صائم چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صائم چشتی
معلومات شخصیت
پیدائش 18 دسمبر 1932  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
امرتسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 جنوری 2000 (68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
فیصل آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (18 دسمبر 1932–14 اگست 1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (15 اگست 1947–22 جنوری 2000)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر،  مترجم،  محقق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شیخ محمد ابراہیم المعروف صائم چشتی اردو اور پنجابی کے معروف نعت گو شاعر، ادیب، محقق اور مترجم تھے وہ تمام عمر علم واد ب کے فروغ و اشاعت کے لیے مصروفِ عمل رہے بڑے بڑے نامور نعت گو شاعر ان کے شاگرد رہے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

صائم چشتی کی پیدائش 18دسمبر 1932ء میں ضلع امرتسر کے قصبہ ’’گنڈی ونڈ‘‘ میں ہوئی آپ کا تعلق شیخ برادری سے تھا۔ والد ِشیخ محمداسماعیل تجارت پیشہ کے ساتھ ساتھ مذہبی لگاؤ بھی رکھتے تھے اور گاؤں کی مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے۔

تعلیم[ترمیم]

صائم چشتی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی اور اپنے گاؤں ہی سے حاصل کی قرآن پاک ناظرہ کے علاوہ عربی اور فارسی کی بنیادی تعلیم بھی اپنے والد گرامی سے حاصل کی آپ چونکہ اپنے والدین کی پہلی نرینہ اولاد تھے اس لیے والد نے آپ کی تعلیم کی طرف خاص توجہ دی۔ آپ نے پرائمری گنڈی ونڈ سے حاصل کی آپ کی اسکول کی تعلیم لوئر مڈل سے آگے نہ جا سکی۔ صائم چشتی نے دینی تعلیم کا آغاز جامعہ رضویہ فیصل آباد کے مولانا سیّد منصور شاہ صاحب سے صرف و نحو پڑھتے ہوئے کیا۔ موصوف ہی سے آپ نے علوم متداولہ کی تمام کتب پڑھیں اور آٹھ سالہ درس نظامی کا کورس اپنی ذہانت و فطانت کی بنا پر دو سال میں مکمل کر لیا۔ پھر دورۂ حدیث شریف جامعہ رضویہ میں شیخ الحدیث مولانا غلام رسول رضوی سے مکمل کر کے 1970ء میں دستارِ فضیلت اور سند حاصل کی دینی تعلیم کے علاوہ آپ نے طبیہ کالج سے طب یونانی میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا ۔

سلسلہ چشتیہ میں بیت[ترمیم]

1948ء میں آپ سلسلہ چشتیہ صابریہ کے عظیم روحانی پیشواپیر طریقت پیر سیّد محمد علی شاہ کے دست ِ حق پر بیعت ہو کرخلافت و اجازت سے نوازے گئے اور اس وقت سے چشتی کی نسبت آپ کے نام کے حصہ کے طور پر معروف ہو گئی۔ اس کے علاوہ آپ نے بابا جی محمود شاہ پیر سید علی حسین شاہ علی پور شریف اور سیال شریف سے بھی اکتسابِ فیض کیا ۔

قیام پاکستان کے بعد ضلع شیخو پورہ میں مانانوالہ کے قریب ایک ’’ رسولپورککی ‘‘ ہے اسے رسولپور جٹاں بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں قیام پاکستان سے پہلے ہی آپ کے کچھ رشتہ دار قیام پزیر تھے۔ آپ کے والد گرامی بھی اس گاؤں میں تجارت کے سلسلہ میں آتے رہتے تھے، ہجرت کے بعد آپ بھی رسولپور جٹاں میں قیام پزیر ہو گئے۔ صائم چشتی قیام پاکستان کے بعد رسولپور ککی میں رہتے تھے، وہاں سے کاروبار کے سلسلہ فیصل آباد آنا جانا رہتا تھا ،1953ء میں فیصل آباد میں اپنے کچھ رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کارخانہ بازار میں سو پ میٹریل کا کاروبار شروع کیا اس میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی پھر1955ء میں کتابوں کے اشاعتی کاروبار سے منسلک ہو گئے اس کاروبار میں ترقی ہوئی اس طرح1955 ء میں آپ کا سارا خاندان رسولپور جٹاں (شیخوپورہ ) سے فیصل آباد منتقل ہو گیا۔ یہاں پھر 1964ء میں جامعہ رضویہ کے باہر ارشد مارکیٹ میں چشتی کتب خانہ قائم کیا جو اب تک علم و ادب اور مذہب و ملت کی اشاعتی خد مات انجام دے رہا ہے۔

شاعری[ترمیم]

آپ بچپن ہی سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں نعت لکھتے تھے آپ کے اس جو ہر کو فیصل آباد کے مذ ہبی ما حول میں اور جلاء ملی آپ کی لکھی ہوئی نعتیں شہر میں ہونے والی محا فل میلاد اور عرسوں کی تقر یبات میں پڑھی جا نے لگیں اس سے آپ کا نام شہر میں گو نجنے لگا جو جلد ہی پورے ملک میں نعتیہ شاعری کے اعتبار سے مقبول و معروف ہو گیا فیصل آباد میں ہو نے والے پنجابی اور اردو کے مشا عروں میں شر کت کی تو ہر طرف سے داد پا ئی۔ ایک دفعہ دار العلوم حزب الا حناف لا ہور میں ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں کثیر علما مو جود تھے وہاں محمد علی ملتا نی نے آپ کی لکھی ہو ئی یہ نعت پڑ ہی !محمد کا در چھوڑ کر جا نے وا لو ملا نہ ٹھکا نہ تو پھر کیا کرو گے اس نعت پر علما نے بڑی داد دی ما ہنا مہ ’’رضوان ‘‘ لاہوراور ’’ماہ طیبہ‘‘ کو ٹلی لوہاراں نے یہ نعت شائع کی علما کرام نے بہت شفقت کی بالخصوص فقیہ عصر عاشق رسول الحاج مفتی محمد امین نے اس نعت شریف کی مقبو لیت کی وجہ سے آپ کی دعوت کی۔ صائم چشتی کو مختلف زبا نوں اردو، فارسی، عر بی، پنجا بی اور سرائیکی پر مکمل عبور تھا وہ پا کستان کے مختلف علا قوں میں ہو نے وا لی اد بی تقریبات، محافل، میلاد، محافل نعت اور سیرت النبی کا نفرنسوں میں شریک ہو تے اور اپنا کلام سنا کر داد حاصل کر تے۔ آپ نے فیصل آباد1960ء کی دہا ئی میں ہنگا مہ خیز اد بی تحریک شروع کی پنجا بی بزمِ ادب کے وہ با نی تھے اس بزم کے پلیٹ فارم سے آل پاکستان مشاعرے، طر حی مشاعرے اور نعتیہ محا فل ان کا طرۂ امتیاز تھا1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد دھو بی گھاٹ کے گرا ؤ نڈ میں ہو نے وا لا ملک گیر مشا عرہ ان کی زند گی کا سب سے بڑا اد بی کار نا مہ تھا اس اجتماع میں ایک لا کھ کے قریب افراد نے شر کت کی اس سے پہلے یا اس کے بعد آج تک اتنی بڑی محفل مشا عرہ اس شہر میں منعقد نہیں ہو سکی آپ مشہور نعت گو شاعر دا ئم اقبال دائم کی منا سبت سے اپنا تخلص صائم لکھتے تھے۔

نعتیہ شاعری[ترمیم]

  • صائم چشتی نے نہ صرف نعتیہ شا عری کی بلکہ ملک میں نعت گوشاعروں اور نعت خوا نوں کی اچھی بھلی جماعت تیار کی کئی شاعر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے اصلاح لیتے تھے اردو اور پنجا بی زبان کی اپنی لکھی ہو ئی کتب کی تعداد ایک سو سے زائد ہے آپ پورے پاکستان کے شاعروں سے نعت لکھوا تے اور ان کی حو صلہ افزا ئی کر تے ہوئے ان کے مجموعوں کو شائع کر تے ،،
  • آپ کے چشتی کتب خا نہ پر ہر سال منعقد ہو نے والی محفلِ نعت پاکستان بھر میں خصوصی شہرت کی حا مل تھی اس محفل میں نعت پڑ ھنے کے لیے ملک کے سینکڑوں نعت خواں منتظر رہتے اور سٹیج پر آ کر نعت پڑ ھنا اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے
  • آپ بعض دفعہ ہلکے پھلکے مشاعرے اپنی دکان پر ہی کر ڈالتے داد دینے میں آپ نے کبھی بخل سے کام نہ لیا خصوصاً نو آموزوں کی خوب خوب حوصلہ افزا ئی فر ما تے آپ کی دکان پر اکثر شاعروں اور نعت خوا نوں کی مجلس رہتی نعت کے میدان ان کی خدمات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ فیصل آباد کو شہر نعت بنانے میں آپ کا بہت بڑا کردا رہے

شاگرد[ترمیم]

شاعری میں آپ کے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن میں خاص طور پر درج ذیل اسماء گرامی محتاجِ تعارف نہیں ۔٭الحاج یو سف نگینہ ٭الحاج طا ہر رحمانی المعروف حافظ بجلی٭عبد الستار نیازی ٭ سید ناصرحسین چشتی٭ محمد مقصود مدنی ٭یٰسین اجمل ٭جمیل چشتی٭اقبال شیدا٭قائد شرقپوری ٭سید خضر حسین شاہ ٭واصف بڈیا نوی ٭ بری نظامی ٭صدف جالندھری ٭محمد دین سائل٭ کوثرعلی چشتی ٭ محمد دین پروانہ گوجروی ٭ دلکش فیصل آبادی ٭ محمد یعقوب سفر حاتم بھٹی ٭محمدامین برق فیصل آبادی ٭حکیم مشتاق احمد مشتاق ٹوبہ ٭محمد اسلم شاہ کوٹی ٭عبد الخالق تبسم ٭محمد گلزار چشتی ٭ نذیر احمد راقم ٭ عبد الرشید ارشد ٭محمدرمضان راشد ٭عاشق علی حق ٭حاتم بھٹی اور ڈاکٹر محمد یونس ملتانی آپ کی نعتوں میں غنائیت اور نغمگی آپ کے مزاج کا خاصہ ہے آج کل اکثر بڑے بڑے نعت خواں بڑی بڑی محا فل میلاد میں آپ کی نعتیں ُپڑھ کر داد حاصل کر رہے ہیں۔

تصنیفی و تحقیقی خد مات[ترمیم]

صائم چشتی صرف ایک شاعر ہی نہ تھے بلکہ اردو اور پنجا بی زبان کے نا مور ادیب، جید عالم اور محقق تھے انہوں نے کئی موضوعات پر تحقیقاتی کتب لکھیں کئی عر بی اور فارسی کتب کے ترا جم کیے خاص طور پر تفسیر، حدیث تصوف اور عربی منظوم کتب کے اردو میں تراجم کر کے اردو دان طبقہ کے لیے بڑا احسان کیا۔ آپ کی کتب کی تعداد500کے لگ بھگ ہے آخر میں چند اہم کتب اور تراجم کے نام لکھے جائیں گے آپ نے بے شمار علمی واد بی موضوعات پر تنِ تنہا بے سرو سا ما نی کے عا لم میں کسی سرکاری گرانٹ کے بغیر انتہائی تحقیقی کام کیا جو انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے خاص طور پر تفسیر کبیر اور تفسیر ابن عر بی کا تر جمہ اور دیوان حضرت ابو طالب کا ترجمہ قا بل ذکر ہے آپ کی تحقیقی کتب میں ایمانِ ابی طالب، مشکل کشا، شہید ابن شہید، گیارہو یں شریف خصوصاً جب آپ نے اپنی کتاب ’’ایمانِ ابی طالب‘‘ لکھی تو بڑے بڑے علما کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تنگ نظروں نے پر تنقید کر تے ہو ئے رفض کی پھبتی بھی کسی۔ آپ نے ان کی پراہ نہ کر تے ہوئے امام شا فعی کے اس قول کے مطا بق اعلان کر تے ہوئے اہل بیت کی محبت میں اپنا تحقیقی سفر جاری رکھا۔ اگر اہل بیت کی محبت رفض ہے تو دنیا بھر کے جنوں اور انسا نوں گواہ ہو جا ئو سب سے بڑا رافضی میں ہوں۔ صائم چشتی کے پاس ایک وسیع ذاتی کتب خا نہ تھا جس میں کم و بیش ایک لاکھ کے لگ بھگ مختلف عنوا نات پر مختلف زبانوں میں کتب موجود ہیں یہ کتب خا نہ محققین اور طلبہ کے لیے کھلا رہتا۔

سماجی ور فاحی خد مات[ترمیم]

آپ نے تصنیف و تحقیق اور شعر گو ئی کے ساتھ سا تھ سما جی، تعلیمی اور رفاحی امور میں بھی بھر پور کر دار ادا کیا ۔

  • 1۔ آپ نے اپنے رہائشی محلہ رحمت ٹا ؤن نزد غلام محمد آباد میں ایک عظیم الشان ’’مسجدسید نا حیدر کرار‘‘ کی بنیاد رکھی اس مسجد کی تعمیر میں خود بھی حصہ لیا اور ’’شبِ وصال‘‘ نماز عشاء تک مسجد کے تعمیری امور میں مصروف رہے۔
  • 2۔ آپ نے گھر کے قریب ملت کا لج کے احا طہ میں ایک مسجد تعمیر کروائی۔
  • 3۔ عورتوں کی دینی تعلیم و تر بیت کے لیے مدر سہ گلشن زہراء کی بنیاد رکھ
  • 4۔ فیصل آباد میں نعت خوا نوں کی علمی اور فنی اصلا حی اور تر بیت کے لیے ’’حسان نعت کالج‘‘ قائم کیا جس میں حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظمت و شان کے پروگرام ہو تے ہیں آپ کی 2000صفحات پر مشتمل نعتیہ کتاب ’’ن والقلم‘‘ زیرِ طبع ہے یہ نعت کے میدان میں آپ کی بے مثال خد مت ہو گی۔ اس کے علاوہ غیر منقوط مجموعہ جات میں ’’ صلی علیٰ محمد، محمد حمد کا محور اور علی علی ہے شامل ہیں۔
  • 5۔ آپ نے قوم کی بچیوں کے اندر نعت کا ذوق پیدا کر نے اور اسے فروغ دینے کے لیے حسان نعت کا لج برا ئے طا لبات بھی قائم کیا ۔* 6۔ ایک لاکھ سے زائد کتب پر مشتمل آپ نے ’’چشتیہ لائبریری‘‘ قائم کی جہاں سے بڑے بڑے نا مور علما اور سکا لر اپنے مقا لات اور کتب کی تکمیل کے لیے استفادہ کر تے ہیں ۔
  • 7۔ آپ نے لوگوں کی جسما نی اور رو حا نی بیمار یوں کے علاج کے لیے ’’چشتیہ روحانی شفا خانہ‘‘قائم کیا اتوار کے روز دو ر دراز سے لوگ آپ کی رہائش پر آتے اور جسما نی وروحا نی مسائل بتاتے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آپ ان کی رہنما ئی کرتے ۔
  • 8۔ چشتیہ آڈیو۔ ویڈ یو لا ئبریری میں جید علما کرام کی اڈیو اور ویڈیو کیسٹیں موجود ہیں اور ان میں سے کئی علما کی تقریروں کو صفحہ قر طاس پر بھی محفوظ کر کے افا دہ عام کے لیے چشتی کتب خانہ کی طرف سے شائع کر دیا گیا ہے ۔
  • 9۔ آپ نے کئی سال قبل جس چشتی کتب خا نہ کا اجرا کیا تھا اب تک ہزاروں اسلامی کتب شائع کر چکا ہے۔
  • علا قہ کے طلبہ کو قرآن حکیم نا ظرہ اور حفظ کی دولت ِ لازوال سے بہرہ ور کر نے کے لیے آپ نے ’’دار العلومِ حیدر یہ چشتیہ رضویہ فیصل آباد‘‘ کا قیام فرمایا اس میں طلبہ قرآن حکیم کی سر مدی دو لت سے اپنے سینوں کو منور کر رہے ہیں۔

وفات[ترمیم]

صائم چشتی نے بھر پور زندگی گزار تے ہو ئے 22جنوری 2000ء (14 شوال المکرم 1421ھ) کو رات کے وقت اپنی جان خالقِ حقیقی کے سپرد کی

اولاد[ترمیم]

  • آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹیوں کے علاوہ تین بیٹوں کی نعمت سے نوازا بیٹوں کے نام یہ ہیں۔
  • 1 صاحبزادہ محمد لطیف ساجد چشتی
  • 2 صاحبزادہ محمد شفیق مجاہد چشتی
  • 3 صاحبزادہ محمد توصیف حیدر چشتی
  • آپ کی اولاد کے علاوہ کثیر تعداد میں نعت خواں اور شعرا آپ کے نام اور کام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

عرس مبارک[ترمیم]

ہر سال چودہ شوال المعظم کو آپ کا عرس مبارک نہایت تزک و احتشام سے جامع مسجد سیّدنا حیدرِ کرار رحمت ٹاؤن غلام محمد آباد فیصل آباد میں منایا جاتا ہے ۔

تراجم[ترمیم]

آپ کے ترا جم میں سے چند نام درج ذیل ہیں ۔

  • 1۔ ترجمہ تفسیر کبیر از امام فخر الدین رازی عربی سے اردو ترجمہ (5جلد)
  • 2۔ ترجمہ تفسیر ابن عربی از ابن عر بی عربی سے اردو(5جلد)
  • 3۔ ترجمہ تفسیر خازن امام خازن بغدادی، عربی سے اردو (2جلد)
  • 4۔ تر جمہ خصائص نسا ئی از امام نسائی
  • 5۔ روضۃ الشہداء فارسی سے اردو ترجمہ (2جلد)
  • 6۔ والدین مصطفیٰ، عربی سے اردو
  • 7۔ فتو حات مکیہ، عربی سے اردو (3جلد)
  • 8۔ انتخاب خطبات حضرت علی (اردو ترجمہ و شرح)
  • 9۔ ترجمہ دیوان حضرت ابو طا لب، عر بی سے اردو
  • 10۔ ترجمہ قصیدہ امینیہ عربی سے اردو (2جلد)

تصانیف و تالیفات[ترمیم]

آپ کی چند اہم تصا نیف درج ذیل ہیں۔

  • 1۔ مشکل کشاء (سیرت حضرت علی 4جلد)
  • 2۔ ا لبتول (سیرت سیدہ فاطمۃ الزہرا)
  • 3۔ خاتون سیرت (منظوم سیرت سیدہ کائنات )
  • 4۔ ابو بکر قرآن کی رو شنی میں ’’الصدیق‘‘
  • 5۔ ایمان ابی طالب (تحقیقی کتاب ) 2جلد
  • 6۔ گیار ہویں شریف
  • 7۔ من دون اللہ کون ہیں ۔
  • 8۔ شہید ابن شہید 3جلد
  • 9۔ المدد یارسول اللہ
  • 10۔ خطبات چشتیہ 12جلدیں
  • خلفاء راشدین، ائمہ اہل بیت اور متعدد اولیاء کرام کی سیرت اور حیات و خد مات نظم و نثر میں لکھی کچھ مطبو عہ میں اور کچھ غیر مطبو عہ۔

کتب نعت[ترمیم]

آپ کی چند نعتیہ کتب کے نام درج ذیل ہیں۔

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

  • صائم چشتی رحمۃ اللہ علیہ
  • روشن ستارے (نور الزمان نوری)
  • میرے محسن علامہ صائم چشتی (مقصود مدنی)
  • خوشبوئے حسان پروگرام ary qtv
  • علامہ صائم زندہ ہے ( سید یونس شاہ کاظمی)
  • مقالہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ’’علامہ صائم چشتی کی نعت گوئی‘‘ (سیدہ نوازش رباب)
  • پنجابی مقالہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ’’صائم چشتی فکر تے فن‘‘(آمنہ احمد)
  • میرے محسن مصنف محمد مقصود مدنی مطبوعہ چشتی کتب خانہ فیصل آباد ص33
  • علامہ صائم زندہ ہے مصنف یونس کاظمی مطبوعہ کاظمی پبلکیشنز راولپنڈی ص 21