وفد بنو حنیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بنو حنیفہ کا وفد 10ھ میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اس میں 17 لوگ تھے
ثمامہ بن اثال کی کوششوں سے اس علاقے میں اسلام پھیلا تھا یہ وفد مدینہ میں آکر مسلمان ہوا تھا اس وفد میں مسیلمہ کذاب بھی تھا وہ لوگوں سے یہ کہتا کہ اگر محمد اقرار کریں کہ مجھے ان کا جانشین بنایا جائے گا تو میں بیعت کرتا ہوں آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اگر اس شاخ کا ایک ٹکڑا بھی مانگو گے تو میں تمہیں نہیں دوں گا۔[1][2]

ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجد کی جانب گھڑ سوار مجاہدین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ یہ مجاہدین بنو حنیفہ قبیلے کے ایک سردار ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر لائے اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے تو پوچھا: ’’ ثمامہ ! تو کیا سمجھتا ہے ( کہ میں تیرے ساتھ کیسا معاملہ کروں گا؟) ثمامہ کہنے لگا، اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے پاس تو خیر ہی ہے، لیکن (اس کے باوجود) اگر مجھے قتل کرو گے تو ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر مجھ پر احسان کرو گے تو ایسے شخص پر احسان کرو گے جو احسان کی قدر کرنا جانتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مال و دولت کی تمنا ہے تو جس قدر چاہیں تقاضا کریں ( اسے پورا کیا جائے گا۔ یہ جواب سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ کہے بغیر چلے گئے) حتیٰ کہ اگلے دن تشریف لائے اور ثمامہ سے وہی سوال دہرایا: ’’ ثمامہ ! تیرا کیا خیال ہے ( کہ میں تیرے ساتھ کیسا معاملہ کروں گا)؟‘‘ ثمامہ نے کہا، میں اپنی بات آپ سے کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک قدر دان پر احسان کریں گے۔ اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ( اس کے حال پر) چھوڑ دیا، حتیٰ کہ تیسرے دن اس سے پوچھا: ’’ تیرا ( میرے بارے میں) کیا خیال ہے، اے ثمامہ !؟‘‘ ثمامہ نے کہا، میرا خیال وہی ہے جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں۔ اب کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے (صحابہ کو) حکم دیا: ’’ ثمامہ کو آزاد کر دو۔‘‘ ثمامہ یہاں سے نکلا اور مسجد کے قریب ہی کھجوروں کے ایک باغ میں جا پہنچا۔ وہاں سے غسل کر کے مسجد میں آ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: ( اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ ) ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ پھر کہنے لگا، اے محمد ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمین پر جس قدر بھی چہرے ہیں، ان میں سب سے بڑھ کر مجھے جس چہرے پر غصہ آتا تھا، وہ آپ کا چہرہ تھا، لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ ان تمام چہروں میں مجھے جس چہرے کے ساتھ سب سے بڑھ کر محبت ہے وہ آپ کا چہرۂ مبارک ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے آپ کے دین سے زیادہ برا کوئی دین نہیں لگتا تھا، مگر اب آپ کا دین مجھے تمام ادیان میں سب سے زیادہ محبوب لگ رہا ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ کے اس شہر پر مجھے تمام شہروں سے بڑھ کر غصہ آتا تھا، مگر اب یہ شہر سب شہروں سے بڑھ کر مجھے پیارا لگ رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جس وقت میں عمرے کا ارادہ کرچکا تھا، اب آپ کی مرضی ہے جو حکم فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ( ان کے قبول اسلام پر) انہیں خوش خبری دی اور فرمایا: ’’ تم عمرہ ادا کر لو۔‘‘ ثمامہ جب مکہ پہنچے تو ایک شخص انہیں کہنے لگا، کیا تو بے دین ہو گیا ہے؟ ثمامہ نے کہا، بالکل نہیں، میں تو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لایا ہوں اور سنو! ( یہ بات ہے تو) اللہ کی قسم ! یمامہ سے تمھارے پاس اب گندم کا ایک دانہ بھی نہیں پہنچے گا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمھیں اناج دینے کی اجازت دیں۔[3]

میں مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا لشکر محمد بن مسلمہ کی سرکردگی میں یمنی قبیلوں کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا۔ یہ لشکر قبیلہ بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال حنفی کو گرفتار کر کے مدینہ آپ کے پاس لے آیا۔ ثمامہ، مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا کہ مسلمانوں کے اس لشکر کے ہتھے چڑھ گیا اور مسلمانوں نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ آپ نے اسے مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دینے کا حکم دیا اور پوچھا 'ثمامہ! کیا صورت حال ہے؟'

ثمامہ بن اثال کا واقعہ صحیحین میں کئی مقامات پر مذکور ہے مگر ان میں یہ صراحت نہیں کہ ثمامہ جب گرفتار ہوئے تو اس مسیلمہ کذاب کے حکم کے مطابق آپ کو قتل کے ارادہ سے نکلے تھے اس بات کی وضاحت سیرۃ طیبہ میں موجود ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رحمۃ للعالمین، قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری، صفحہ 174، مرکز الحرمین الاسلامی فیصل آباد
  2. سیرت مصطفے، حصہ سوم، محمد ادریس کاندھلوی، صفحہ 137، کتب خانہ مظہری کراچی
  3. بخاری، کتاب المغازی، باب وفد بنی حنفیۃ و حدیث ثمامۃ بن أثال: 4372
  4. الرحیق المختوم، صفحہ606، صفی الرحمن مبارکپوری، مکتبہ سلفیہ لاہور