مندرجات کا رخ کریں

گجرات (پاکستان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(گجرات، پاكستان سے رجوع مکرر)
گجرات (پاکستان)
 

انتظامی تقسیم
ملک پاکستان   ویکی ڈیٹا پر  (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ تحصیل گجرات   ویکی ڈیٹا پر  (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 32°34′25″N 74°04′44″E / 32.573611111111°N 74.078888888889°E / 32.573611111111; 74.078888888889   ویکی ڈیٹا پر  (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 13 میٹر   ویکی ڈیٹا پر  (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 390533 (مردم شماری ) (2017)[2]  ویکی ڈیٹا پر  (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
رمزِ ڈاک
50700  ویکی ڈیٹا پر  (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 053
قابل ذکر
جیو رمز 1177654  ویکی ڈیٹا پر  (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نقشہ

گجرات (پنجابی: گجرات) پاکستانی صوبہ پنجاب کا تیرھواں بڑا شہر ہے۔ یہ شمالی پنجاب کے چج دوآب میں دریائے چناب کے مغربی کنارے پر واقع ہے، یہ ضلع گجرات اور ڈویژن گجرات کا صدر مقام ہے اور 2017 میں 390,533 کی آبادی کے ساتھ پاکستان میں 20 واں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے ساتھ ساتھ، گجرات "پنجاب کے سنہری مثلث" کا حصہ ہے، کیونکہ ان صنعتی شہروں کی معیشتیں برآمدات پر مبنی ہیں۔

محل وقوع

گُجرات دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ لاہور سے 120 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ آس پاس کے مشہور شہروں میں وزیرآباد، گوجرانوالہ، لالہ موسیٰ، جہلم، کوٹلہ، منڈی بہاوالدین اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔ شہر سیکڑوں دیہاتوں میں گھِرا ہوا ہے۔ جہاں سے لوگ کام کاج کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ضلع گُجرات کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

جغرافیہ

یہ قدیمی شہر دریاؤں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی زمین بہت ذرخیز ہے، زیادہ تر گندم، گنے اور چاول کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ گجرات کے شمال مشرق میں جموں کشمیر اور شمال مغرب میں دریائے جہلم واقع ہے جو گجرات کو ضلع جہلم سے علاحدہ کرتا ہے۔ مشرق اور جنوب مشرق میں دریائے چناب جو ضلع گجرات کو ضلع گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے علاحدہ کرتا ہے اور جنوب میں منڈی بہاؤ الدین واقع ہے- ضلع گجرات کا رقبہ تقریباً 3192 مربع کلومیٹر ہے اور یہ تین تحصیلوں، جن میں تحصیل گجرات، کھاریاں اور سرائے عالمگیر شامل ہیں۔

تاریخ

شہر کے محکمانہ نظام کی بنیاد 1900ء میں برطانوی سامراج نے ڈالی، جو علاقہ کے چوہدری دسوندھی خان، جو محلہ دسوندھی پورہ کے رہنے والے تھے، کی مدد سے شروع کی گئی۔ مغلیہ دور میں، مغل بادشاہوں کا کشمیر جانے کا راستہ گجرات ہی تھا۔ شاہ جہانگیر کا انتقال کشمیر سے واپسی پر راستے میں ہی ہو گیا، ریاست میں بے امنی سے بچنے کے لیے انتقال کی خبر کو چھپایا گیا اور اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکال کر گجرات میں ہی دفنا دی گئی، جہاں اب ہر سال شاہ جہانگیر کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے۔ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دو بڑی لڑائیاں اسی ضلع میں لڑیں گئیں، جن میں چیلیانوالہ اور گجرات کی لڑائی شامل ہیں۔ اور گجرات کی لڑائی جیتنے کے فوراً بعد انگریزوں نے 22فروری 1849ء کو پنجاب کی جیت کا اعلان کر دیا۔

تاریخی باقیات

ایسی کئی تاریخی عمارتیں اور باقیات کھنڈروں کی شکل میں گجرات کے آس پاس موجود ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ جسے "جی ٹی روڈ" بھی کہا جاتا ہے، شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی جو گجرات کے پاس سے گزرتی ہے، ابھی تک جوں کی توں موجود ہے- یہاں کے زیادہ تر لوگ گجر آرائیں مہر، جٹ وڑائچ ہیں۔ قریبی قصبوں میں شادیوال، کالرہ کلاں، کنجاہ، ڈنگہ، کوٹلہ کری شریف، کڑیانوالہ اورجلالپور جٹاں شامل ہیں۔

وجہ شہرت

اس ضلع کے تین فوجی جوان نشان حیدر حاصل کر چکے ہیں۔ جن میں راجہ عزیز بھٹی، میجر شبیر شریف شہید اور میجر محمد اکرم شہید شامل ہیں۔ جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا تعلق بھی گجرات سے ہی ہے۔ پاکستان کے مشہور سیاست دانوں چوہدری ظہور الٰہی فضل الہی چوہدری(سابق صدر پاکستان) چوہدری شجاعت حسین (سابق وزیر اعظم، سربراہ مسلم لیگ ق) ,چوہدری پرویز الٰہی (سابق وزیر اعلے، مسلم لیگ ق) چوہدری احمد مختار(پی پی پی) قمر زمان کائرہ(پی پی پی) چوھدری عابد رضا کوٹلہ (مسلم لیگ ن) کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔

صنعت

گجرات بجلى كے پنكھوں فرنیچر سازی برتن سازی اور جوتوں كی صنعت ميں ايك نام ركھتا ہے

ايكسپورٹ

گجرات جو آج بجلى كے پنكھوں اور جوتوں كی صنعت ميں ايك نام ركھتا ہے- مشرقِ وُسطٰی يورپ اور امریکا كے كسى بھى شہر ميں چلے جائيں آپ كو ضلع گُجرات کے لوگ مل جائيں گے۔ پنجاب كا ايك ایسا ضلع جہاں كے بہت سے لوگ بیرونِ مُلک كام كرتے ہيں اور وطنِ عزیز کو قیمتی زرِمبادلہ کما کر بھیجتے ہیں-

شخصیات

اخبارات و رسائل

  • روزنامہ شانہ بشانہ (مدیر وقار گیلانی)
  • روزنامہ خاموش (ایڈیٹر محمد تنویر کھوکھر)
  • روزنامہ ٹھنڈی آگ (چیف ایڈیٹر گلزار احمد نوشی)

فہرست گنجان شہر بلحاظ آبادی

کراچی
لاہور
فیصل آباد
Rawalpindi
گوجرانوالہ
پشاور
ملتان
حیدرآباد، سندھ
اسلام آباد
کوئٹہ
  •   صوبائی دار الحکومت
  •   وفاقی دار الحکومت
  • ڈویژنل دار الحکومت
درجہشہرآبادی
(مردم شماری 2017ء)[3][4][5]
آبادی
(1998 کی مردم شماری)[3][6][5]
تبدیلیصوبہ
1کراچی14,916,4569,339,023+59.72% سندھ
2لاہور11,126,2855,209,088+113.59% پنجاب، پاکستان
3فیصل آباد3,204,7262,008,861+59.53% پنجاب، پاکستان
4راولپنڈی2,098,2311,409,768+48.84%  پنجاب، پاکستان
5گوجرانوالہ2,027,0011,132,509+78.98%  پنجاب، پاکستان
6پشاور1,970,042982,816+100.45%  خیبر پختونخوا
7ملتان1,871,8431,197,384+56.33%  پنجاب، پاکستان
8حیدرآباد1,734,3091,166,894+48.63%  سندھ
9اسلام آباد1,009,832529,180+90.83% وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد
10کوئٹہ1,001,205565,137+77.16% بلوچستان
11بہاولپور762,111408,395+86.61% پنجاب، پاکستان
12سرگودھا659,862458,440+43.94% پنجاب، پاکستان
13سیالکوٹ655,852421,502+55.60% پنجاب، پاکستان
14سکھر499,900335,551+48.98% سندھ
15لاڑکانہ490,508270,283+81.48% سندھ
16شیخوپورہ473,129280,263+68.82% پنجاب، پاکستان
17رحیم یار خان420,419233,537+80.02% پنجاب، پاکستان
18جھنگ414,131293,366+41.17% پنجاب، پاکستان
19ڈیرہ غازی خان399,064190,542+109.44% پنجاب، پاکستان
20گجرات390,533251,792+55.10% پنجاب، پاکستان

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ویکی ڈیٹا پر ترمیم کریں"صفحہ گجرات (پاکستان) في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جون 2026ء {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |accessdate= (معاونت) و|accessdate= میں 13 کی جگہ line feed character (معاونت)
  2. ناشر: ادارہ شماریات پاکستان — تاریخ اشاعت: 3 جنوری 2018 — Block Wise Provisional Summary Results of 6th Population & Housing Census-2017 — اخذ شدہ بتاریخ: 26 جنوری 2021
  3. 1 2

  4. 1 2 "PAKISTAN: Provinces and Major Cities"۔ PAKISTAN: Provinces and Major Cities۔ citypopulation.de۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-05-04
  5. "AZAD JAMMU & KASHMIR AT A GLANCE 2014" (PDF)۔ AJK at a glance 2014.pdf۔ AZAD GOVERNMENT OF THE STATE OF JAMMU & KASHMIR۔ 11 فروری 2017۔ 2020-06-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-06-30