امام مہدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
امام مہدی
مہدی، القائم، المنتظم، صاحب الزمان
معظم در اسلام
علامات قبل از خروج دجال، عبداللہ سفیانی کا ظہور، بغداد اور بصرہ کی تباہی، رمضان میں بے ترتیب چاند گرہن، آسمان سے ہیبت ناک چیخ، ماہ ذوالحج، یوم الحج
نسب محمد یا احمد بن عبداللہ، حسنی سادات

اہل سنت کے بیشتر مکاتب فکر و علماء اور اہل تشیع کے نزدیک قیامت سے قبل امام مہدی کی آمد یقینی سمجھی جاتی ہے، تاہم اہل سنت اور اہل تشیع میں اس موضوع پر نظریاتی اختلافات ہیں۔

اہل سنت[ترمیم]

امام مہدی امت میں ایک امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ اہل سنت کے ہاں معصوم ذات صرف انبیائے کرامؑ کی ذات ہے۔ امام مہدی عادل کا درجہ رکھتے ہیں۔

نام و لقب[ترمیم]

محمد یا احمد جبکہ مہدی ان کا نام نہیں، لقب ہے، بمعنی ہدایت یافتہ۔ مکمل باادب نام بمع لقب "سیدنا حضرت امام مہدی علیہ السلام" ہے۔

شجرہ نسب[ترمیم]

امام مہدی حسنی سادات میں سے ہوں گے۔ ان کا نام نامی محمد یا احمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔[1][2]

تمام شیعہ اور بعض علما ء اہل سنت کے نزدیک امام مہدی امام حسن عسکری علیہ السلام کے ذریعے امام علی (ع)کی اولاد میں سے ہیں یعنی مہدی بن حسن العسکری بن علی نقی بن محمد تقی بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقربن علی زین العابدین بن حسین بن علی علیہھم السلام اجمعین

آپ کی والدہ گرامی کہ جس کو مختلف ناموں سے یا دکیا جاتاہے حضرت نرجس خاتون ہیں کہ جنہیں ریحانہ اورسوسن بھی کہاگیا ہے . شیخ صدوق نے غیاث سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا امام حسن عسکری کا جانشین جمعہ کے دن پیدا ہوا اس کی والدہ ریحانہ تھیں کہ جنہیں نرجس ،صیقل اور سوسن بھی کہاجاتا تھا ۔۔۔کمال الدین وتمام النعمۃ ،ص٤٣٢

علامہ سید برزنجنی فرماتے ہیں:

مجھے ان کی والدہ کے نام کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں ملی۔ البتہ بعض حضرات نے والدہ کا نام آمنہ تحریر کیا ہے۔

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:

مہدی میرے خاندان میں سے حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے۔

[3]

حضرت ابو اسحٰق ؒ کہتے ہیں کہ:

حضرت علی نے اپنے صاحبزادے حضرت حسن کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا بیٹا جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا، سردار ہے۔ عنقریب اسکی پشت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا، وہ اخلاق و عادات میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہ ہوگا، ظاہری شکل و صورت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہ نہ ہوگا۔ پھر حضرت علی نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینے کا واقعہ بیان فرمایا۔

[4]

حضرت مہدی والد کی طرف سے حضرت حسن کی اولاد سے اور والدہ کی طرف سے حضرت حسین کی اولاد میں سے ہوں گے۔[5]

امام مہدی کا حلیہ و صفات[ترمیم]

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا:

مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے، روشن و کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے۔ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح سے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی، وہ سات برس تک زمین پر برسر اقتدار رہیں گے۔

[6]

یعنی امت کو ان کے دور میں جن امور کی ضرورت ہوگی اور جو چیزیں اس کی کامیابی اور برتری کے لیے ضروری ہوں گی اور پوری روئے زمین کے مسلمان بے تحاشا قربانیاں دینے کے باوجود محض ان چند چیزوں کے نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو رہے ہوں گے۔

