وفد بنو حنیفہ
وفد بنو حنیفہ سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ کا وہ وفد ہے جو یمامہ سے مدینہ منورہ آ کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور بظاہر اسلام قبول کیا۔ یہ وفد سنہ 9ھ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،[1][2] اگرچہ بعض کتبِ سیرت میں اس کی آمد 10ھ بھی بتائی گئی ہے۔[3] اس وفد کی آمد اور بعد میں پیش آنے والے واقعات، خصوصاً مسیلمہ بن حبیب کا معاملہ، تاریخِ اسلام میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔[4]
پس منظر
[ترمیم]فتح مکہ اور غزوہ تبوک کے بعد جب عرب قبائل کے دلوں میں اسلام کی حقانیت راسخ ہونے لگی تو دور دراز علاقوں سے وفود کی مدینہ آمد کا سلسلہ تیز ہو گیا، جسے سیرت کی اصطلاح میں "عام الوفود" کہا جاتا ہے۔[2][5] بنو حنیفہ کا تعلق ربیعہ بن نزار کی شاخ سے تھا اور وہ یمامہ کے زرخیز و وسیع علاقے کے باشندے تھے۔[5]
ثمامہ بن اثال کے ذریعے اسلام کی ابتدائی تبلیغ
[ترمیم]بنو حنیفہ کے وفد کی باقاعدہ آمد سے پہلے ہی اس علاقے میں ثمامہ بن اثال کی کوششوں سے اسلام کا تعارف ہو چکا تھا۔ روایت کے مطابق چھ ہجری میں محمد بن مسلمہ کی سرکردگی میں بھیجا گیا ایک مسلمان دستہ ثمامہ بن اثال کو، جو بنو حنیفہ کے سردار تھے، گرفتار کر کے مدینہ لے آیا اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔[6] نبی کریم ﷺ نے مسلسل تین دن ان سے ان کے ارادے کے بارے میں دریافت کیا اور بالآخر انھیں بلا معاوضہ آزاد کر دیا۔ اس عفو و درگزر سے متاثر ہو کر ثمامہ نے اسلام قبول کر لیا اور واپس یمامہ جا کر قریش کو غلے کی ترسیل روک دی۔[7] بعض سیرت نگاروں کے مطابق ثمامہ دراصل مسیلمہ کذاب کے اشارے پر نبی کریم ﷺ کے قتل کے ارادے سے نکلے تھے، مگر مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہو گئے۔[8]
وفد کی آمد اور ارکان
[ترمیم]یمامہ سے تعلق رکھنے والا یہ وفد تقریباً 17 افراد پر مشتمل تھا (بعض روایات میں "بضعۃ عشر" یعنی دس سے کچھ زائد کا ذکر ہے)۔[4][1][5] وفد کے نمایاں ارکان میں یہ شخصیات شامل تھیں:
میزبانی
[ترمیم]مدینہ آمد پر وفد کو انصار کی ایک معزز خاتون رملہ بنت الحارث کے مکان میں ٹھہرایا گیا، جو مدینہ آنے والے وفود کی میزبانی کے لیے مخصوص تھا۔[4][10] قیام کے دوران ارکانِ وفد کے لیے روزانہ صبح و شام کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا؛ کبھی روٹی گوشت، کبھی روٹی دودھ یا گھی کے ساتھ اور بعض اوقات کھجوریں پیش کی جاتیں۔[4]
بارگاہِ رسالت میں حاضری اور انعامات
[ترمیم]وفد کے ارکان نے مسجد نبوی میں حاضر ہو کر نبی کریم ﷺ کو سلام کیا اور اسلام قبول کرنے کی شہادت دی۔[4] قیام کے دوران وفد کے ایک رکن رجّال بن عنفوہ نے حضرت ابی بن کعب سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔[4][9] وفد نے اپنے ایک ساتھی مسیلمہ بن حبیب کو کجاووں اور سواریوں کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑا تھا۔[4]
