دمشق میں زین العابدین کا خطبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

جنت البقیع کا تاریخی مقبرہ جہاں زین العابدین مدفون تھے، سنہ 1925ء میں مسمار کر دیا گیا۔

دمشق میں امام زین العابدین کا خطبہ، وہ خطبہ ہے جسے آپ نے واقعہ عاشورا کے بعد دمشق، شام میں یزید بن معاویہ کے دربار میں ارشاد فرمایا۔ امامزین العابدین اور اسیران کربلا کی موجودگی میں یزید کے حکم پر ایک خطیب نے منبر سےبنی امیہ کی مدح اور حضرت علی بن ابی طالب اور آپ کے اہل بیت کی مذمت میں ایک تقریر کی۔ امام زین العابدین نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خطیب کے جواب میں علی بن ابی طالب کے فضائل بیان فرمائے۔ یہ خطبہ جس کے اکثر مطالب علی بن ابی طالب کی مدح اور فضیلت پر مشتمل ہیں۔ شام میں ایک وسیع اثرات کا حامل رہا اور یزید بن معاویہ کی ظاہری سیاست میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

تاریخ[ترمیم]

امام زین العابدین بن حسین جنہیں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، واقعہ کربلا کے اسیروں میں سے تھے۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ اور اہلبیت کی باقی خواتین کو اسیر بنا کر دمشق لے جایا گیا یزید بن معاویہ کے سامنے پیش ہونے کے لیے۔ شام میں اہل بیت کے داخل ہونے کی تاریخ دقیق طور پر معلوم نہیں اسی بنا پر اس خطبے کی تاریخ بھی دقیق طور پر مشخص نہیں ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس خطبے کو شام میں اسیران کربلا کی اقامت کے آخری ایام میں ارشاد فرمایا ہے، کیونکہ اس خطبے کے بعد یزید بن معاویہ نے اہل بیت کو مزید وہاں رکھنے میں مصلحت نہیں دیکھی اور انہیں مدینہ واپس بھیجنے کے مقدمات فراہم کیا۔

امام زین العابدین کا خطبہ[ترمیم]

اسرائے اہل بیت کی موجودگی میں یزید بن معاویہ نےشام کی مسجد اموی میں ایک محفل منعقد کروایا اور اپنے باطل خیال کے مطابق وہ اس کام کے ذریعے اہل بیت کو رسوا کرنا چاہتا تھا۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق ایک خطیب نے ممبر سے یزید بن معاویہ اور اس کے آباء و اجداد کی مدح سرائی کرنا شروع کیا۔ اس موقع پر امامزین العابدین نے مذکورہ خطیب سے فرمایا:

"وای ہو تم پر! تم مخلوق کی خشنودی اور رضایت کو خدا کی خوشنودی پر مقدم کیا اور جہنم میں اپنا ٹھکانا معین کیا"۔[1]

اس کے بعد امام زین العابدین نے یزید بن معاویہ کی طرف رخ کر کے تقریر کرنے کی اجازت مانگی، ناسخ التواریخ میں آیا ہے کہیزید بن معاویہ نے امام زین العابدین کی درخواست کو رد کیا لیکن شامیوں کی اصرار پریزید بن معاویہ نے مجبورا امامزین العابدین کی درخواست کو قبول کیا۔

اجمالی تعارف[ترمیم]

امامزین العابدین نے اس خطبے کے ابتدائی جملات میں اجمالی طور پر اپنا ، اپنے خاندان کا اوراہل بیت کا تعارف کرایا۔ ان جملات میں اس خاندان کے علم، حلم اور شجاعت کو بیان کرتے ہوئے اس خاندان کے بعض مشہور و معروف شخصیات جیسےسید الشہداء حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اورحضرت جعفر طیار وغیرہ کا نام لیا۔

تفصیلی تعارف[ترمیم]

امام زین العابدین نے اس خطبے کا آغاز اللہ کے با برکت نام سے کیا اور فرمایا۔

میں پسرِ زمزم و صفا و مروہ ہوں، میں فرزندِ فاطمہ زہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔ ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔[2]

اے مرد مانِشام عوام الناس ہوشیار ہو جاو کہ اللہ تعالٰی نے بے شمار نبی و اولیاء دنیا میں بھیجے ہیں ۔ اُن میں سے سات فضیلتیں اللہ تعالٰی نے ہم کو خاص طور پر بخشی ہیں ۔

1 ۔ علم 2۔ حلم ۔ 3 ۔ بخشش 4۔ بخشش 5 ۔ بزرگواری 6 ۔ محبت 7 ۔ اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت قائم کی ہے ۔

"یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تو یزید بن معاویہ گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں۔ اذان شروع ہوئی تو حضرت زین العابدین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرتزین العابدین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید! تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید بن معاویہ نے کہا کہ آپ کے تو حضرت زین العابدین نے فرمایا کہ پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا؟۔ یہ سن کر یزید بن معاویہ یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں"۔

پیغمبر اکرم کے ساتھ اپنی قرابت[ترمیم]

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعارف کا مقصد اسیرانکربلا کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود قرابت کو لوگوں تک پہنچانا مقصود تھا ورنہشام کے لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو جانتے تھے اس حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی تعارف کا محتاج نہیں تھے۔ بلکہ یہاں یہ ان اسیروں کی قافلہ کی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود نسبت اور قرابت کو بتانا مقصود تھا جسے حکمران جماعت خارجی کے نام سے متعارف کرا رہی تھی۔

علی بن ابی طالب کا تعارف[ترمیم]

