وفد بنورؤاس بن کلاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد بنو رؤاس بن کلاب
طارق بن علقمہ الرؤاسی کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص عمرو بن مالک بن قیس بن بجید بن رؤاس بن کلاب بن ربیع بن عامر بن صعصعہ تھا جو نبی اکرم کی خدمت میں حاضرہوا اور اسلام قبول کیاجب یہ واپس آئے تو قوم کو دعوت دی انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک اسلام میں داخل نہ ہوں گے جب تک بنی عقیل بن کعب پر حملہ کرکے اپنا بدلہ نہ لے لیں وہ اس ارادے سے نکلے جس میں عمرو بن مالک بھی تھے وہ ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مویشی ہنکاتے ہوئے واپس پلٹے اس دوران بنو عقیل کے ایک شخص جس کا نام ربیعہ بن المنتق بن عامر بن عقیل تھا اس نے انہیں پا لیا اس دوران عمرو بن مالک نے ربیعہ بن المنتق کو قتل کر دیااور بچ کر اپنے علاقے میں آ گئے۔ عمرو بن مالک اس پر پریشان تھے کہ میں اسلام بھی قبول کر چکا تھا اب مجھ سے قتل ہو گیا جب بارگاہ نبوی میں پہنچے تو سلام کیا جس پر رسول اللہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا میں داہنی طرف سے سلام کرنے گیا تو دوبارہ منہ پھیر لیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پروردگار کو راضی کیا جاتا ہے تو وہ راضی ہو جاتا ہے اللہ آپ سے راضی ہو اور آپ مجھ سے راضی ہو جائیں جواب میں رسولا للہ نے فرمایا میں تجھ سے راضی ہو گیا [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد حصہ دوم صفحہ 55، محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی