مندرجات کا رخ کریں

وفد عذرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد عذرہ سے مراد حجاز کے مشہور قبیلے "عذرہ" کے وہ بارہ افراد ہیں جنھوں نے صفر 9ھ میں مدینہ منورہ آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دی اور اسلام قبول کیا۔[1]

آمد اور ارکان وفد

[ترمیم]

قبیلہ عذرہ کا یہ وفد صفر 9 ہجری میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا جس کے ارکان کی تعداد 12 تھی۔[2] اس وفد میں نمایاں شخصیات حمزہ بن النعمان العذری، سلیم بن مالک العذری، سعد بن مالک العذری اور مالک بن ابی ریاح شامل تھے۔[1] مدینہ آمد پر ان افراد کو "رملہ بنت حارث" کے گھر ٹھہرایا گیا اور ان کی سرکاری سطح پر میزبانی کی گئی۔[1]

قریش سے قرابت داری اور مکالمہ

[ترمیم]

جب یہ وفد مسجد میں حاضر ہوا تو انھوں نے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر سلام کیا، جس پر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمھیں اسلامی طریقے پر سلام کرنے سے کس چیز نے روکا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی قوم کے مرتاد (تحقیقاتی نمائندے) بن کر آئے ہیں۔[1] انھوں نے اپنی قوم کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ "ہم قصی بن کلاب کے مادری بھائی ہیں، ہم نے ہی خزاعہ اور بنو بکر کو مکہ سے نکالنے میں قصی کی مدد کی تھی اور ہماری آپ سے قریبی رشتہ داری ہے"۔ آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "خوش آمدید، میں تمھیں اور تمھارے کارناموں کو خوب جانتا ہوں"۔[1]

قبولِ اسلام اور تعلیمات

[ترمیم]

وفد کے ارکان نے آپ ﷺ کے سامنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور دین کے بنیادی احکامات کے بارے میں سوالات کیے۔[1] آپ ﷺ نے انھیں قرآن مجید اور سنن کی تعلیم دی اور شام کے علاقوں کی فتوحات کی خوشخبری سنائی۔ آپ ﷺ نے انھیں نصیحت فرمائی کہ وہ کاہنوں سے سوال کرنا اور ان کے پاس جانا چھوڑ دیں اور ان ذبیحوں سے پرہیز کریں جو وہ زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے۔[1] جب یہ وفد واپسی کے لیے رخصت ہونے لگا تو آپ ﷺ نے ہر رکن کو حسبِ معمول جوائز و عطایا سے نوازا اور ان میں سے ایک کو خصوصی طور پر چادر بھی عطا فرمائی۔[1]

زمل بن عمرو العذری اور بت "حمام"

[ترمیم]

قبیلہ عذرہ کی وفاداری کے حوالے سے "زمل بن عمرو" کا واقعہ نہایت اہم ہے، جنھوں نے اپنے قبیلے کے مشہور بت "حمام" کے اندر سے ایک ہاتفِ غیبی کی آواز سنی تھی جس میں بت پرستی کے خاتمے اور نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد کی خبر دی گئی تھی۔[3] اس واقعے کے بعد زمل بن عمرو نے مدینہ کا سفر کیا اور اسلام قبول کیا۔ آپ ﷺ نے انھیں ان کی قوم کا سردار مقرر کیا اور ایک جھنڈا اور تحریری فرمان عطا فرمایا جس پر حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت محمد بن مسلمہ گواہ کے طور پر درج تھے۔[4]

تاریخی اہمیت

[ترمیم]

قبیلہ عذرہ کے اسلام لانے سے اسلامی ریاست کو حجاز کے شمالی علاقوں میں استحکام حاصل ہوا کیونکہ یہ قبیلہ اپنی بہادری اور جنگی مہارت کے لیے مشہور تھا۔[1] زمل بن عمرو بعد ازاں شام کی فتوحات میں شریک رہے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں بھی ان کا اہم سیاسی مقام رہا۔[5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 ابن سعد (1990)۔ الطبقات الكبرى۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 921
  2. ابن کثیر (2013)۔ البدایہ والنہایہ۔ دار ابن کثیر۔ ج 5۔ ص 357
  3. ابن کثیر (2013)۔ البدایہ والنہایہ۔ دار ابن کثیر۔ ج 3۔ ص 196
  4. ابن کثیر (2013)۔ البدایہ والنہایہ۔ دار ابن کثیر۔ ج 3۔ ص 198
  5. ابن سعد (1990)۔ الطبقات الكبرى۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 922