وفد بنوجرم
وفد بنو جرم قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنو جرم بن ربان کا وفد تھا جو ذوالقعدہ 8ھ میں مدینہ منورہ آ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔[1] وفد کے دو نمائندے اصقع بن شریح جرمی اور ہوذہ بن عمرو جرمی تھے۔[2]
نسب
[ترمیم]جرم بن ربان بن حلوان بن عمران بن الحاف بن قضاعہ کی اولاد کو بنو جرم کہا جاتا ہے۔ وفد کے ایک رکن اصقع کا نسب اس طرح بیان ہوا ہے: اصقع بن شریح بن صریم بن عمرو بن ریاح بن عوف بن عمیرہ بن الہون بن اعجب بن قدامہ بن جرم بن ربان بن حلوان بن عمران بن الحاف بن قضاعہ۔ دوسرے رکن ہوذہ بن عمرو بن یزید بن عمرو بن ریاح تھے۔[2]
وفد کی آمد
[ترمیم]سعد بن مرہ جرمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے قبیلے کے دو آدمی وفد بن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے۔ دونوں نے اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ نے انھیں ایک تحریری فرمان عطا کیا۔[2]
اسی موقع کی مناسبت سے عامر بن عصمہ بن شریح جرمی کے یہ اشعار نقل کیے جاتے ہیں:[2]
- وَكَانَ أَبُو شُرَيْحٍ الْخَيِّرُ عَمِّي ... فَتَى الْفِتْيَانِ حَمَّالَ الْغَرَامَهْ
- (ابو شریح الخیر میرے چچا تھے، جو جوانمرد اور ذمہ داریاں اٹھانے والے تھے)
- عَمِيدَ الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِذَا مَا ... ذَوُو الآكَالِ سَامُونَا ظُلاَمَهْ
- (وہ قبیلہ جرم کے سردار تھے، جب مال کھانے والے ہم پر ظلم ڈھاتے تھے)
- وَسَابَقَ قَوْمَهُ لَمَّا دَعَاهُمْ ... إِلَى الإِسْلاَمِ أَحْمَدُ مِنْ تِهَامَهْ
- (جب تہامہ سے احمد ﷺ نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو وہ اپنی قوم سے آگے بڑھ گئے)
- فَلَبَّاهُ وَكَانَ لَهُ ظَهِيرًا ... فَرَفَّلَهُ عَلَى حَيَّيْ قُدَامَهْ
- (انھوں نے آپ ﷺ کی دعوت قبول کی اور آپ کے مددگار بنے، آپ ﷺ نے انھیں قدامہ کے دونوں قبیلوں کا سردار بنا دیا)
دوبارہ حاضری
[ترمیم]اسلام لانے کے بعد قبیلے کے کچھ لوگ دوبارہ وفد کی صورت میں آئے، قرآن سیکھا اور دینی ضروریات پوری کیں۔ انھوں نے پوچھا کہ نماز کون پڑھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو یا جس نے سب سے زیادہ سیکھا ہو، وہ امامت کرے۔[2]
عمرو بن سلمہ کی امامت
[ترمیم]عمرو بن سلمہ جرمی (ابو یزید) اس قبیلے میں سب سے کم عمر تھے مگر انھیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا، چنانچہ قبیلے نے انھیں امام بنایا۔ وہ زندگی بھر نماز جنازہ اور مسجد کی امامت کرتے رہے۔[2]
عمرو بن سلمہ کا بیان ہے کہ ان کا قبیلہ ایک ایسے چشمے کے پاس رہتا تھا جہاں سے قافلے گزرتے تھے۔ وہ لوگوں سے پوچھتے کہ یہ نیا دین کیا ہے، لوگ بتاتے کہ ایک شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس پر وحی آتی ہے۔ وہ جو کچھ سنتے یاد کر لیتے، یوں انھیں قرآن کا بڑا حصہ یاد ہو گیا۔ عرب اسلام قبول کرنے کے لیے فتح مکہ کے منتظر تھے اور کہتے تھے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنی قوم پر غالب آ گئے تو سچے نبی ہیں۔ فتح مکہ کی خبر آئی تو ہر قبیلے نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی۔ ان کے والد بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گئے اور واپس آ کر قبیلے کو نمازوں کے اوقات بتائے اور یہ ہدایت دی کہ نماز کا وقت ہو تو ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ امامت کرائے۔[2]
قبیلے نے غور کیا تو سب سے زیادہ قرآن عمرو بن سلمہ کو یاد تھا، چنانچہ انھیں امام بنایا گیا، اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی۔ ان کے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی جو اکثر سرک جاتی تھی۔ قبیلے کی ایک عورت نے کہا کہ تم اپنے قاری کا ستر ہم سے کیوں نہیں چھپاتے؟ لوگوں نے انھیں بحرین کا بنا ہوا کرتا پہنایا اور عمرو کہتے ہیں کہ مجھے اس کرتے سے جتنی خوشی ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی۔[2]
العقیق کا تنازع
[ترمیم]بنو جرم سے تعلق رکھنے والے صحابی اسماء بن ربان جرمی (یا اسماء بن ریاب) کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے قبیلے اور بنو عقیل کے درمیان "العقیق" نامی ایک چشمے پر جھگڑا ہوا۔ وہ یہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ نے چشمہ بنو جرم کے حق میں قرار دیا۔ اس پر انھوں نے یہ اشعار کہے:[3]
- وإني أخو جرم كما قد علمتم ... إذا اجتمعت عند النبي المجامع
- (میں بنو جرم کا آدمی ہوں جیسا کہ تم جانتے ہو، جب نبی ﷺ کے پاس لوگ جمع ہوں)
- فإن أنتم لم تقنعوا بقضائه ... فإني بما قال النبي لقانع
- (اگر تم آپ ﷺ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوئے تو میں تو آپ ﷺ کے فرمان پر راضی ہوں)