  • حضرت مہدی کو قدرتی طور پر انکا ادراک ہوگا۔
  • وہ ان کوتاہیوں کی تلافی اور ان چند مطلوبہ صفات کو با آسانی اپنا کر امت کے لیے مثالی کردار ادا کریں گے۔
  • چند سالوں میں وہ سب کچھ کرلیں گے جو صدیوں سے مسلمانوں سے بن نہ پڑ رہا ہوگا۔
  • وہ پہلے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔
  • عام انسانوں کی طرح پیدا ہوں گے۔
  • 40 سال کی عمر میں امت مسلمہ ان کو اپنا قائد بنائے گی۔
  • انکے ہاتھ پر بیعت کرکے کفر کے برپا کردہ مظالم کے خلاف وہ عظیم جہاد شروع کرے گی جس کا اختتام عالمی خلافت اسلامی کے قیام پر ہوگا۔

حضرت امام مہدی کا حاضرانہ تعارف[ترمیم]

دعوائے مہدویت اور حقیقی مہدویت میں آگ اور پانی کا تضاد ہے۔

حسنی سادات[ترمیم]

مہدویت ایک روحانی منصب ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے:

تصوف کے میدان میں مدعی کی سزا پھانسی ہے۔

حسنی سادات کو ظہور مہدی کا انعام ملا ہی اس لیے ہے کہ وہ اپنے جائز دعوے اور حق سے دستبردار ہوگئے تھے اب سچے مہدی کیلئے دعوے کے ذریعے یہ عظیم منصب انہیں حال ہوگا. تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ نواسئہ رسول ؐ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے تھے اور محض مسلمانوں میں صلح اور اتفاق کی خاطر اپنا یہ جائز حق چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بدلے جب آخر زمانے میں امت کو اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہوگی تو اللہ پاک انہی کی اولاد میں سے ایک مجاہد لیڈر عالمی سطح پر خلافت کے قیام کیلئے منتخب فرمائیں گے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر کوئی چیز چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو یا اس کی اولاد کو اس سے بہتر چیز عنایت فرما دیتےہیں۔ چنانچہ محدود علاقے میں خلافت چھوڑنے کے بدلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو عالمی خلافت کا انعام ملے گا۔

  • جس طرح پیغمبر حضرت اسحٰقؑ کی اولاد سے بہت سے انبیائے کرامؑ آئے اور حضرت اسماعیلؑ کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک نبی بھیجے جو "خاتم الانبیاء" تھے۔ اس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی نسل سے بہت سے اولیاء آئے جبکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ایک ہی بہت بڑے ولی آئیں گے جو "خاتم الاولیاء" ہونگے۔[7][8]

سچے امام مہدی کی علامات[ترمیم]

  • حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو یہ صلاحیت عطا فرمادے گا۔

[9][10]

اس حدیث کی شرح میں شیخ عبدالغنی دہلوی فرماتے ہیں:

  • یعنی اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں اچانک ان کو امارت اور خلافت کی یہ صلاحیت عطا فرما دے گا۔[11]

علامہ ابن کثیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل و توفیق سے سرفراز فرما کر پہلے انہیں (حقیقت کا) الہام کریں گےاور اس مقام سے آشنا کریں گے جس سے وہ پہلے ناواقف تھے۔[12]

مولانا بدرعالم میرٹھی فرماتے ہیں:

