مندرجات کا رخ کریں

وفد جیشان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد جیشان یمن کے علاقے جیشان سے تعلق رکھنے والے باشندوں کا ایک نمائندہ وفد تھا جو رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور اپنے علاقائی احکام و مشروبات سے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کی۔[1]

جیشان کا جغرافیائی اور قبائلی پس منظر

[ترمیم]

"جیشان" (یا بعض المراجع میں جیشان بن حمیر کی طرف منسوب) یمن کا ایک معروضی اور قدیم علاقہ یا قبیلہ تھا، جو تاریخی اعتبار سے حمیر کے قبائلی کنفیڈریشن اور جنوبی عرب کے معاشی و زراعتی ڈھانچے کا حصہ تھا۔[2] قبل از اسلام یہ خطہ جاہلی رسوم، مقامی مشروبات کی تیاری اور حمیر کی سیاسی قیادت کے زیرِ اثر رہا۔ یہاں کی زمینیں زرخیز تھیں جہاں جو (Barley) اور باجرہ کی زراعت کثرت سے ہوتی تھی، جس سے مقامی لوگ مختلف قسم کے مشروبات تیار کرتے تھے۔[3] جب فتحِ مکہ اور غزوہ تبوک کے بعد 9 اور 10 ہجری میں عام الوفود (وفود کا سال) کا آغاز ہوا اور عرب کے دور دراز علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچا، تو یمن کے مختلف قبیلوں اور قصبات سے نمائندے مدینہ منورہ کا رخ کرنے لگے تاکہ نئے دین کی تعلیمات براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے حاصل کر سکیں۔[4]

بارگاہِ رسالت میں حاضری اور قبولِ اسلام

[ترمیم]

اهلِ جیشان کا نمائندہ وفد مدینہ منورہ پہنچا اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں باریاب ہو کر اسلام قبول کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔[5] اس وفد کے اراکین میں بنیادی طور پر ابو وہب الجیشانی (یا وفد کا مرکزی ترجمان) شامل تھے جنھوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنے علاقے کے احوال پیش کیے اور یمنی معاشرت میں جاری دینی و عملی سوالات پر رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا۔[6]رسول اللہ ﷺ نے ان کا گرم جوشی سے استقبال فرمایا اور انھیں بنیادی ارکانِ اسلام یعنی توحید، نماز، زکوۃ اور حلال و حرام کے حدود کی تعلیم دی اور ان کے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی۔[7]

نشہ آور مشروبات (مزر) کے بارے میں سوال اور نبوی حکم

[ترمیم]

وفدِ جیشان کی گفتگو کا اہم ترین اور سرفہرست شرعی نقطہ ان کے علاقے میں استعمال ہونے والے ایک خاص مشروب کے متعلق تھا۔ وفد کے نمائندے نے عرض کیا:

"اے اللہ کے رسول! ہمارے علاقے یمن میں جو (Barley) سے ایک خاص مشروب تیار کیا جاتا ہے جسے "مزر" (Mizr) کہا جاتا ہے اور لوگ اسے سخت سردی اور مشقت کے کاموں میں پیلا کرتے ہیں، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟"[8] رسول اللہ ﷺ نے ان سے فوری اور واضح سوال دریافت فرمایا:

"کیا وہ نشہ لاتا ہے؟"[9] انھوں نے جواب دیا: "جی ہاں، اگر اس کی زیادہ مقدار پی جائے تو وہ نشہ پیدا کرتا ہے۔"[10] اس پر رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے ایک عالمگیر شرعی و قانونی قاعدے کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ لائے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔"[11] آپ ﷺ نے مزید تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نشہ آور اشیاء کا استعمال جاری رکھتا ہے، اللہ تعالی نے اس کے لیے قیامت کے دن "طينَةُ الخَبالِ" (جہنمیوں کا پسینہ اور پیپ) پلانے کا عہد کر رکھا ہے۔[12] اس واضح فرمان کے بعد وفدِ جیشان نے اس مشروب اور تمام قسم کے مسکرات سے مکمل توبہ کا عہد کیا اور اپنے قبیلے میں جا کر اس کی تحریم کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی۔[13]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ ابن سعد (1990)۔ الطبقات الكبرى۔ دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 356
  2. ↑ یاقوت الحموی (1995)۔ معجم البلدان۔ دار صادر۔ ج 2۔ ص 198
  3. ↑ ابن ہشام (1955)۔ السيرة النبوية۔ مصطفى البابي الحلبي۔ ج 2۔ ص 590
  4. ↑ ابن کثیر (1997)۔ البداية والنهاية۔ دار هجر۔ ج 5۔ ص 88
  5. ↑ ابن سعد (1990)۔ الطبقات الكبرى۔ دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 356
  6. ↑ ابو داؤد (2009)۔ سنن أبي داود۔ المكتبة العصريّة۔ ج 3۔ ص 327
  7. ↑ النسائی (2001)۔ السنن الكبرى۔ مؤسسة الرسالة۔ ج 5۔ ص 112
  8. ↑ مسلم بن الحجاج (1955)۔ صحيح مسلم۔ دار إحياء التراث العربي۔ ج 3۔ ص 1585
  9. ↑ مسلم بن الحجاج (1955)۔ صحيح مسلم۔ دار إحياء التراث العربي۔ ج 3۔ ص 1585
  10. ↑ احمد بن حنبل (2001)۔ مسند الإمام أحمد بن حنبل۔ مؤسسة الرسالة۔ ج 23۔ ص 289
  11. ↑ ابو داؤد (2009)۔ سنن أبي داود۔ المكتبة العصريّة۔ ج 3۔ ص 327
  12. ↑ مسلم بن الحجاج (1955)۔ صحيح مسلم۔ دار إحياء التراث العربي۔ ج 3۔ ص 1585
  13. ↑ ابن عبد البر (1992)۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب۔ دار الجيل۔ ج 4۔ ص 1774