مندرجات کا رخ کریں

وفد ایاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد ایاد قبیلہ ایاد کا وہ وفد تھا جو مدینہ منورہ آ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بعض ماخذ کے مطابق یہ وفد 8ھ میں آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر وفد سے ان کے قبیلے کے مشہور خطیب اور موحد قس بن ساعدہ ایادی کے بارے میں دریافت فرمایا۔[1][2]

نسب

[ترمیم]

ایاد بن نزار بن معد بن عدنان کی اولاد کو بنو ایاد کہا جاتا ہے۔ ایاد نزار کے بیٹوں میں سے تھے۔[3] ان کی ابتدائی سکونت تہامہ اور مکہ کے علاقے میں تھی، بعد میں ان کی شاخیں عراق اور شام کی سرحدوں کی طرف منتقل ہو گئیں۔[3] یہ قبیلہ فصاحت اور خطابت میں معروف تھا۔[4]

وفد کی آمد

[ترمیم]

روایت کے مطابق جب وفد اپنے کام سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم قس بن ساعدہ کو جانتے ہو، اس کا کیا ہوا؟ انھیں بتایا گیا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ قس بن ساعدہ قبیلہ ایاد کے فرد تھے جو زمانہ جاہلیت میں حنفی یعنی دینِ ابراہیمی کے پیروکار تھے۔[1]

قس بن ساعدہ کا خطبہ

[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گویا میں انھیں اب بھی دیکھ رہا ہوں، وہ عکاظ میں اس وقت پہنچے جب لوگ جمع تھے اور ان سے خطاب کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی کو ان کی باتیں یاد ہیں؟ ایک اعرابی نے کہا کہ مجھے یاد ہیں۔ روایت کے مطابق انھوں نے کہا تھا: "لوگو! میرے پاس جمع ہو جاؤ اور میری بات سنو۔ آج پہاڑ کھڑے ہیں، دریا بہہ رہے ہیں، ستارے گردش کر رہے ہیں، رات اور دن آتے جاتے ہیں، مگر جو آیا ہے اس نے جانا ہے۔ تم کھڑے رہو یا سو جاؤ، موت سب کا مقدر ہے اور سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ جو جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے۔ آسمانوں میں خیر ہے اور زمین عبرت کی جگہ ہے۔"[1]

اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قس نے اللہ کے دین کو اختیار کیا اور اللہ ان سے راضی ہوا۔[1] ایک دوسری روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن تنہا ایک امت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔[5]

حنفاء

[ترمیم]

نبی ﷺ کی بعثت کے قریب زمانے میں قس بن ساعدہ ایادی، امیہ بن ابی الصلت، سوید بن عمرو، ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو بن نفیل جیسے کئی لوگ تھے جنھیں "حنفاء" کہا جاتا تھا۔ وہ علانیہ توحید کو اصل دین قرار دیتے اور مشرکین کے مذہب سے اپنی بے زاری ظاہر کرتے تھے۔[1]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 ابن کثیر۔ تاریخ ابن کثیر۔ کراچی: نفیس اکیڈمی۔ ج 2۔ ص 147
  2. ↑ محمد بن عبد المنعم الحميري (1984)۔ الروض المعطار في خبر الأقطار۔ مكتبة لبنان۔ ص 31
  3. 1 2 ابو عبید البکری (1983)۔ معجم ما استعجم من اسماء البلاد والمواضع۔ عالم الكتب۔ ص 67
  4. ↑ خير الدين الزركلي (2002)۔ الأعلام۔ دار العلم للملايين۔ ص 32
  5. ↑ ابن العديم (1988)۔ بغية الطلب في تاريخ حلب۔ دار الفكر۔ ص 418

مزید دیکھیے

[ترمیم]

وفد بکر بن وائل