  • ایک عمیق حقیقت اس سے حل ہوجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں پر بعض ضعیف الایمان قلوب میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب حضرت مہدی ایسی کھلی ہوئی شہرت رکھتے ہیں تو پھر انکا تعارف عوام و خواص میں کیسے مخفی رہ سکتا ہے؟ اس لیئے مصائب و آلام کے وقت ان کے ظہور کا انتطار معقول معلوم نہیں ہوتاہے لیکن اس لفظ (یصلحہ اللہ فی لیلۃٍ) نے یہ حل کردیا کہ یہ صفات خواہ کتنے ہی اشخاص کیوں نہ ہوں، لیکن انکے وہ باطنی تصرفات اور روحانیت مشیت الہٰیہ کے ماتحت اوجھل رکھی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب انکے ظہور کا وقت کا قریب آئے گا تو ایک ہی شب میں انکے اندر اندر ان کی اندرونی خصوصیات منظر عام پر آجائیں گی۔ گویا یہ بھی ایک کرشمہ قدرت کا ہوگا کہ ان کے ظہور کے وقت سے قبل کوئی شخصیت ان کو پہچان نہ سکے گی اور جب وقت آئے گا تو قدرت الہٰیہ شب بھر میں وہ تمام صلاحیتیں ان میں پیدا کرد گی جنکے بعد انکا مہدی ہونا خود ان پر اور تمام دنیا پر بھی منکشف ہوجائے گا۔

[13]

درج بالا حدیث و اقوال کی روشنی میں یہ باتیں واضح ہوتیں ہیں:

  1. امام مهدی اس وقت پرده غیبت میں ھیں
  2. جھوٹے مہدی کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ خود مہدی ہونے کا دعویٰ کرے۔
  3. امام مہدی کو بڑی صلاحتیں اللہ تعالیٰ اسی ایک رات کو عنایت کرے گا۔

امام مہدی کا ظہور[ترمیم]

امام مہدی کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب امت کو شدید مشکلات سے دو چار ہوگی اور ہر طرف مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا چکا ہوگا۔ چنانچہ انکے ظہور کے وقت کی علامات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان کی ہیں۔

مسلم ممالک کی اقتصادی ناکہ بندی[ترمیم]

حضرت جابربن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا:

وہ وقت قریب ہے جب عراق والوں کے پاس روپے اور غلہ آنے پر پابندی لگادی جائے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ پابندی کس کی جانب سے ہوگی؟ تو انہوں سے فرمایا عجمیوں(غیر عرب) کی جانب سے۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ وہ وقت قریب ہے کہ جب اہل شام پر بھی یہ پابندی لگادی جائے گی۔ پوچھا گیا کہ یہ روکاوٹ کس کی جانب سے ہوگی؟ فرمایا اہل روم(مغرب والوں) کی جانب سے۔ پھر فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لپ بھر بھر کے دیگااور شمار نہیں کرے گا نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا جس طرح کے ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی حتیٰ کہ ایمان صرف مدینہ میں رہ جائے گا پھر آپ نے فرمایا کہ مدینہ سے جب بھی کوئی بے رغبتی کی بنا پر نکل جائے گا تو اللہ اس سے بہتر کو وہاں آباد کر دے گا۔ کچھ لوگ سنیں گے کہ فلاں جگہ پر ارزانی اور باغ و زراعت کی فراوانی ہے تو مدینہ چھوڑ کر وہاں چلے جائیں گے۔ حالانکہ ان کے واسطے مدینہ ہی بہتر تھا کہ وہ اس بات کو جانتے نہیں۔

[14]

حضرت ابوصالح تابعیؒ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ :

مصر پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

[15]

عرب کی بحری ناکہ بندی[ترمیم]

حضرت کعب سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ:

  • مشرقی سمندر دور ہوجائے گا اور اس میں کوئی کشتی بھی نہ چل سکے گی، چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی میں نہ جا پائیں گےاور یہ جنگ عظیم کے وقت میں ہوگا، اور جنگ عظیم حضرت مہدی کے وقت میں ہوگی۔

مشرقی سمندر سے یہاں (بحر عرب) مراد ہے، دور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس تک پہنچنا دشوارہوجائے گا، جسکی وجہ سے وہاں آمدو رفت بند ہوجائے گی۔

حج کے موقع پر منیٰ میں قتل عام[ترمیم]

