وفد یحنہ بن رؤبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد یحنہ بن رؤبہ سنہ رجب میں تبوک کے مقام پر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا
اس وفد میں یحنہ بن رؤبہ جو ایلہ کا بادشاہ تھا(ابن خلدون اور ابن اثیر نے اس کا نام یوحنا بن رؤبہ تحریر کیا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مصالحت کی اور جزیہ دینا منظور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک تحریر لکھ کر دی جو ان کے پاس ہے اس میں لکھا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

هَذِهِ أَمَنَةٌ مِنَ اللَّهِ وَمُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللَّهِ لِيُحَنَّةَ بْنِ رُؤْبَةَ وَأَهْلِ أَيْلَةَ سُفُنِهِمْ وَسَيَّارَتِهِمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ لَهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ وَمُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْيَمَنِ وَأَهْلِ الْبَحْرِ، فَمَنْ أَحْدَثَ مِنْهُمْ حَدَثًا فَإِنَّهُ لَا يَحُولُ مَالُهُ دُونَ نَفْسِهِ، وَإِنَّهُ طَيِّبٌ لِمَنْ أَخَذَهُ من الناس، وأنه لا يحل أن يمنعوا مَاءً يَرِدُونَهُ وَلَا طَرِيقًا يَرِدُونَهُ مِنْ بَرٍّ أَوْ بَحْرٍ[1]


یہ امان یحنہ بن رؤبہ اور ایلہ کے باشندوں کو اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول محمد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیطرف سے دی گئی۔ بحر وبر میں ان کے سفینوں اور قافلوں کو اللہ تعالیٰ اور محمد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے امان حاصل ہے نیز ان کے ساتھ اہل شام، اہل یمن اورسمندری لوگوں کو بھی امان حاصل ہے پس جو کوئی ان میں سے نئی بات کریگا اس کا مال اس کی جان کی حفاظت نہیں کریگااور لوگوں میں سے جو اسے لے لے گاوہ اس کے لیے طیب ہوگااور کسی کے لیے اس پانی کا روکنا جائز نہیں جس پر وہ آتے جاتے ہیں اور نہ ان کے بحری اور بری راستے کو جس پر وہ آتے جاتے ہیں روکنا جائزہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. البدایہ والنہایہ مؤلف: ابو الفداء إسماعيل ابن كثير ناشر: دار الفكر بیروت
  2. تاریخ ابن کثیر،جلد پنجم صفحہ 34 ،ابن کثیر، نفیس اکیڈمی کراچی