وفد جن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد جن جنات کے وفد کو کہتے ہیں۔

جنات کے قرآن کریم سننے اور اس سے متأثر ہو کر ایمان لانے اور پھر حق کی علمبرداری کرتے ہوئے اپنی قوم کو دعوت دینے کے واقعات دو جگہ بیان کیے ہیں۔ ایک سورۃ الجن میں اور دوسری سورۃ احقاف آیات 29 تا 32 میں ہیں۔

پہلا واقعہ[ترمیم]

بخاری اور مسلم نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں نخلہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔ اس وقت جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزر رہا تھا۔ تلاوت کی آواز سن کر وہ ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا۔ شدید متأثر ہونے کی وجہ سے اسلام لے آیا۔ لیکن اس کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی۔ وہ لوگ اپنے طور پر ایمان لائے اور پھر اپنی قوم میں جا کر اس واقعہ کے حوالے سے انہوں نے ایمان کی دعوت دی۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب جنات نے محسوس کیا کہ ان کی بعض آزادیوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ پہلے جنات کا معمول یہ تھا کہ وہ آسمان کی طرف پرواز کرتے اور کوشش کرتے تھے کہ عالم بالا کی خبریں معلوم کریں۔ فرشتوں کی باہم گفتگو سے کسی بات کی خبر ہوجاتی تو وہ اضافوں کے ساتھ کاہنوں کو بتاتے تھے اور ان اطلاعات پر کاہنوں کا کاروبار چلتا تھا۔ اچانک انہیں محسوس ہوا کہ ہر طرف فرشتوں کے سخت پہرے لگ گئے ہیں اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے۔ وہ اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتوں کے پہروں کی وجہ سے اوپر جانے سے روک دیے جاتے ہیں اور اگر چوری چھپے کسی طرف سے نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان پر شہابیے برستے ہیں۔ اس سے انھیں اندازہ ہوا کہ زمین میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کے لیے یہ سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس کی تحقیق کے لیے زمین کے مشرق اور مغرب اور ہر طرف جنات کے وفود بھیجے گئے کہ وہ حقیقت کا سراغ لگانے کی کوشش کریں۔ اسی کوشش میں وہ مقامِ نخلہ پر بھی پہنچے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ صبح کی نماز جماعت سے ادا کر رہے تھے۔ جنات کے اس وفد نے جب قرآن کریم سنا تو قسمیں کھا کر کہنے لگے کہ واللہ یہی کلام ہے جو ہماری اور آسمانی خبروں کے درمیان میں حائل اور مانع بنا ہے۔

دوسرا واقعہ[ترمیم]

دوسرا واقعہ جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ ابوطالب کی وفات کے بعد جب قریش کی طرف سے اذیتوں اور مخالفتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغی مساعی تقریباً رک کر رہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے طائف کا سفر کیا کہ ممکن ہے کہ طائف میں قبیلہ بنوثقیف سے کوئی حوصلہ افزا جواب ملے اور اس سے اسلام کی تبلیغ و دعوت کو نئی قوت نصیب ہو۔ لیکن طائف کے تینوں سرداروں (جو آپس میں بھائی تھے) نے نہایت غیر شریفانہ جواب دیا اور پھر شہر کے اوباشوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ستانے اور مذاق اڑانے پر لگا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان لوگوں کی چیرہ دستیوں اور ایذا رسانیوں سے بچنے کے لیے ایک باغ میں پناہ گزین ہوئے جو عتبہ اور شیبہ کا باغ تھا واپسی پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقامِ نخلہ پر قیام فرمایا اور آخری شب میں نماز تہجد پڑھنے لگے تو ملک یمن نصیبین کے جنات کا یہ وفد بھی وہاں پہنچا ہوا تھا۔ اس نے قرآن سنا اور سن کر ایمان لے آئے اور اپنی قوم کی طرف واپس جا کر یہ واقعہ بیان کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحقاف میں کیا ہے۔

لیلۃ الجن[ترمیم]

روایاتِ حدیث میں لیلۃ الجن کا جو واقعہ مذکور ہے اس میں عبد اللہ ابن مسعود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنات کو تبلیغ و دعوت کے لیے مکہ مکرمہ کے قریب ایک جنگل میں تشریف لے گئے تھے او انہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن کریم پڑھ کر سنایا تھا اور ان کے سوالات کے جواب بھی دیے تھے۔

علامہ خفاجی کہتے ہیں احادیثِ معتبرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جنات کے وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چھ مرتبہ حاضر ہوئے۔ یقینا جنات سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گفتگو بھی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں قرآن کریم بھی سنایا۔[1]

عبداللہ بن مسعود، زبیر،عبد اللہ بن عباس اور حسن بصری، سعید بن حبیر، زر بن حبیش، مجاہد، عکرمہ اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہے وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا واقعہ بطن نخلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ابن اسحاق، ابو نعیم اصفہانی اور واقدی کا بیان ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طائف سے مایوس ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس ہوئے تھے۔ راستہ میں آپ نے نخلہ میں قیام کیا۔ وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرأت سننے کے لیے ٹھہر گیا۔ اس کے ساتھ تمام روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس موقع پر جن حضور کے سامنے نہیں تھے، نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس فرمایا تھا بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی۔

وادی نخلہ[ترمیم]

یہ مقام جہاں یہ واقعہ پیش آیا یا تو الزیمہ تھا یا اسیل الکبیر، کیونکہ یہ دونوں مقام وادی نخلہ میں واقع ہیں، دونوں جگہ پانی اور سرسبزی موجود ہے اور طائف سے آنے والوں کو اگر اس وادی میں پڑاؤ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ ان ہی دونوں میں سے کسی جگہ ٹھہر سکتے ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر روح القرآن، ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی، سورۃ الجن، آیت1
  2. تفسیر تفہیم القرآن، ابو الاعلی مودودی، سورۃ الاحقاف، آیت 29