حضرت عمروابن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

ذی قعدہ کے مہینے میں قبائل کے درمیان کشمکش اور معاہدہ شکنی ہوگی چنانچہ حاجیوں کو لوٹا جائے گا اور منیٰ میں جنگ ہوگی۔ بہت زیادہ قتل عام اور خون خرابہ ہوگا یہاں تک کہ عقبہ جمرہ پر بھی خون بہ رہا ہوگا۔ نوبت یہاں تک آئے گی کہ حرم والا (حضرت مہدی) بھی بھاگ جائیں گے اور (بھاگ کر) وہ رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان آئینگے اور انکے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی۔ اگر چہ وہ (حضرت مہدی) اس کو پسند نہیں کررہے ہوں گے۔ ان سے کہا جائے گا کہ اگر آپ نے بیعت لینے سے انکار کیا تو ہم آپ کی گردن اڑا دیں گے۔ پھر بیعت کریں گے، بیعت کرنے والوں کی تعداد اہل بدر کے برابر ہوگی۔ ان (بیعت کرنے والوں سے زمین و آسمان والے خوش ہوں گے۔[16]

مستدرک کی دوسری روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو فرماتے ہیں کہ:

جب لوگ بھاگے بھاگے حضرت مہدی کے پاس آئیں گے تو اس وقت حضرت مہدی کعبہ سے لپٹے ہوئے رورہے ہوں گے۔ (حضرت عبداللہ ابن عمرو فرماتے ہیں) گویا میں انکے آنسو دیکھ رہا ہوں۔ چنانچہ لوگ (حضرت مہدی سے کہیں گے) آیئے ہم آپکے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ وہ(حضرت مہدی) کہیں گے افسوس! تم کتنے ہی معاہدوں کو توڑ چکے ہو، اور کس قدر خون خرابہ کرچکے ہو، اسکے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی وہ بیعت کرلیں گے۔ (حضرت عبداللہ ابن عمرو) نے فرمایا (ائے لوگو!) جب تم انہیں پالو تو تم انکے ہاتھ پہر بیعت کرلینا کیونکہ وہ دنیا میں بھی "مہدی ہیں اور آسمان میں بھی مہدی ہیں"۔

امام مہدی کا تصور اسلام میں احادیث کی بنیادوں پر امت مسلمہ اور تمام دنیا کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پایا جاتا ہے؛ اور سنیوں میں ان کے آخرت یا قرب قیامت کے نزدیک نازل ہونے کے بارے میں متعدد روایات پائی جاتی ہیں جبکہ شیعوں کے نزدیک حضرت امام مہدی ، امام حسن عسکری کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آخری امام ہیں۔ حضرت امام مہدی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم [حوالہ درکار]

وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں

[حوالہ درکار]

اگرچہ اس بات میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف ہے کہ آیا وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کرکے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں بھی ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی  ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی تفصیل حدیث میں موجود ہے پھر بھی اب تک مہدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔ سچے مہدی کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا دعوی کریں گے نہ اعلان۔

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ [17][18]

امام مہدی کا وجود[ترمیم]

امام مہدی کا تصور اسلام سے پہلے بھی قدیم کتب میں ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، عیسائی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں ایک انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ یہ تصور مسلمانوں میں اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ امام مہدی کے وجود کے بارے میں اسلامی کتب میں صراحت سے احادیث ملتی ہیں جو حد تواتر تک پہونچتی ہیں۔

عقیدہ اہل سنت[ترمیم]

اہل سنت کے علماء کے مطابق امام مہدی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے ہوں گے۔ ان کا نام محمد ہوگا اور کنیت ابو القاسم ہوگی۔ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے مگر پیدا ہونے کے بعد وہ باقاعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر کفار و مشرکین سے جنگ کریں گے اور ایک اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ ان کی پیدائش قیامت کے نزدیک ہوگی۔ اور ان کا ظہور مشرق سے ہوگا اور بعض روایات کے مطابق مکہ سے ہوگا۔ ان کے ظہور کی نشانیاں بھی کثرت سے بیان کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل احادیث اہل سنت کی کتب میں موجود ہیں۔ جن پر شیعہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔

