وفد احمس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد احمس میں ڈھائی سو آدمیوں کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا
قیس بن عزرہ الاحمسی قبیلہ احمس کے ڈھائی سو آدمیوں کے ساتھ آئے رسول اللہ نے ان سے پوچھا تم کون ہوانہوں نے کہا ہم احمس اللہ (اللہ کے بہادر)ہیں انہیں جاہلیت میں یہی کہا جاتا تھارسول اللہ نے فرمایا کہ آج سے تم احمس اللہ (اللہ کے بہادر ہو)بلال کو حکم دیا کہ بجیلہ کے شتر سواروں کو انعام دو اور احمسین(چمپئین) سے ابتدا کرو،انہوں نے ایسا ہی کیا ۔
ایک روایت میں قبیلہ احمس اور قبیلہ قیس اکٹھے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا قبیلہ احمس کو قبیلہ قیس سے پہلے دو اور پھر ان کے پیدوں اور شتر سواروں کے لیے سات مرتبہ دعا کی[1] طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بجیلہ " کا وفد آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا بجیلہ والوں کو لباس پہناؤ اور اس کا آغاز" احمس " والوں سے کرو قبیلہ قیس کا ایک آدمی پیچھے رہ گیا جو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے دعا فرماتے ہیں اس کا کہنا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ مرتبہ ان کے لیے اللہم صل علیہم کہہ کر دعا فرمائی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سبل الهدى والرشاد، مؤلف: محمد بن يوسف الصالحی الشامی ناشر: دار الكتب العلمیہ بيروت - لبنان
  2. مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 686