روانگی کے وقت نبی کریم ﷺ نے ارکانِ وفد میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ اوقیہ چاندی بطور انعام عطا فرمائی۔[4][2][9] جب وفد نے عرض کیا کہ ان کا ایک ساتھی سامان کی نگرانی کے لیے پیچھے رہ گیا ہے تو آپ ﷺ نے اسے بھی برابر کا حصہ دلواتے ہوئے فرمایا کہ سامان کی حفاظت کرنے والے کا مرتبہ باقی وفد سے کم نہیں۔[4] بعد میں مسیلمہ نے تکبر کے باعث اس فرمان کا غلط مطلب یہ نکالا کہ نبی کریم ﷺ کو معلوم ہے کہ ان کے بعد اقتدار مجھے ملے گا۔[4]
گرجا گھر کا خاتمہ اور مسجد کی تعمیر
[ترمیم]واپسی پر نبی کریم ﷺ نے وفد کو ایک برتن میں اپنے وضو کا بچا ہوا بابرکت پانی عطا فرمایا اور ہدایت دی کہ وطن پہنچ کر وہاں موجود گرجا گھر (بیعہ) کو گرا کر اس جگہ یہ پانی چھڑکیں اور مسجد تعمیر کریں۔[4][1] بنو حنیفہ نے یمامہ پہنچ کر ایسا ہی کیا؛ وہ برتن اقعس بن مسلمہ کے پاس محفوظ رہا جبکہ طلق بن علی کو نئی مسجد کا مؤذن مقرر کیا گیا۔ روایت ہے کہ جب طلق نے پہلی اذان دی تو گرجا گھر کا پرانا راہب یہ کہتے ہوئے وہاں سے فرار ہو گیا کہ "یہ کلمۂ حق ہے" اور پھر کبھی دکھائی نہ دیا۔[4]
مسیلمہ بن حبیب کا معاملہ
[ترمیم]مسیلمہ بن حبیب کے عزائم آغاز ہی سے درست نہ تھے اور اس کے دل میں اقتدار کی شدید طمع پائی جاتی تھی۔[1][5] اس بارے میں کتبِ سیرت میں دو مختلف روایات ملتی ہیں۔
پہلی روایت: مسیلمہ کی نبی کریم ﷺ سے براہِ راست ملاقات
[ترمیم]صحیح بخاری کی روایت کے مطابق مسیلمہ نے مدینہ پہنچ کر یہ تجویز پیش کی کہ اگر نبی کریم ﷺ اپنے بعد اقتدار اس کے سپرد کر دیں تو وہ اسلام کی پیروی کرے گا۔[11][2] جب نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ حضرت ثابت بن قیس بن شماس کو ساتھ لے کر، ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ لیے، مسیلمہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اگر وہ یہ شاخ بھی مانگے تو نہیں دی جائے گی اور اگر اس نے پیٹھ پھیری تو اللہ اسے ہلاک کرے گا۔[11][1] آپ ﷺ نے اپنے اس خواب کی طرف اشارہ فرمایا جس میں آپ نے دو کنگن دیکھے تھے جن کی تعبیر آپ نے دو جھوٹے مدعیانِ نبوت — یمامہ کے مسیلمہ اور صنعاء کے اسود عنسی — سے کی تھی۔[2][1]
دوسری روایت
[ترمیم]بنو حنیفہ کے شیوخ کی روایت کے مطابق وفد کے ارکان مسیلمہ کو پڑاؤ پر چھوڑ کر خود بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تھے اور نبی کریم ﷺ کا وہ فرمان "لیس بشرکم مکانا" (وہ مقام کے لحاظ سے تم سے کم نہیں) دراصل اس کی امانت داری کے سبب تھا، نہ کہ نبوت میں شراکت کا اقرار۔[12][10] واپسی پر مسیلمہ نے اسی جملے کو توڑ مروڑ کر قوم کو یہ باور کرایا کہ نبی کریم ﷺ نے خود اسے نبوت میں شریک تسلیم کیا ہے۔[12][10]
خط کتابت
[ترمیم]مسیلمہ نے نبی کریم ﷺ کو خط لکھا جس میں دعویٰ کیا کہ اسے نبوت میں شریک کیا گیا ہے اور زمین کا نصف حصہ اس کا اور نصف قریش کا ہونا چاہیے۔[12][10] نبی کریم ﷺ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام متقین کے لیے ہے۔[12][10] جب مسیلمہ کے قاصد (جن میں ابن النواحہ شامل تھا) یہ خط لے کر آئے اور نبوتِ مسیلمہ کی گواہی دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر قاصدوں کے قتل کی ممانعت نہ ہوتی تو ان کی گردنیں اڑا دی جاتیں۔[12][2]
ارتداد اور فتنۂ رجّال بن عنفوہ