  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میرے اہل بیت سے ہیں۔ [19]
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی، فاطمہ (علیہا السلام) کی نسل سے ہیں۔ [20] ۔ [21] ۔ [22]
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میرے خاندان سے ہیں۔ وہ انقلاب لائیں گے۔ اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی۔ [23]۔ [24]

اس کے علاوہ بے شمار احادیث ہیں۔ اس بارے میں ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ یہ روایات مصدقہ ہیں۔ [25]

عقیدہ اہل تشیع[ترمیم]

شیعہ حضرات اہل سنت کی کچھ روایات سے اتفاق کرتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوچکے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی کی نسل سے ہیں ۔ وہ اب غیبت کبرٰی میں ہیں اور زندہ ہیں یعنی ان کی عمر حضرت خضر علیہ السلام کی طرح بہت لمبی ہے۔ وہ قیامت کے نزدیک ظاہر ہونگے۔

انکار مہدی کفر ہے[ترمیم]

خداوند متعال نے قرآن کریم میں واضح کردیا ہے کہ خدا کی اطاعت واجب ہے اور رسول خدا (ع) کی اطاعت بھی واجب ہے اور جس طرح کہ خدا کی اطاعت سے سرتابی حرام ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت سے سرتابی بھی حرام ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت خداوند متعال اپنی اطاعت کے ساتھ ہی فرض فرمائی ہے جیسا که ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا آَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۔ الحشر / 7 ۔[26] اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمہیں عطا کریں لے لو اور جن چیزوں سے آپ (ص) تمہیں روکتے ہیں ان سے اجتناب کرو اور وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۔ التغابن / 12 [27] اور خدا کے فرمانبردار ہوجاؤ اور رسول خدا (صلی الله علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرو۔

"" قال رسول الله(ص)"" «من انکر المهدی فقد کفر» یہ حدیث شیعہ اور سنی مکاتب کی مشہورترین اور معتبرترین حدیث ہے۔[28]

«عن جابر بن عبد الله رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم: "من کذب بالدجال فقد کفر، ومن کذب بالمهدی فقد کفر" ۔(عقد الدرر فی اخبار المنتظر ، ج1 ، ص36 ۔) [29] جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہے۔

من انکر خروج المهدی فقد کفر ۔ (فرائد السمطین ، ج2 ، ص334 ۔) [30] جس نے قیام مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہؤا۔

عن جابر رضی الله عنه رفعه من أنکر خروج المهدى فقد کفر بما انزل على محمد ۔ ( لسان المیزان ، ابن حجر ، ج 5 ، ص 130۔) [31] جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت مرفوعہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم نے فرمایا: جس نے قیام مہدی (عج) کا انکار کیا وه ان تمام چیزوں پر کافر ہؤا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی ہیں۔

امام مہدی کے بارے[ترمیم]

قرآن کریم میں[ترمیم]

حضرت مہدی (ع) کا نام صریحا قرآن میں ذکر نہیں ہوا ہے اور نام پر عدم تصریح مصلحتوں پر استوار ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہیں؛ تاہم جان لینا چاہئے کہ نام ذکر کرنا شخصیات کے تعارف کا ذریعہ نہیں ہے اور صفات و خصوصیات سے بھی تعارف کرایا جاسکتا ہے؛ چنانچہ امام مہدی (ع) کو صفات و خصوصیات کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے-[32] قرآن میں حضرت مہدی (ع) کو بعض خصوصیات اور صفات کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے

خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: {وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ}- "اور ہم نے ذکر (تورات) کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ اس آیت میں زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے"-[33]

حافظ سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی امام باقر اور امام صادق (علیہما السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ "اس آیت میں خدا کے صالح بندوں سے مراد مہدی (عج) اور ان کے اصحاب ہیں"[34]

نجات دہندہ کی آنے کا بیان بہت سی قرآنی آیات میں موجود ہے مثلا سورہ قصص کی پانچویں آیت میں ارشاد باری تعالی ہے: وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ۔ القصص / 5 ۔[35] اور ہم نے ارادہ کیا کہ ان ضعیف اور ماتحت بنائے جانے والے انسانوں کو روئے زمین کے پیشوا بنا دیں اور انہیں زمین کے وارث قرار دیں۔

کتب احادیث[ترمیم]

احادیث کی کتب میں تواتر کے علاوہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں کئی مشہور علماء نے مکمل کتب تحریر کی ہیں، جن کا تعلق اہل سنت کے مختلف مکتبہ فکر سے ہے۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

  • کتاب المہدي از امام ابو داؤد
  • علامات المہدي از جلال الدین السیوطی
  • القول المختصر في علامات المہدي المنتظر از ابن حجر
  • |البيان في اخبار صاحب الزمان از علامہ ابو عبداللہ ابن محمد یوسف الشافعی
  • مہدي آل رسول از علی ابن سلطان محمد الہراوی الحنفی

کتب اہل سنت[ترمیم]

شیعوں کی طرح اہل سنت کی کتابوں میں بھی بہت سی روایات امام مہدی کے بارے میں نقل کی گئی ہیں حتی کہ بعض اہل سنت کے مصنفین نے مستقل کتابیں امام مہدی کے بارے میں لکھی ہیںجس سے وہ اعتراض بھی دور ہوجاتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ یہ عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مخصوص ہے.

1ـ ابراز الوهم المكنون من كلام ابن خلدون ، ابوالفيض سيد احمدبن محمد بن صديق غمارى ، شافعى ، ازهرى ، مغربى ، (متوفی1380 ) مطبعہ ترقى دمشق 1347 ۔

2ـ ابراز الوهم من كلام ابن حزم ، احمدبن صديق غمارى مؤلف قبل ، مطبوعة 1347 مطبعة ترقى دمشق۔

3ـ الاحتجاج بالاثر على من انكر المهدى المنتظر ، جامعہ مدینہ کے استاد شيخ حمّود بن عبداللّہ تويجرى ، یہ کتاب شيخ ابن محمود قاضى قطری کی کتاب کے جواب میں تحریر ہوئی ہے ۔ جلد اول 1394 و جلد دوئم 1396 رياض ۔ سعودی عرب۔

4ـ الى مشيخة الازهر ، شيخ عبداللّه سبيتى عراقى ۔ یہ کتاب سعد محمد حسن « المهدوية فى الاسلام» کی جواب میں تحریر ہوئی ہے۔ مطبوعہ 1375 ہـ دارالحديث بغداد۔

5ـ تحديق النظر فى أخبار الامام المنتظر ، ابن خلدون کے دعؤوں کے جواب میں شيخ محمد عبدالعزيز بن مانع نے لکھے اور 1385 ہجری کو شائع ہوئی ہے۔

6ـ الرد على من كذّب بالاحاديث الصحيحة الواردة فى المهدى ، جامعہ اسلامی مدینہ منورہ کے استاد اور اس کے تعلیمی بورڈ کے رکن عبدالمحسن العباد ، نے لکھی ہے اور اسی جامعہ کے رسالہ شمارہ 45 ص 297 ــ 328 و شمارہ 46 ص 361 ــ 383 ، میں چھپی ہے۔

7ـ الوهم المكنون فى الردّ على ابن خلدون ، ابوالعباس بن عبدالمؤمن، مغربى۔

اردو کتب[ترمیم]

  • امام مہدی کے بارے احادیث نبوی کا ذخیرہ مع تحقیق و تخریج (عربی، اردو) از ڈاکٹر محمد طاہرالقادری[36]
  • رضوان اللہ علیہ از سید بدر عالم میرٹھی[37]
  • اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد ظفر اقبال[38]
  • از مولانا حسین احمد مدنی[39]
  • علاماتِ قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام از مفتی محمد شفیع[40]

حالات[ترمیم]

ولادت[ترمیم]

ولادت کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے مطابق امام مہدی کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اور یہ پیدائش آخری زمانے میں قیامت سے کچھ پہلے ہوگی۔ البتہ ان کا تعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی کی نسل سے ہوگا۔ ان کا نام محمد ہوگا۔ اور کنیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ابو القاسم ہوگی۔

اہل تشیع کے عقائد کے مطابق وہ 15 شعبان 256 ہجری کو سامراء (موجودہ عراق) میں پیدا ہوئے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور والدہ کا نام نرجس یا ملیکہ تھا جو قیصرِ روم کی نسل سے تھیں۔ ان کی پیدائش سے پہلے حاکم وقت نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا اس لیے ان کی پیدائش کا زیادہ چرچا نہیں کیا گیا۔ حاکم وقت نے ان احادیث کو سن رکھا تھا کہ اہل بیت سے بارہ امام ہوں گے جن میں سے آخری امام مہدی علیہ السلام ہوں گے جو حکومت قائم کریں گے۔ تمام اسلامی فرقے متفق ہیں کہ ان کا نام محمد اور کنیت ابو القاسم ہوگی۔

القاب و خطابات[ترمیم]

حوالوں میں دی گئی قدیم کتب میں ان کے کئی القاب ملتے ہیں۔ جن میں سے مہدی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کا اصل نام محمد ہے مگر مہدی اس قدر مشہور ہے کہ اسے ہی ان کے نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے القاب و خطابات یہ ہیں:

  • مہدی : ہدایت پائے ہوئے۔
  • القائم : کھڑا ہونے والا۔ یہ لقب اوپر دی گئی حدیث میں ہے جس میں ان کے بارے میں یہ لقب استعمال کیا گیا ہے۔
  • المنتظر : جن کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
  • صاحب الزمان : اہل تشیع کے مطابق وہ زمانے کے امام ہیں۔
  • امام عصر یا امامِ زمانہ : یہ بھی صاحب الزمان کے ہم معنی ہے۔

غیبت[ترمیم]

اہل تشیع کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی پیدا ہوچکے ہیں۔ وہ پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے مگر اپنے عمال یا نائبین کے ساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں۔ غیبتِ صغرٰی کے دوران وہ اپنے معاملات اپنے نائبین کے ذریعے چلاتے رہے۔ ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ 260ھ سے 329ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے جسے غیبت کبرٰی کہتے ہیں اس دوران انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق آخرالزمان یا قیامت کے قریب ہوگا۔ تب تک نیک علماء لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

علامات ظہور[ترمیم]

امام مہدی کے ظہور کی بے شمار علامات کتب اہل سنت اور اہل تشیع دونوں میں ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض پوری بھی ہو چکی ہیں۔ ان علامات میں سے کچھ حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی۔ حتمی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن کا بروایت پورا ہونا ضروری ہے۔ کچھ ان کے ظہور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہوں گی اور کچھ ظہور کے نزدیک۔ یہاں ان میں سے کچھ درج کی جاتی ہیں۔

  • سب سے مشہور علامت دجال کا خروج ہے۔ جسے مغربی مفکرین ضد مسیح (Antichrist) کہتے ہیں۔ یہ ذکر تورات میں بھی ملتا ہے۔ [41]
  • سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق واقع ہونا۔
  • قواعد علم نجوم و فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور پندرہ کو سورج گرہن لگے گا۔ [42]
  • سفیانی کا خروج۔ یہ ابو سفیان کی اولاد سے ایک شخص ہوگا اور ماں کی طرف سے بنو کلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا۔ اس کا پورا لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔ بیداء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ [43][44][45]
  • مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا۔ [46](یہ نشانی صحابہ کے زمانہ میں پوری ہوچکی)
  • بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا۔ اور عراق پر روپے اور غلہ کی پابندی لگنا۔ [46][47]

ظہور کے بعد[ترمیم]

  • امام مہدی کا ظہور مکہ مکرمہ سے ہوگا اور لوگ رکن و مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کریں گے۔ [47]
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور وہ امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ [47][48][49]
  • دجال کا قتل ہوگا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔ [47]

بیرونی روابط[ترمیم]

متعلقہ مضامین[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ، حدیث نمبر : 6950
  2. ^ الدانی، السنن الواردۃ فی الفتن، باب ماجاء فی المہدی : 558،557
  3. ^ ابی داؤد، حدیث نمبر : 4284
  4. ^ ابو داؤد، حدیث نمبر : 4285
  5. ^ عون المعبو، شرح ابوداؤد، کتاب المہدی
  6. ^ ابوداؤد شریف
  7. ^ مرقاۃ المفاتیح : 147/10، از ملا علی قاری
  8. ^ التعلیق الصبیح : 197/6، مولانا ادریس کاندھلوی
  9. ^ ابن ماجہ کتاب الفتن، باب خروج المہدی، حدیث نمبر : 4085
  10. ^ مسند احمد، مسند عشرہ مبشرہ بالجنہ، مسند علی ابن طالب رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر :645
  11. ^ انجاح الحاجۃ علی ھامش ابن ماجہ، : 310/4
  12. ^ النھایۃ فی الفتن والملاحم : 131/1
  13. ^ ترجمان السنۃ : 404/4
  14. ^ روایت مسلم شریف،ج 4، صفحہ نمبر : 406
  15. ^ ابوداؤد، حدیث نمبر : 3035
  16. ^ الصحیحین، ج :4، صفحہ نمبر: 549، سند منقطع روایت
  17. ^ صحیح ترمذی ۔ جلد 2 صفحہ 86
  18. ^ سنن ابی داود۔ جلد 2 صفحہ 7
  19. ^ سنن ابن ماجہ۔ جلد 2 حدیث نمبر 4085
  20. ^ سنن ابن ماجہ۔ جلد 2 حدیث نمبر 4086
  21. ^ النسائی اور البیہقی
  22. ^ الصواعق المحرقہ از ابن الحجر الہیثمی باب 11
  23. ^ مسند احمد بن حنبل جلد 1
  24. ^ مقدمہ از ابن خلدون
  25. ^ منہاج السنۃ ۔ جلد چہارم از ابن تیمیہ
  26. ^ http://tanzil.net/#59:7
  27. ^ http://tanzil.net/#64:12
  28. ^ http://alhassanain.org/urdu/?com=content&id=867
  29. ^ عقد الدرر فی اخبار المنتظر ، ج1 ، ص36 ۔
  30. ^ فرائد السمطین ، ج2 ، ص334 ۔
  31. ^ لسان المیزان ، ابن حجر ، ج 5 ، ص 130۔
  32. ^ http://alhassanain.org/urdu/?com=content&id=1167
  33. ^ http://tanzil.net/#21:105
  34. ^ ینابیع المودہ ـ ج 3 ص 243- عقد الدرر مقدس شافعی، باب 7، ص 217-
  35. ^ http://tanzil.net/#28:5
  36. ^ القول المعتبر فی الامام المنتظر امام مہدی کے بارے احادیث نبوی کا ذخیرہ مع تحقیق و تخریج (عربی، اردو) از ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
  37. ^ الامام المہدی رضوان اللہ علیہ از سید بدر عالم میرٹھی
  38. ^ اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد ظفر اقبال
  39. ^ الخليفة المهدي في الاحاديث الصحيحة از مولانا حسین احمد مدنی
  40. ^ علامات قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام از مفتی محمد شفیع
  41. ^ صحیح مسلم۔ حدیث 7039
  42. ^ اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد یوسف۔ جامعہ اشرفیہ از حوالہ ابن حجر مکی
  43. ^ کتاب الفتن صفحہ 190
  44. ^ اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد یوسف۔ جامعہ اشرفیہ
  45. ^ سنن ابو داود۔ جلد 2 صفحہ 589
  46. ^ 46.0 46.1 مستدرک الحاکم جلد 4 صفحہ 456
  47. ^ 47.0 47.1 47.2 47.3 الخليفة المهدي في الاحاديث الصحيحة از سید حسین احمد مدنی۔
  48. ^ صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 490
  49. ^ صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 87