"ملا عمر" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
7 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← ہو گئے، مکتب فکر، ئے، غیر، سے، ہو گئی، دیے، سے، علما، \1 رہی، ایشیا، اس لیے، \1 رہے، امریکا، رہے \1، خود مختار
م (خانہ معلومات کے اندراج کی درستی)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← ہو گئے، مکتب فکر، ئے، غیر، سے، ہو گئی، دیے، سے، علما، \1 رہی، ایشیا، اس لیے، \1 رہے، امریکا، رہے \1، خود مختار)
 
== ابتدائی زندگی ==
ملا محمد عمر [[1959ء]] افغانستان کے جنوبی شہر [[قندھار]] میں پیداہوۓپیداہوئے تهے۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔وہ [[دیوبند]] مکتبہمکتب فکر سے تعلق رکھتے تهے۔ وہ ایک [[اسلام پسند]] [[پشتون]] تهے۔ پہلے وہ [[روس|روسی]] فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہتے تهے۔ ایک معرکے میں وہ زخمی ہوۓہوئے تهے اور انکی ایک آنکھہ ختم ہو گئی تهی ۔
 
== ذاتی زندگی ==
بحیثیت حکمران انھوں نے [[افغانستان]] میں امن ‍ قائم کیا۔ اور منشیات کا خاتمہ کیا۔ یہ وہ کام ہیں جو ان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکا۔ یاد رہے کہ [[طالبان]] [[کابل]] پر قبضے کے ایک سال بعد بامیان پر قبضہ کر پائے تھے۔
 
ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیۓ۔دیے۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔
 
ملا محمد عمر کی زندگی اور [[افغانستان]] کی سیاست میں [[1979ء]] کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہےاور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکہامریکا پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف [[افغانستان]] میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جس کا نام محمد عمر تھا-
 
== روس کی واپسی ==
 
== حلیہ اور شخصیت ==
ملا محمد عمر مقامی کسانوں کی بولی بولتے تهے- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے تهے- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کے لیے اپنے دوست [[اسامہ بن لادن]] کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہو گیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے۔[[افغانستان میں سوویت جنگ]] کے دوران روسیوں کیخلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی [[اوریا مقبول جان]] کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں [[چمن]] میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی،ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہورہیہو رہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے،وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے [[صوبہ کندہار]] سے شروع کیا۔
 
== اسامہ اور عمر ==
اگرچہ مغربی میڈیا اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی سیاست میں زیادہ تفریق نہیں کرتے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اسامہ بن لادن ذاتی طور پر مغربی ممالک کےخلاف لڑرہےچاہتےلڑ رہے چاہتے تھے جبکہ ملا محمد عمر نے عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے- انہوں نے اپنا پہلا غیرملکیغیر ملکی ریڈیو انٹرویو بی بی سی کی پشتو سروس کو 25 فروری 1998 کو دیا۔ ملا محمد عمر صرف ایک دفعہ افغانستان سے باہر گۓگئے ہیں- اور یہ واقعہ تب پیش آیا جب روسی افواج کے خلاف لڑتے وقت انکی ایک آنکھ میں چوٹ لگی تھی- اور انہیں پاکستان آنا پڑا جہاں عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا آپریشن کیا- وہ آج بھی صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔
 
افغانستان پر امریکہامریکا قبضے اور طالبان کے خاتمے کے بعد ملا عمر آج تک روپوش ہیں ان کے آڈیو بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ کہاں ہیں۔
 
==امریکہامریکا کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگ==
{{اس|افغانستان میں سوویت جنگ|جنگ افغانستان 2002ء|جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)}}1979ء جب [[سوویت اتحاد]] یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا،روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لیے روس ایک اور خودمختارخود مختار ملک افغانستان میں کھود پڑا، اسی بات نے پورے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کے لیے [[افغان مجاہدین|مجاہدین]] کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان،سعودی عرب،امریکہعرب،امریکا سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہوگئےہو گئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دیا جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ [[سویت اتحاد]] جو ایک عظیم ملک تک جو ایشیاءایشیا اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا،شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور تکڑے تکڑے ہو گیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں [[روس]]، [[ازبکستان]]، [[ترکمنستان]]، [[تاجکستان]]، [[آرمینیا]]،[[یوکرین]]، [[جارجیا]] وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں [[اسلامی امارت افغانستان]] قائم ہوا جس کو [[پاکستان]] اور [[سعودی عرب]] نے کھل کر تسلیم کیا۔
 
اس کے بعد [[سانحہ گیارہ ستمبر]] (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکہامریکا نے [[اسامہ بن لادن]] پر لگایا۔اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی ، یاد رہے کہ اس وقت [[اسلامی امارت افغانستان]] کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکہامریکا نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہامریکا کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور [[پشتونوالی|پشتون روایات]] کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علماءعلما کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علماءعلما نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہر گز اس کو دشمن کے ہاتھوں حوالے مت کرنا۔
 
اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکہامریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکہامریکا نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہوگئی۔امریکہہو گئی۔امریکا کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرف [[اسلامی امارت افغانستان]] کے پاس اتنے وسائل اسلئےاس لیے نہیں تھے کیونکہ امریکہامریکا کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکہامریکا کیخلاف [[اسلامی امارت افغانستان]] کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہوگئیہو گئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ [[جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)|امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ]] 2001 میں شروع ہوئی تھی اور تاحال جاری ہے۔
 
=== جنگ سے قبل خطاب ===
107,281

ترامیم

فہرست رہنمائی