عبداللہ بن رواحہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جنگ موتہ کے تیسرے قائد سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ انصار میں سے تھے۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے متعدد مرتبہ اپنی عدم موجودگی میں آپ کو اہل مدینہ کا حاکم مقرر فرمایا۔ آپ دور جاہلیت میں اہل عرب کے چوٹی کے شعراء میں شمار ہوتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شاعری دین اسلام کے لئے وقف ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ کے شعر بہت پسند تھے اور آپ کئی مرتبہ ان اشعار کو گنگنایا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دعوت دین میں بہت سرگرم تھے۔ انصار کے بہت سے لوگ آپ کی دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں ایمان لائے جن میں سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر لوگ بھی شامل ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عبداللہ کے دعوتی اجتماعات کو ایسے اجتماعات قرار دیا جن پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں۔ جنگ موتہ کے لئے روانہ ہونے سے قبل عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا، "یا رسول اللہ! عین ممکن ہے کہ میں آپ سے دوبارہ نہ مل سکوں۔ مجھے نصیحت فرمائیے۔" آپ نے فرمایا، "عبداللہ! تم ایسی سرزمین پر جا رہے ہو جہاں اللہ تعالٰیٰ کو سجدہ کرنے والے کم ہی ہیں۔ جس قدر سجدے ممکن ہو سکیں، کرنا۔ اللہ کو کثرت سے یاد رکھنا، کیونکہ وہی مدد کرنے والا ہے اور تمہیں ہمیشہ اس کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ اگر تم یہ محسوس کرو کہ تمہارے اعمال اچھے نہیں، تو ان خیالات کی وجہ سے شیطان کی جانب سے دین اور عبادت سے دور کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دینا۔ اگر تمہیں اپنے دس گناہ یاد ہوں تو عبادت کر کے (اور توبہ کی مدد سے) انہیں نو کرنے کی کوشش کرنا۔ اپنے اعمال کو مزید برا کرنے کی بجائے اس موقع کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرنا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس حدیث کو مدنظر رکھا جائے تو انسان اس مایوسی سے بچ سکتا ہے جو گناہوں کے نتیجے میں شیطان پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اب میں گناہ تو کر ہی چکا، میں بہت برا تو ہو ہی چکا، کیوں نہ مزید گناہ کروں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسی کیفیت سے نکل کر توبہ اور عبادت کرنے کی تلقین سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو فرمائی۔ آپ ایک مرتبہ بے ہوش ہو کر پڑے جس پر آپ کی بہن رو رو کر بین کرنے لگیں اور آپ کے فضائل بیان کرنے لگیں۔ جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے انہیں فرمایا، "مجھ سے پوچھا جا رہا تھا کہ کیا تم ایسے ہی ہو؟" جنگ موتہ میں آپ سیدنا زید اور جعفر رضی اللہ عنہما کے بعد بے جگری سے لڑے اور جام شہادت نوش فرمایا۔ اس موقع پر آپ کی نصیحت کے مطابق آپ کی بہن نے کوئی بین نہ کیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے