احمد صغیر صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پیدائش احمد صغیر صدیقی
20 اگست1938
بہرائچاتر پردیش ہندوستان
وفات 12 ستمبر 2017
امریکہ [1]
قومیت پاکستانی
مذہب اسلام

احمد صغیر اردو زبان کے ممتاز شاعر، نقاد اور افسانہ نگار تھے۔ وہ 20 اگست1938 کو بہرائچ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔تقسیم ہند کے بعد احمد صغیر پاکستان آگئے۔ کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ انہیں زرعی ترقیاتی بنک لمیٹڈ میں ملازمت مل گئی۔1994ء میں ڈپٹی ڈائرکٹر کے عہدے پر پہنچنے کے بعد انہوں نے اختیاری ریٹائرمنٹ لے لی۔ انہیں لکھنے کا شوق لڑکپن سے تھا۔ 1954ء سے انھوں نے باقاعدہ طور پر لکھنے کا آغاز کیا۔ ابتدا انھوں نے نظموں اور افسانے سے کی۔ دوران ملازمت بھی انھوں نے لکھنے پڑھنے کا شغل جاری رکھا۔ وہ ایک اچھے کہانی نویس، ادیب، نقاد اور شاعرہیں۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’کالی کہانیاں‘‘، ’’دنیا کی بہترین کہانیاں‘‘(ترجمہ چار مجموعے)، ’’بوجھو تو جانیں‘‘(منظوم پہیلیوں کی کتاب بچوں کے لیے) ، ’’گوشے اور اجالے‘‘(تنقید)، ’’اطراف‘‘ (شعری مجموعہ)۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "ممتازشاعر احمد صغیر صدیقی امریکہ میں انتقال کرگئے"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:333