ابو فکیہ

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

صحابی جن کا اصل نام یسار اور کنیت ابو فکیہ تھی۔ قبیلہ ازد سے تعلق تھا۔ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔

فہرست

[ترمیم] قبولِ اسلام

دعوتِ اسلام کی صدائے کفر شکن مکہ میں نئی نئی بلند ہوئی تھی کہ آپ مسلمان ہو گئے۔

[ترمیم] ظلم و ستم

حضرت بلال اور حضرت صہیب کی طرح ان پر بھی شدید مظالم کئے گئے۔ آتش خیز دوپہر میں ان کو تپتی ہوئی ریت پر منہ کے بل لٹا کر ایک بھاری پتھر رکھ دیا جاتا کہ جنبش نہ کر سکیں یہاں تک کہ آپ ان مظالم کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو جاتے۔

[ترمیم] غلامی سے آزادی

ایک بار آپ کے مالک صفوان بن امیہ نے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر ان کو جلتی ہوئی ریت پر ڈال دیا اور گلا گھونٹنے لگا کہ اتنے میں ان کا بھائی ابی بن خلف ادھر سے گذرا اور کہنے لگا اور مارو، چناچہ صفوان بن امیہ برابر مارتے رہے یہاں تک کہ ان کو بے جان سمجھ کر چھوڑ دیا۔
حضرت ابو بکر ادھر سے گذرے، ابو فکیہ کو اس حال میں دیکھ کر جی بھر آیا۔ صفوان بن امیہ سے فوراً خرید کر فی سبیل اللہ آزاد کر دیا۔

[ترمیم] ہجرت و وفات

آزادی کے بعد ہجرت ثانیہ کے موقع پر حبشہ چلے گئے۔ سخت ترین مصائب و آلام کرنے کی وجہ سے اعضاء میں اضمحلال پیدا ہو گیا تھا اس لیے زیادہ دنوں تک زندہ نہ رہ سکے اور غزرہ بدر سے پہلے ہی وفات پا گئے۔

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں