مندرجات کا رخ کریں

وفد سلامان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد سلامان ان قبائلی وفود میں شامل ہے جو ہجرت کے دسویں سال مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ بارگاہِ رسالت سے اپنی سرزمین کے لیے خیر و برکت کی دعا کے طالب ہوئے۔

وقت اور پس منظر

[ترمیم]

تاریخی مصادر، بالخصوص امام محمد بن جریر طبری کی روایت کے مطابق، "وفد سلامان" کی آمد سنہ 10 ہجری کے ماہِ "شوال" میں ہوئی۔[1] یہ وہ دور تھا جب فتحِ مکہ کے بعد جزیرہ نما عرب کے مختلف قبائل اپنی خود مختاری برقرار رکھنے کی بجائے اسلامی ریاست کے مرکز کا رخ کر رہے تھے تاکہ بیعتِ اسلام کریں اور دینی و سیاسی معاملات پر رہنمائی حاصل کر سکیں۔[1] اصل عبارت: "وفي هذه السنة قدم وفد سلامان في شوال على رسول الله ص"۔[1]

وفد کے ارکان اور قیادت

[ترمیم]

قبیلہ سلامان کی نمائندگی کرنے والا یہ وفد کل سات (7) افراد پر مشتمل تھا۔[1] اس وفد کی قیادت قبیلے کے معزز فرد "حبیب السلامانی" کر رہے تھے۔[1] انھوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دی اور اپنی قوم کی طرف سے وفاداری کا عہد کیا۔ اصل عبارت: "وهم سبعة نفر، رأسهم حبيب السلاماني"۔[1]

بارگاہِ رسالت میں مکالمہ

[ترمیم]

وفد کے ارکان نے بارگاہِ رسالت میں حاضری کے بعد مختلف دینی امور پر گفتگو کی۔ روایات کے مطابق انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اعمال میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا"۔ اس موقع پر وفد نے اپنے علاقے کی معاشی تنگی اور قحط سالی کا ذکر کیا اور بارش کے لیے دعا کی درخواست پیش کی۔

بارش کے لیے دعا اور قبولیت

[ترمیم]

اہلِ سلامان کی فریاد پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں "دعائے استسقاء" فرمائی۔ آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک بلند کیے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے علاقے کی شادابی اور بارش کے لیے التجا کی۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ اس دعا کی برکت سے جب یہ وفد واپس اپنے گھروں کو پہنچا تو انھیں معلوم ہوا کہ عین اسی دن اور اسی وقت ان کے علاقے میں بھرپور بارش ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ان کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے۔

تاریخی اہمیت

[ترمیم]

"وفد سلامان" کی آمد اور ان کے قبولِ اسلام سے یمن اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اسلامی ریاست کا اثر و رسوخ مزید مستحکم ہوا۔ حبیب السلامانی کی قیادت میں اس وفد نے واپس جا کر اپنی قوم میں اشاعتِ دین کا کام جاری رکھا، جس کے نتیجے میں یہ قبیلہ مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے زیرِ اثر آ گیا۔


حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 امام محمد بن جریر طبری (1939)۔ تاریخ الرسل والملوک۔ مطبعۃ الاستقامۃ۔ ج 3۔ ص 130