروری 1451 (46–47 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ادرنہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
زوجہ ہما خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد فاتح  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد محمد اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ امینہ خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
خاندان عثمانی خاندان
دستخط
مراد ثانی

مراد ثانی (عثمانی ترکی: مراد ثانى Murād-ı sānī, ترکی:II. Murat) (پیدائش: جون 1404ء، انتقال 3 فروری1451ء) 1421ء سے 1451ء تک (1444ء سے 1446ء تک کا عرصہ چھوڑ کر) سلطنت عثمانیہ کے سلطان رہے۔

ان کا دور حکومت بلقان اور اناطولیہ میں زبردست جنگوں کا دور تھا جس میں انہوں نے شاندار فتوحات حاصل کیں۔ انہوں نے اپنے والد محمد اول کی وفات پر محض 18 سالہ کی عمر میں تخت سنبھالا۔ ان کو سب سے پہلے بغاوتوں کا سامنا رہا تاہم وہ انہیں فرو کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے 1421ء میں قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا لیکن اپنے بھائی مصطفی کی جانب سے بروصہ پر حملے کی وجہ سے انہیں یہ محاصرہ اٹھانا پڑا اور انہوں نے بروصہ پہنچ کر مصطفی کو شکست دی اور اسے قتل کردیا۔ مصطفی کو بغاوت پر آمادہ کرنے والی اناطولیہ میں پھیلی ترک ریاستوں کو ان کے کئے کی سزا ملی اور مراد ثانی نے سب کو شکست دے کر سلطنت میں شامل کر لیا۔

مراد نے 1428ء میں کرمانیوں کو شکست دی اور 1430ء میں دوسرے محاصرۂ سالونیکا کے بعد 1432ء میں وینس بھی دستبردار ہوگیا۔ اسی دہائی میں مراد نے بلقان میں وسیع علاقہ سلطنت میں شامل کیا اور 1439ء میں سربیا فتح کر لیا۔ 1441ء میں مقدس رومی سلطنت، پولینڈ اور البانیہ نے ان کے خلاف اتحاد قائم کرتے ہوئے صلیبی جنگ کا اعلان کردیا۔ 1444ء میں جنگ وارنا میں انہوں نے یوناس ہونیاڈے کو شکست دی لیکن جنگ جلاووز میں انہیں شکست ہوئی اور دونوں کے درمیان معاہدہ ہوگیا۔ اس معاہدے کے بعد مراد ثانی اپنے صاحبزادے محمد ثانی کے حق میں تخت سے دستبردار ہوگئے لیکن محمد کی نو عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عیسائیوں نے معاہدہ توڑ دیا جس پر 1446ء میں مراد نے دوبارہ مسند اقتدار سنبھالی اور دوسری جنگ کوسوو میں عیسائی اتحاد کو کچل کر رکھ دیا۔

بلقان میں عیسائیوں کو عظیم شکست دینے کے بعد انہوں نے مشرق کا رخ کیا اور امیر تیمور کے بیٹے شاہ رخ تیموری کو شکست دی اور کرمانی امارت کو اپنی قلمرو میں شامل کیا۔

1450ء کے موسم سرما میں وہ بیمار پڑ گئے اور ادرنہ میں وفات پائی۔ محمد ثانی (المعروف سلطان محمد فاتح) نے ان کی جگہ تخت سنبھالا۔

مراد ثانی
پیدائش: 1404 وفات: 3 فروری 1451
شاہی القاب
پیشرو 
محمد اول
سلطان سلطنت عثمانیہ
26 مئی 1421 – 1444
جانشین 
محمد ثانی
پیشرو 
محمد ثانی
سلطان سلطنت عثمانیہ
1446 – 3 فروری 1451

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب