بریلوی مسلک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Indented line
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)


اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی

امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری کا مزار
اہم شخصیات

فضل حق خیر آبادی · رضا علی خان
سید کفایت علی کافی ·
نقی علی خان
امام احمد رضا خان
جماعت علی شاہ محدث ·
سید جماعت علی شاہ ثانی
امجد على اعظمى ·
پير مہر علی شاہ
نعیم الدین مراد آبادی ·
عبد العلیم صدیقی
مصطفی رضا خان ·
مفتی احمد یار خاں نعیمی
مفتی غلام جان قادری ·
یار محمد بندیالوی
محمد سردار احمد قادری ·
حامد رضا خان
ارشد القادری ·
احمد سعید کاظمی
صاحبزادہ فضل کریم ·
محمد شفیع اوکاڑوی
سید شجاعت علی قادری ·
قمر الزمان اعظمى
قاری غلام رسول ·
شہید محمد سلیم قادری
حسن رضا خان ·
مفتی محمد امین
مولانا شاہ احمد نورانی ·
محمد اختر رضا خان قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری ·
ابو البرکات احمد
سرفراز احمد نعیمی شہید ·
عبدالقیوم ہزاروی
فیض احمد اویسی ·
محمد ارشد القادری
محمد خان قادری ·
مفتی منیب الرحمان
اشرف آصف جلالی ·
محمد اسحاق جان سرہندی
قاری سید صداقت علی ·
محمد الیاس قادری
مشتاق قادری ·
کوکب نورانی اوکاڑوی
راغب حسین نعیمی ·
ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
محمد عمران عطاری

اہم ادارے

جامعہ رضویہ منظر اسلام, بھارت
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان
فیضان مدینہ، پاکستان
جامعہ اسلامیہ لاہور, پاکستان
جامعہ اسلامیہ رضویہ, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ شیخوپورہ, پاکستان
جامعہ نعیمیہ لاہور, پاکستان
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان

تحریکیں

جنگ آزادی ہند 1857ء
آل انڈیا سنی کانفرنس
جمیعت علمائے پاکستان
تحریک ختم نبوت
دعوت اسلامی
تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی دعوت اسلامی
سنی تحریک
ورلڈ اسلامک مشن

برصغیر پاک و ہند میں مسلک اہلسنت و الجماعت کو امام احمد رضا خان کی مناسبت سے بریلوی مسلک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس مسلک کا اہم طرہ امتیاز درود و سلام ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تر محبت اور ادب و تعظیم کو ایمان کا جزو لازم قرار دیا جاتا ہے۔ مزید برآں حضور علیہ صلوۃ و سلام کی ذاتِ مبارکہ کے ادب و تعظیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کو باعثِ سعادت و برکت قرار دیا جاتا ہے، بریلوی مسلک کو مسلک اعلٰی حضرت بھی کہا جاتا ہے ہیں اور اسے اہلسنت کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے

دیگر عقائد و معمولات

عقیدہ نور و بشر

بریلوی مسلک کے حامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل البشر قرار دینے کے ساتھ ساتھ آپ علیہ صلوۃ و سلام کی نورانیت کے بھی قائل ہیں۔ حضور علیہ صلاۃ و سلام کے نور ہونے کے سلسلے میں بیشتر قرآنی آیات و احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمانا ( يَا جَابِرُ، اِنَّ اﷲَ تَعَالَي قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْاَشْيَاءِ نُوْرَ نَبِيِکَ مِنْ نُورِہِ ۔ اے جابر اللہ تعالٰی نے ہر تخلیق سے پہلے میرے نور کو اپنے نور ( کے فیض) سے بنایا) [1]

عقیدہ حیاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم

عقیدہ شفاعت

عقیدہ شاہد و ناظر

اسی طرح بریلوی مسلک کے حامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ جہت شاہد و ناظر ہونے پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں عالم غیب کو دیکھ کر اطلاع دی اور اسی طرح بعد از وصال بھی آپ علیہ صلوۃ و سلام تمام احوال سے باعلم ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف آیات قرآنی و احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے جیسا کہ ( يَا أَيُّھَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاھِدًا - اے نبی ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو شاہد بنا کر بھیجا) [2]

عقیدہ توسل

بریلوی حضرات نہ کہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی قدر سے توسل کے قائل ہیں بلکہ آپ علیہ سلام سے منسلک اشیاء مثلاّ آپ کے موئے مبارک (بال مبارک) اور آپ کی نعلین شریفین سے بھی توسل کے قائل ہیں اور اسے عین شرعی قرار دیتے ہیں۔ اسکے علاوہ دیگر صحابہ اکرام بشمول اہلبیت اطہار اور بزرگان دین سے توسل کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔

تصوف

بریلوی مسلک کے مطابق تصوف کا آغاز ابتداءّ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ سے ظہور پزیر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت شہر مکہ سے باہر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور وہاں رب تعالٰی کی ذات کے بارے میں غور فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں کئی کئی روز قیام فرماتے اور اس دوران اپنی دنیاوی مشغولیات اور دیگر کاروبار حیات سے بالکل قطع تعلق رہا کرتے۔ غار حرا میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی بھی نازل ہوئی۔ اسی طرح صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین کی ذات مبارکہ میں بھی تصوف کا رنگ نمایاں طور پر ظاہر ہے۔ بے شمار صحابہ اکرام مسجد نبوی سے منسلک صفہ نامی چبوترے پر ہمہ وقت پر قیام پزیر رہا کرتے۔ ایسے صحابہ اکرام کی تعداد کم و بیش سات سو(700) کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ یہ اصحاب رسول رضوان اللہ تعالٰی اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفید ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی علم سیکھنے کی غرض سے اپنی دنیاوی مشغولیات و کام کاج کو ترک کئے رہتے، حتی کہ بعض تو عائلی و ازدواجی زندگی تک سے بھی دور رہتے۔ یہ اصحاب اس چبوترے " صفہ" کی وجہ سے " اصحاب صفہ" کہلاتے اور یہی لفظ " تصوف" کی وجہ تسمیہ بیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح صحابہ اکرام کے بعد تابعین اور پھر تبع تابعین میں بھی تصوف کا عنصر نمایاں رہا۔ اس سلسلے میں حضرت اویس قرنی اور حضرت حسن بصری کا نام بہت نمایاں ہے جو کہ مشہور تابعی بزرگ ہیں اور آپ حضرات نے بیشتر جید اصحاب رسول سے فیض صحبت حاصل کیا۔ بعد ازاں صوفیا اکرام اور بزرگان دین کا ایک طویل سلسلہ ہے جو عرب و عجم اور ساری اسلامی دنیا کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ بریلوی حضرات صوفیاءاکرام سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔

زیارتِ مزارات

بزرگان دین کے مزارات پر انوارات تمام عالم اسلام میں بکثرت موجود ہیں۔ ان میں خود حضور خاتمی مرتبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزار پرانوار مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے عین اندر واقع ہیں۔ اسکے علاوہ دیگر بزرگان دین کے مزارات بکثرت شام، ترکی اور دیگر جملہ عرب ممالک سمیت پاک و ہند میں واقع ہیں۔ ان بزرگوں کے مزاروں پہ عروس کا اہتمام کیا جاتا ہے دور دور سے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔ اور ان عظیم ہستیوں کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کی روحانیت، بزرگی اور ان کی خدماتِ جلیلہ کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے اللہ تعالٰیٰ سے بلواسطہ یا بلاواسطہ توسل بھی کیا جاتا ہے۔

عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

ماہ ربیع الاول کو خاص اہمیت حاصل ہے مختلف جگہوں گھروں، عوامی مقامات اور مساجد میں محافل میلاد منعقد ہوتی ہیں۔ ان محافل میں علماء اکرام حضور علیہ صلوۃ و سلام کی ولادت با سعادت آپ کی حیات طیبہ اور سیرت مطھرہ کے مختلف گوشوں پر بیانات کرتے ہیں۔ ویسے تو یہ محافل سارا سال ہی جاری رہتی ہیں لیکن ربیع الاول کے ماہ میں ان محافل کا کثرت سے اہتمام ہوتا ہے۔ اسی طرح سے مختلف شعرا اور نعت خواں حضرات حضور علیہ صلوۃ و سلام کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ماہ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں اور راستوں کو سجایا جاتا ہے۔ ترمذی شریف میں باب "باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم:" امام ترمذی نے الجامع ترمذی شریف میں "باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم" ایک باب باندھا ہے۔ تب تک میلاد النبی منانا بدعت نہیں سمجھا جاتا تھا بدعت کا بہتان بہت بعد کی ایجاد ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ 604 ہجری کے بعد میلادالنبی منانے کا رواج پڑا۔ جبکہ امام ترمذی 209 ہجری میں پیدا ہوئے اور 279 میں فوت ہوئے۔

محافلِ نعت و درود و سلام

محافل نعت و درود و سلام کو حضور علیہ سلام کی ذات مبارکہ سے محبت اور قربت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ محافل سارا سال ہی جاری رہتی ہیں لیکن ربیع الاول کے ماہ میں ان محافل کا خاص اہتمام ہوتا ہے۔ مختلف شعرا اور نعت خواں حضرات حضور علیہ سلام کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جمعہ کے دن درود و سلام کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔

گیارہویں شریف

مسلکی نقطہ نظر

بریلوی نقطہ نظر کے مطابق اس مسلک کو حقیقی طور پر تمام صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین ، صالحین اور علماء امت کا پیش رو قرار دیتے ہیں۔ بریلوی مسلک کی تشریحات کے مطابق ، میلاد و قیام ، صلوٰۃ و سلام ، ایصال ثواب ، عرس یہ سب معمولات جو صدیوں ‌سے اہلسنت و الجماعت میں رائج ہیں‌ اور علمائے امت نے انھیں ‌باعث ثواب قرار دیا ہے [حوالہ درکار]۔لیکن نۓ فرقوں نے ان رسومات کو بدعت قرار دیا اور بریلوی علماء نے قلم و گفتار سے انکا تحفظ کیا۔ ان علما میں نمایاں ترین نام امام احمد رضا خان کا ہے جنہوں نے مختلف رسومات اور عقائد کے دفاع میں کئی کتب تحریر کیں۔

توحید و شرک کے بارے میں نقطہ نظر

بریلوی نقطہ نظر کے مطابق حضور علیہ صلوۃ و سلام کی ذاتِ مبارکہ کے ادب و تعظیم اور آپ علیہ صلاۃ و سلام کی تعریف و توصیف میں حد درجہ مبالغہ آرائی اور غلو کو باعثِ سعادت قرار دیا جاتا ہے۔ اور اسے شرک پر محمول نھیں کیا جاتا۔ اس مسلک کیمطابق قرآنِ مجید کی سورہ اخلاص[3] کی روشنی میں شرک کی تین صورتیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی صادر ہو تو شرک ہوگا وگرنہ نھیں، وہ تین درج ذیل ہیں۔

  • کسی مخلوق کو رب قرار دینا یا اللہ تعالٰی پر حاکم قرار دینا
  • کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینا یا اسی طرح اللہ کو کسی کی اولاد قرار دینا
  • کسی میں کوئی صفت ازلی (ہمیشہ سے)، ذاتی (از خود بغیر اللہ کی عطا کے) یا اللہ تعالٰی کی کسی صفت کے ہمسر قرار دینا (لہذا اگر حددرجہ مبالغہ آرائی اور غلو کے باوجود اللہ تعالٰی سے کمتر سمجھا تو شرک نھیں)

لہذا ان تین شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضور علیہ صلاۃ و سلام کی نہایت ہی حد درجہ تعریف و توصیف اور ادب و تعظیم جو کہ ذات باری تعالٰی کے ہمسر یا زیادہ نھیں وہ اس مسلک کے نزدیک شرک کے زمرہ میں نھیں۔

بدعت کے بارے میں نقطہ نظر

اس مسلک کے نقطہ نظر کے مطابق بدعت کی دو اقسام ہیں ایک بدعتِ حسنہ یعنی احسن بدعت اور دوسری بدعتِ سیئۃ یعنی بری بدعت جیسا کہ ذیل کی حدیثِ نبوی میں منقول ہے۔

من سنّ فی الاسلام سنـۃ حسنۃ فعل بھا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل بھا و لا ینقص من اجورھم شئی و من سنّ فی الاسلام سنۃ سیۃ فعمل بھا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بھا و لا ینقص من اوزارھم شیئی۔ صحیح مسلم[4]

ترجمہ : ـ جو آدمی اسلام میں کوئی اچھا کام جاری کرے پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو جو لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کے اجر کی مثل اس (جاری کرنے والے) کے لئے بھی لکھا جائے گا ـ اور خود ان عمل کرنے والوں کے اجر میں سے کچھ کم نہ ہوگا اور جو کوئی اسلام میں کسی برے کام کی طرح ڈالے پھر اس کے بعد لوگ اس کو اپنے عمل میں لائیں تو ان سب کو جو گناہ ہوگا وہ اس (جاری کرنے والے) کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا ، جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی۔

اس صحیح مسلم کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس مکتبہ فکر کیمطابق دین میں کوئی نیا اچھا عمل جاری کرنا جو شریعت کے بنیادی اصولوں کے مخالف نہ ہو نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رمضان المبارک میں باجماعت نمازِ تراویح شروع کرنے کے اپنے عمل کو ( نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھَذِھِ ۔ یہ اچھی بدعت ہے، بخاری[5]) فرماکر نبیِ کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ کی عملی تشریح کی۔ اسی طرح بہت سے ایسے افعال جو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں نھیں تھے اور صحابہ اکرام علیہم الرضوان یا اَن کے بعد امتِ مسلمہ میں رائج ہوئے جیسے قرآنِ مجید کو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور خلافت میں کتابی شکل میں جمع کرنا یا بعد ازاں حجاج بن یوسف کے دور میں قرآنِ پاک پر اعراب لگانا، فقہ، نحو، عید میلاد النبی، درود و سلام، ایمانِ مفصل و ایمانِ مجمل، چھ کلمے، مساجد میں مینار گنبد و محراب، تصوف و طریقت و معرفت، سوئم، چہلم، ختم، عرس اور گیارہویں شریف وغیرہ ایسے افعال ہیں جو امت میں بعد میں رائج ہوئے اور کسی شرعی حکم سے ٹکراو نہ رکھنے کے باعث۔ یہ افعال حدیثِ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روشنی میں بدعتِ حسنہ کے ضِمن میں آتے ہیں۔

سلفی و دیوبندی مسالک کا اختلافی نقطہ نظر

دیوبندی اور سلفی مکتبہ فکر کے مطابق، بریلوی مکتبہ فکر کے کئی عقائد اور معمولات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے مطابقت نہیں رکھتے اور وہ ان رسومات اور عقائد کو بدعت اور شرک قرار دیتے ہیں۔ خصوصاّ یہ مکاتب فکر عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تہوار کو منانے کے حق میں نہیں اور اسی طرح محافلِ درود و سلام اور گیارہویں شریف کے بارے میں بھی اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح سے عقیدہِ توسل، زیاراتِ مزارات اور عقیدہِ شاہد و ناظر کو شرک گردانتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. ^ مصنف عبد الرزاق از امام عبد الرزاق
  2. ^ سُورۃ الْاَحْزَاب ۔ 45
  3. ^ (قرآن مجید ۔ سورہ اخلاص پارہ 30)
  4. ^ (صحیح مسلم از امام مسلم ۔ کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علي الصدقہ)
  5. ^ (صحیح بخاری از امام بخاری ۔ کتاب صلاۃ تراویح، بابُ فَضلِ مَن قامَ رَمَضَانَ)