[ترمیم]یمامہ واپسی کے بعد مسیلمہ نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا اور قرآن مجید کی پیروڈی میں من گھڑت سجع فقرے گھڑ کر انھیں وحی قرار دیا، نیز شراب اور زنا کو حلال جبکہ فجر و عشا کی نمازیں معاف قرار دے دیں تاکہ لوگ اس کی طرف مائل ہوں۔[12][10] اس فتنے کو ہوا دینے میں رجّال بن عنفوہ کا کردار سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا، جو مدینہ میں قرآن سیکھنے کے باعث ایک معتبر شخص سمجھا جاتا تھا۔ اس نے یمامہ جا کر جھوٹی گواہی دی کہ نبی کریم ﷺ نے خود مسیلمہ کو نبوت میں شریک کیا ہے، جس کے نتیجے میں بنو حنیفہ کی بڑی تعداد گمراہ ہو کر مسیلمہ کی پیروکار بن گئی۔[12][2]
جنگِ یمامہ اور خاتمہ
[ترمیم]نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد بنو حنیفہ کی یہ سرکشی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں اس فتنے کو کچلنے کے لیے حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں لشکر روانہ کیا گیا۔[12][2] یہ معرکہ "جنگِ یمامہ" یا "جنگِ عقرباء" کہلاتا ہے اور اسلامی تاریخ کی خونریز ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جنگ میں مسیلمہ کذاب اور رجّال بن عنفوہ دونوں مارے گئے اور بنو حنیفہ کی ردت کا خاتمہ ہوا، تاہم اس معرکے میں سینکڑوں جلیل القدر صحابہ اور کثیر تعداد میں حفاظِ قرآن شہید ہوئے۔[12][2]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 ابن حجر عسقلانی (1959)۔ فتح الباري۔ بیروت: دار المعرفة۔ ج 8۔ ص 87
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 ابن سید الناس (1993)۔ عيون الأثر۔ بیروت: دار القلم۔ ج 2۔ ص 292
- ↑ رحمۃ للعالمین، قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری، صفحہ 174، مرکز الحرمین الاسلامی، فیصل آباد
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 ابن کثیر (2013)۔ البدایہ والنہایہ۔ دمشق-بیروت: دار ابن کثیر۔ ج 3۔ ص 505
- 1 2 3 4 5 محمد بن عبد الباقی الزرقانی (1996)۔ شرح الزرقاني على المواهب اللدنية۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 5۔ ص 146
- ↑ بخاری، کتاب المغازی، باب وفد بنی حنفیۃ و حدیث ثمامۃ بن أثال: 4372
- ↑ بخاری، کتاب المغازی، باب وفد بنی حنفیۃ و حدیث ثمامۃ بن أثال: 4372
- ↑ الرحیق المختوم، صفی الرحمن مبارکپوری، صفحہ 606، مکتبہ سلفیہ، لاہور
- 1 2 3 ابن قنفذ (1984)۔ نهاية الإيجاز في سيرة ساكن الحجاز۔ بیروت: دار الغرب الإسلامي۔ ج 1۔ ص 391
- 1 2 3 4 5 6 ابن قیم الجوزیہ (1998)۔ زاد المعاد في هدي خير العباد۔ بیروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 3۔ ص 534
- 1 2 وحید بن عبد السلام بالی (2003)۔ الأغصان الندية شرح الخلاصة البهية بترتيب أحداث السيرة النبوية۔ مصر: دار الفوائد۔ ج 1۔ ص 566
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 سلیمان بن موسى الكلاعي (2000)۔ الاكتفاء بما تضمنه من مغازي رسول الله والثلاثة الخلفاء۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 625
| ویکی ذخائر پر وفد بنو حنیفہ سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |