وفد خولان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد خولان شعبان 10ھ میں بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا۔
یہ 10 افراد پر مشتمل تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم اللہ پر ایمان رکھتے اور اس کے رسول کی تصدیق کرتے ہیں ہم نے آپ تک پہنچنے میں بڑی مشقت اٹھائی اور سخت و نرم زمین سے گزر کر یہاں پہنچے یہ ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا احسان ہے ہم آپ کی ملاقات اور زیارت کے لیے حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو تم نے اپنے سفر کا ذکر کیا تو تمہارے اونٹوں نے جس قدر قدم اٹھائے تمہیں اس کے برابر نیکیاں ملیں گی اور جو کچھ تم نے میری ملاقات کا ذکر کیا تو جو شخص مدینہ طیبہ میں میری زیارت کرے گا۔ قیامت کے دن اسے میری طرف سے امن و عہد حاصل ہو گا۔ اور ایک روایت میں وہ قیامت میں میرا ہمسایہ ہوگا۔

پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا خولان کے بت (عم انس) سے کیا سلوک کیا گیا کیا لوگ اب بھی اس کی پوجا کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے اس چیزکی طرف بدل دیا جو آپ لے کر تشریف لائے ہیں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد اسی سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں جب ہم واپس جائیں گے تو اسے گرا دیں گے۔

پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دین کے فرائض سکھائے ایفائے عہد ادائیگی امانت اور ان باتوں پر سختی سے کاربند ہونے کا حکم دیا کہ کسی پر زیادتی نہ کریں گے۔ اس کے بعد انہیں 12 اوقیہ سونا اور کچھ چاندی عطیہ میں عنایت کی وہ اپنی قوم میں واپس چلے گئے اور بت کو توڑ دیا[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المواہب اللدنیہ، جلد اول، صفحہ 674، فرید بکسٹال لاہور
  2. رحمۃ للعالمین، قاضی سلیمان سلمان منصور پوری، جلد اول، صفحہ 188،مرکز الحرمین الاسلامی فیصل آباد