مندرجات کا رخ کریں

وفد بنو ہلال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(وفد ہلال بن عامر سے رجوع مکرر)

وفد بنو ہلال ان قبائلی وفود میں شامل ہے جنھوں نے دورِ نبوی میں مدینہ منورہ حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور اس قبیلے کے بعض ارکان نے بارگاہِ رسالت سے خصوصی دعائیں اور برکات حاصل کیں۔ اس وفد کو وفد ہلال بن عامر بھی کہا جاتا ہے

وقت اور پس منظر

[ترمیم]

تاریخی روایات کے مطابق "بنو ہلال بن عامر" کا وفد "عام الوفود" (وفود کا سال) کے دوران بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب فتحِ مکہ کے بعد عرب کے مختلف قبائل نے اسلام کی حقانیت کو پہچانتے ہوئے مدینہ منورہ کا رخ کیا تھا۔

وفد کے شرکاء اور نمایاں شخصیات

[ترمیم]

بنو ہلال کے وفد میں قبیلے کے متعدد معززین شامل تھے، جن میں درج ذیل شخصیات کا ذکر مصادر میں کثرت سے ملتا ہے:

  • "عبد عوف بن اصرم": یہ وفد کے اہم رکن تھے جن کا نام رسول اللہ ﷺ نے تبدیل کر کے "عبد اللہ" رکھا۔
  • "قبیصہ بن مخارق": ان کی وفادت اور رسول اللہ ﷺ سے مکالمہ احادیث کی کتب میں بھی منقول ہے۔
  • "زیاد بن عبد اللہ": یہ ام المؤمنین میمونہ بنت الحارث کے بھانجے تھے اور ان کے حوالے سے برکت کے خصوصی واقعات منقول ہیں۔

بارگاہِ رسالت میں حاضری اور مکالمہ

[ترمیم]

وفد کے ارکان نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعتِ اسلام کی اور مختلف دینی و دنیاوی مسائل پر رہنمائی حاصل کی۔

عبد عوف (عبد اللہ) بن اصرم

[ترمیم]

"عبد عوف بن اصرم بن عمرو بن شعیبہ" جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے نام دریافت فرمایا اور اسے تبدیل کر کے "عبد اللہ" رکھ دیا۔ ان کے اسلام لانے پر ان کی نسل سے ایک شاعر نے فخریہ اشعار کہے جن کا مفہوم یہ ہے کہ "میرے دادا وہ خوش نصیب ہیں جنھیں تمام ہوازن نے نبی ﷺ کی طرف وفد بنا کر بھیجنے کے لیے منتخب کیا"۔

قبیصہ بن مخارق اور مالی امداد

[ترمیم]

"قبیصہ بن مخارق" نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ "یا رسول اللہ! میں نے اپنی قوم کے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ایک بھاری مالی بوجھ (حمالہ) اپنے سر لیا ہے، اس سلسلے میں میری مدد فرمائیں"۔ رسول اللہ ﷺ نے انھیں اطمینان دلایا اور فرمایا کہ "جب ہمارے پاس صدقات کا مال آئے گا تو ہم اس میں سے تمھارا حصہ مقرر کریں گے"۔

زیاد بن عبد اللہ اور برکتِ نبوی

[ترمیم]

"زیاد بن عبد اللہ بن مالک" جب مدینہ پہنچے تو وہ سیدھے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث کے گھر گئے، جہاں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے پہلے ان کی آمد پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا لیکن جب حضرت میمونہ نے بتایا کہ یہ ان کا بھانجا ہے، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔

دستِ مبارک کا لمس

[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ نے زیاد بن عبد اللہ کے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور اسے ان کی ناک کی نوک تک لے گئے۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد بنو ہلال کے لوگ ہمیشہ ان کے چہرے پر ایک خاص نور اور برکت محسوس کرتے تھے۔ اس واقعے کے حوالے سے یہ اشعار منقول ہیں: "ما زَالَ ذَاكَ النُّورُ في عِرْنينه … حَتَّى تَبوَّأ بَيتَهُ في مُلْحَدِ" (ترجمہ: وہ نور ان کی ناک کی نوک پر ہمیشہ چمکتا رہا یہاں تک کہ وہ اپنی لحد میں جا سوئے)۔


وفد کے اثرات

[ترمیم]

"وفد بنو ہلال" کی آمد اور ان کے قبولِ اسلام سے نجد اور حجاز کے درمیانی علاقوں میں اسلام کو تقویت ملی۔ قبیلے کے سرداروں نے اپنی قوم میں جا کر دین کی تبلیغ کی اور اسلامی ریاست کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  • حافظ ابن کثیر (2003)۔ البدایہ والنہایہ۔ دار ابن کثیر۔ ج جلد. 5۔ ص صفحہ. 86-87
  • محمد بن سعد (1990)۔ الطبقات الکبریٰ۔ دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ ج جلد. 1۔ ص صفحہ. 310، 342
  • [1]
  • [2]
  1. ابن کثیر 2003, p. جلد. 5، صفحہ. 86
  2. محمد بن سعد 1990, p. جلد. 1، صفحہ. 342