مندرجات کا رخ کریں

وفد جعدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد جعدہ ان قبائلی وفود میں شامل ہے جو دورِ نبوی میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ مکتوباتِ نبوی اور دعائے رسول ﷺ سے فیض یاب ہوئے۔

پس منظر اور ارکانِ وفد

[ترمیم]

تاریخی روایات اور سیرت النبی کے مصادر، بالخصوص ابن سعد کے مطابق، قبیلہ جعدہ کے نمائندے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تاکہ بیعتِ اسلام کریں اور اپنے قبیلے کے لیے امان حاصل کریں۔ اس وفد کی قیادت قبیلے کے اہم سردار "الرقاد بن عمرو بن ربیعہ بن جعدہ" کر رہے تھے۔[1] بنو جعدہ کا تعلق بنو کعب بن ربیعہ کی ایک شاخ سے تھا جو عامر بن صعصعہ کی نسل سے تھے۔

الرقاد بن عمرو اور مکتوبِ نبوی

[ترمیم]

سردار الرقاد بن عمرو نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ آپ ﷺ نے ان کے قبیلے کی تالیفِ قلب اور معاشی استحکام کے لیے انھیں "الفلج" کے مقام پر اراضی عطا فرمائی اور اس کی توثیق کے لیے ایک تحریری فرمان بھی جاری فرمایا۔[2] اس مکتوب کی عبارت درج ذیل تھی: "بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ تحریر محمد رسول اللہ کی جانب سے الرقاد بن عمرو کے لیے ہے؛ انھیں فلج کی اراضی میں سے وہ حصہ عطا کیا جاتا ہے جس پر انھوں نے نشان دہی کی، تاکہ ان کے حقوق محفوظ رہیں اور کوئی ان پر زیادتی نہ کرے"۔[4]

النابغہ الجعدی کی آمد اور دعا

[ترمیم]

وفدِ جعدہ کے ساتھ یا اس کے قریب ہی مشہور شاعر "النابغہ الجعدی" (قیس بن عبد اللہ) بھی مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ انھوں نے مسجدِ نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنے اشعار پیش کیے جن میں توحید اور آخرت کا تذکرہ تھا۔[6] جب انھوں نے یہ شعر پڑھا: "بلغنا السماء مجدنا وجدودنا۔۔۔ وانا لنرجو فوق ذلک مظہرا" (ترجمہ: ہماری بزرگی اور بزرگوں کے کارناموں نے ہمیں بلندیِ آسمان تک پہنچا دیا ہے اور ہم اس سے بھی بلند مقام (جنت) کی امید رکھتے ہیں)۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کے اشعار کی تحسین فرمائی اور انھیں دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: "لا یفضض اللہ فاک" (اللہ تمھارے دانت نہ توڑے)۔[7] مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ اس دعا کی برکت سے النابغہ الجعدی نے طویل عمر (سو سال سے زائد) پائی لیکن ان کا ایک دانت بھی نہیں گرا اور وہ ہمیشہ چمکتے رہے۔

انتظامی و تعلیمی ہدایات

[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ نے وفد کے ارکان کو اسلام کے بنیادی فرائض، بالخصوص نماز اور زکوٰۃ کی تعلیم دی اور انھیں ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے قبیلے میں جا کر دعوتِ دین کا کام سر انجام دیں۔ اس وفد کی آمد سے نجد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اسلامی ریاست کا اثر و رسوخ مستحکم ہوا۔[8]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. محمد بن سعد (1990)۔ الطبقات الکبریٰ۔ دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ ج جلد. 1۔ ص صفحہ. 303
  2. حافظ ابن کثیر (2003)۔ البدایہ والنہایہ۔ دار ابن کثیر۔ ج جلد. 5۔ ص صفحہ. 101
  3. 1 2 محمد بن سعد 1990, p. جلد. 1، صفحہ. 303
  4. [3]
  5. 1 2 ابن کثیر 2003, p. جلد. 5، صفحہ. 101
  6. [5]
  7. [5]
  8. [3]