امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مشاہیر کے ارشادات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
مھدی
مکمل نام محمد ابن حسن
ترتیب آخری امام - بارہواں
تاریخ ولادت 15 شعبان، 255 ہجری
لقب مہدی
کنیت ابو القاسم
والد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
والدہ بی بی نرجس

حضرت خاتم النبین محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

حضرت کی زبان مبارک سے احادیث سے ا س کثرت سے اس موضوع پر وارد ہوئے ہیں کہ صحابی ومسانید ان سے معمور ہیںا ور اقتدار اور متعدد علمائے اہلسنت نے اُن کو مستقل تصانیف میں جمع کیا ہے جیسے حافظ محمد بن یوسف کنجی شافعی نے البیان فی اخبار صاحب الزمان میں حافظ ابو نعیم اصفہانی نے ذکر » لغت المہدی « اس کے علاوہ ابو داؤد سجستانی نے اپنے سنن میں جس کا صحاح ستہ میں شمارہوتا ہے کتاب»المہدی«کا مستقل عنوان قائم کیا ہے اس طرح ترمذی نے صحیح میں اور ابن ماجہ قزدینی نے اپنی کتاب »سنن«میں اور حاکم# تے »مستدرک « میں بھی ان احادیث کو وارد کیا ہے. صرف ایک حدیث یہاں درج کی جاتی ہے جسے محمد بن ابراہیم حموی شافعی نے اپنی کتاب فرائد السمطین میں درج کی اہے , ابن عباس رض نے روایت کی حضرت رسول خدا نے فرمایا اناسیدالنبین وعلی سید الوصین وامااوصیائی بعدی اثناعشرا و لھم علی واخرھم المھدی .» میں انبیا کاسردار ہوں اور علی علیہ السّلام اوصیا کے سردار ہیں . میرے اوصیا (قائم مقام ) میرے بعد بارہ ہوں گے جن میں میں اوّل علی علیہ السّلام ہیں اور آخری »مہدی« ہوں گے ,, . حضرت سیدة النسائ فاطمہ اسلام الله علیہاکافی کلینی میں جابر بن اعبدالله انصاری کی روایت ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا علیہ السّلام کے پاس ایک لوح تھی جس میںتمام اوصیائ ائمہ کے نام درج تھے , جناب سیّدہ علیہ السّلام نے ا س لوح سے بارہ اماموں کے ناموں کی خبر دی جن میں تین محمد اور چار علی , ان کاا خری فرد آپ کی اولاد میں سے وہ ذات ہے جو قائم ہوگا

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ [1] [2]

اس کے علاوہ بے شمار میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں۔

  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مھدی میرے اھل بیت سے ہیں۔ [3]
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مھدی فاطمہ (علیہا السلام) کی نسل سے ہیں۔ [4] ۔ [5] ۔ [6]
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مھدی میرے خاندان سے ہیں۔ وہ انقلاب لائیں گے۔ اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی۔ [7]۔ [8]

اس کے علاوہ بے شمار احادیث ہیں۔ اس بارے میں ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ یہ روایات مصدقہ ہیں۔ [9]


حضرت امیرالمومنین علی علیہ السّلام بن ابی طالب علیہ السّلام

جناب شیخ صدوق محمدرض بن علی بن بابویہ قمی نے » اکمال الدین,, میں امام رضا علیہ السّلام کی حدیث آپ کے ابائے طاہرین کے ذریعہ سے نقل کی ہے کہ جناب امیر علیہ السّلام نے ا پنے فرزند امام حسین علیہ السّلام کو مخاطب کرکے فرمایا . تیری نسل میںنواں وہ ہوگا جوحق کے ساتھ قائم , دین ظاہر ہونے والااور عدل وانصاف کاپھیلانے والاہوگا .

امام حسنِ مجتبیٰ علیہ السّلام

(صدوق اکمال الدین) میرے بھائی حسین علیہ السّلام کی نسل سے نواں جب پیدا ہوگا تو خدا وند عالم اس کی عمر کو غیبت کی حالت میں طولانی کرے گا پھر جب وقت آئے گا تو اسے اپنی قدرت کاملہ سے ظاہر کرے گا توخداوند اللہ زمین کو موت کے بعد زندگی عطا کرے گا -

سید الشہداء امام حسین علیہ السّلام

نواں میری نسل سے وہ امام ہے جو حق کے ساتھ قائم ہو گا - جس کے ذریعے سے دینِ حق کو تمام مذاہب پر غلبہ حاصل ہوگا اس کی ایک طولانی غیبت ہوگی جس میں بہت سے گمراہ ہوجائیں گے جنھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں گی اور ان سے لوگ کہیں گے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا . جب اس غیبت کے زمانہ میں اس اذیت اور انکار پر صبر کریں گے . انھیں رسول کے ہمراہ رکاب جہاد کرنے کاثواب حاصل ہوگا .

امام زین العابدین علیہ السّلام

ہم میں سے قائم وہ ہوگا جس کی ولادت لوگوں سے پوشیدہ رہے گی . یہاں تک کہ عام لوگ کہیں گے وہ پید اہی نہیں ہوا .

امام محمد باقر علیہ السّلام

(کافی کلینی ) ْحسین علیہ السّلام کے بعد نو امام علیہ السّلام معینّ ہیں جن میں سے نواں امام قائم علیہ السّلام ہوگا .,,

امام جعفر صادق علیہ السّلام

علل الشرائع شیخ الصدوق رح میں روایت ہے کہ فرمایا حضرت علیہ السّلام نے کہ میرے موسی علیہ السّلام ٰ فرزند کی نسل سے پانچواں قائم ہوگا .

امام موسیٰ کاظم

(کمال الدین صدوق) کسی نے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے کہا کہ کیا آپ قائم بحق ہیں حضرت نے فرمایا حق کے ساتھ قائم وبرقرار تومیں بھی ہوں مگر اصل میں قائم وہ ہوگا جو زمیں کو دشمنان خدا سے پاک کردے گا اور اسے عدل وانصاف سے مملو کردے گا وہ میری اولاد میں سے پانچواں شخص ہوگا . ا س کی ایک طولانی غیبت ہوگی جس میں بہت سے مرتد ہوجائیں گے اور کچھ ثابت قدم رہیں گے .

امام رضاء علیہ السلام

دعبل# رض نے آپ کے سامنے جب اپنامشہور قصیدہ پڑھا اور اس میں ان دوشعروں تک پہنچے. خروج الامام لامحالة قائم زمانہ میں ظہور ُ قائم الِ عبا علیہ السّلام ہوگا یبین لناکل حق وباطل جہاں میںامتیازِ حق وباطل اکے کردے گا

یقوم علی اسم اللهوالبرکاتٌ مد د سے جوخدا کے نام وبرکت کی کھڑا ہوگا ویجزی علی النعمائ والنفمات وہ دے گا مومن وکافر کو ہر کردار کا بدلہ یہ سنتے ہی امام رضا علیہ السّلام نے گریہ فرمایا اور پھر سر اٹھا کر کہا اے دعبلرض یہ شعر تمہاری زبان پر روح القدس نے جاری کرائے ہیں . تمھیں معلوم بھی ہے کہ یہ امام علیہ السّلام کون اور کب کھڑا ہوگا ? دعبل# نے کہا یہ تفصیلات تو مجھے معلوم نہیں مگریہ سنتا ہوں کہ آپ میں ایک امام ایساہوگا جو زمین کو فساد سے پاک اور عدل وانصاف سے مملو کردے گا . حضرت علیہ السّلام نے فرمایا اے دعبل# رض میرے بعد امام میرا فرزند محمد علیہ السّلام ہوگا . اور ا س کے بعد اس کا فرزند علی علیہ السّلام اور علی علیہ السّلام کے بعد اس کا بیٹا حسن علیہ السّلام اور حسن علیہ السّلام کے بعد اس کا بیٹا قائم ہوگا جس کی غیبت کے دور میں اس کاانتظار رہے گا اور ظہور کے موقع پر دنیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے گی .

امام محمدتقی علیہ السّلام

قائم ہم میں سے وہی مہدی ہوگا جو میری نسل میں تیسرا ہوگا .

امام علی نقی علیہ السّلام

میرا جانشین تو بعد میرے میرا فرزند حسن علیہ السّلام ہے مگر اس کے جانشین کے دور میں تمھارا کیا عالم ہوگا ? سننے والوں نے پوچھا کہ کیوں ? اس کا کیا مطلب ? فرمایا ا س کے کہ تمھیں اسے دیکھنے کا موقع نہ ملے گا . بعد ا س کے نام لینے کی اجازت نہ ہوگی , عرض کیا گیا پھر ان کا نام کس طرح لیا جائے گا ? فرمایا بس یوں کہنا کہ »الحجة من الِ محمد علیہ السّلام.,,

امام حسن علیہ السّلام عسکری

حضرت علیہ السّلام سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کے ابائے طاہرین علیہ السّلام نے فرمایا کہ زمین حجت خد اسے قیامت تک کبھی خالی نہیں ہوسکتی? اور جو مرجائے اور اپنے امام زمانہ کی معرفت اسے حاصل نہ ہوئی ہو وہ جاہلیت کی موت دنیا سے گیا. آپ نے فرمایا کہ بیشک یہ اسی طرح حق ہے جس طرح روز روشن حق ہوتا ہے . عرض کیا پھر حضور کے بعد حجت اور امام علیہ السّلام کون ہوگا ? فرمایا جو پیغمبر خدا کاہمنام ہے میرے بعد امام وحجت ہوگا . جو شخص بغیر ا س کی معرفت حاصل کئے ہوئے دنیا سے اٹھاوہ جاہلیت کی موت مرا . بیشک اس کی غیبت کا دور اتنا طولانی ہوگا جس میں جاہل لوگ حیران اور سرگرداں پھریں گے اور باطل پرست ہلاکت ُ ابدی میں گرفتار ہونگے . وقت مقرر کرکے پشین گوئیاں کرنے والے غلط گو ہونگے . ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ پیغمبراسلام کے وقت سے لے کر برابر ہر دور میںا س ذات کی خبر جاتی رہی تھی . جومہدی دین ہوگا . بلکہ دعبل کی روایت سے ظاہر ہے کہ یہ امر اتنا مشہور تھا کہ شعرائ تک اسے نظم کرتے تھے .ا س کے ساتھ تواریخ پر نظر کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوست ودشمن سب ان حدیثوں سے واقف تھے.یہاں تک کہ بسا اوقات ان سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے . چنانچہ سلسلہ عباسیہ میں سے محمد# نام جس کا تھا اس نے اپنا لقب مہدی اسی لیے اختیار کیا اور نسل امام حسین علیہ السّلام علیہ السّلام سے عبدالله محض کے فرزند محمد# کے متعلق بھی مہدی ہونے کا عقیدہ قائم کیا گیا اور کیسانیہ نے محمد بن حنفیہ کے معلق یہ خیال ظاہر کیا مگر ائمہ اہلبیت علیہ السّلام میں سے ایک معصوم ہستی کاسی وقت پر وجود خود ان خیالات کی رد کے لیے کافی تھا اور یہ حضرات ان غلط دعویداروں کے غلط بتانے کے ساتھ ساتھ اصل مہدی کے اوصاف اوراس کی غیبت کاتذکرہ برابر کرتے رہے اس سے یہ حقیقت صاف ظاہر ہوگئی کہ اصل مہدی کی تشریف اوری کا انتظار متفقہ طور پر موجود تھا . اس کے ساتھ پیغمبر کی وہ حدیثیں بھی متواتر صورت سے موجود تھیں کہ میری اولاد میں بارہ جانشین میرے ہوں گے تعداد خود ان غلط مدعیوں کے دعوے کے بطلان کے لیے کافی تھی لیکن اب امام حسن عسکری علیہ السّلام تک گیارہ کی تعداد ائمہ کی پوری ہوگئی تو دنیا بے چینی کے ساتھ اسی امام کی طلبگار ہوگئی جو اپنی پیدائش کے قبل بھی منتظر تھا اور پیدائش کے بعد بھی غیبت کی بناپر مصلحت الٰہی کے تقاضا تک منتظر رہنے والا تھا .


متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ^ صحیح ترمذی ۔ جلد 2 صفحہ 86
  2. ^ سنن ابی داود۔ جلد 2 صفحہ 7
  3. ^ سنن ابن ماجہ۔ جلد 2 حدیث نمبر 4085
  4. ^ سنن ابن ماجہ۔ جلد 2 حدیث نمبر 4086
  5. ^ النسائی اور البیہقی
  6. ^ الصواعق المحرقہ از ابن الحجر الیہثمی باب 11
  7. ^ مسند احمد بن حنبل جلد 1
  8. ^ مقدمہ از ابن خلدون
  9. ^ منہاج السنۃ ۔ جلد چہارم از ابن تیمیہ