شام میں بنی امیہ کے ہاتھوں امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب کی شخصیت اس حد تک تخریب ہو چکی تھی کہ امام زین العابدین کو اس خطبے میں زیادہ تر حضرت علی بن ابی طالب کا تعارف کرنا پڑا اور یہ بہترین موقع تھا کہ امام زین العابدین بنی امیہ کے ہاتھوں چالیس سال تک تخریب شدہ حضرت علی بن ابی طالب کی شخصیت کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔

دو تلواروں کے ساتھ جنگ کرنا[ترمیم]

امام زین العابدین حضرت علی بن ابی طالب کی بعض فضائل کو بیان کرنے کے بعد اس فضیلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے دادا نے دو دو تلواروں کے ساتھ جنگ کیا۔ یہاں دو تلوار سے کیا مراد ہے، کچھ احتمالات پائے جاتے ہیں:

  • وہ دو تلواریں جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے حضرت علی بن ابی طالب کو بخش دی تھی۔ پیغمبر اکرم(ص) نے آٹھویں سنہ ہجری کو حضرت علی بن ابی طالب کو منات نامی ایک بت کو توڑنے کے لیے روانہ کیا۔ امام علی بن ابی طالب نے اس بت کو توڑنے کے بعد اس بت سے متعلق تمام اشیاء کو اٹھا کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ اس بت سے متعلق اشیاء میں دو تلواریں بھی تھیں جسے حضرت علی بن ابی طالب نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ان تلواروں کو حارث بن ابى شمر غسانی -پادشاہ غسان- نے اس بت کے لیے ہدیہ کے طور پر دیا تھا۔ ان تلواروں میں سے ایک کا نام مخذم اور دوسرے کا نام رسوب تھا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں تلواروں کو حضرت علی بن ابی طالب بخش دیے۔
    کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک وہی تلوار ہے جو ذو الفقار کے نام سے معروف ہے۔[3]
  • دو تلوار سے مراد تنزیل اور تاویل ہے۔[4] پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث میں آیا ہے کہ:
    علی بن ابی طالب ، تاویل کے مطابق جنگ کرینگے جس طرح میں نے تنزیل کے مطابق جنگ کیا۔[5]
  • مراد یہ ہے کہ ایک تلوار کے بعد دوسری تلوار لے کر جنگ کرتے تھے جس طرح یہ کامجنگ احد میں انجام دیا کہ آپ کی پہلی تلوار کے ٹوٹنے کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذو الفقار نامی تلواردے دی تھی ۔[4]

فاطمہ زہرا کے ساتھ قرابت کا تذکرہ[ترمیم]

چونکہ شام میں فقط حضرت فاطمہ زہرا کی شخصیت تخریب سے محفوظ تھی اس لیے امام زین العابدین بھی فقط کے ساتھ اپنی قرابت کا تذکرہ کیا۔

امام حسین کی مظلومیت[ترمیم]

امام زین العابدین نے علی بن ابی طالب کے تعارف اور اپنے آپ کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور فاطمہ زہرا سے منسوب کرنے کے بعد امام حسین بن علی کی مظومیت اور آپ کی شہادت کی نوعیت بیان فرمائی۔ امام زین العابدین کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور فاطمہ زہرا کے ساتھ قرابت ثابت ہونے اور علی بن ابی طالب کے بارے میں معاویہ اور یزید کے جھوٹے پروپیگنڈے اور امام حسین بن علی کی مظلومانہ شہادت سے با خبر ہونا شام کے لوگوں پر کافی اثر انداز ہو سکتا تھا اس لیے امام زین العابدین نے اس خطبے میں اپنے والد گرامی کی مظلومانہ پر بھی کسی حد تک گفتگو فرمائی۔

لوگوں کا رد عمل[ترمیم]

امام زین العابدین کے دوٹوک اور روشنگرانہ خطبے نے حکومت یزید بن معاویہ کی بنیادیں کو ہلا کر رکھ دیا۔آپ کے خطبے سے مسجد میں موجود لوگ بہت متأثر ہوئے۔ ریاض القدس نامی کتاب میں آیا ہے کہ یزید بن معاویہ نماز پڑھے بغیر مسجد سے باہر چلا گیا یوں یہ اجتماع بھی درہم برہم ہو گیا۔ جب امام زین العابدین ممبر سے نیچے اتر آئے تو لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو گئے سب نے اپنے کیے پر امام سے معافی مانگی ۔[6]

دربار میں موجود ایک یہودی کی حکایت[ترمیم]

امام زین العابدین کے خطبے کے بعد محفل میں موجود ایک یہودی نے یزید بن معاویہ کو برا بھلا کہا اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی کے اولاد کو اس طرح مظلومانہ طور پر شہید کرنے پر اس کی یوں مذمت اور سرزنش کی:

خدا کی قسم اگر ہمارے نبی موسی ابن عمران کی کوئی اولاد ہمارے پاس ہوتے تو ہمارا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پرستش کی حد تک احترام کرتے۔ لیکن تم لوگ! تمہارا نبی کل اس دنیا سے چلا گیا ہے اور آج ان کی اولاد پر حملہ آور ہوئے ہو اور اسے تہ تیغ کر ڈالے ہو؟ افسوس ہو تم لوگوں پر![7]

خطبے کا اردو ترجمہ[ترمیم]

اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے۔

لوگو! خدا نے ہمیں چھ امتیازات اور سات فضیلتوں سے نوازا ہے؛ ہمارے چھ امتیازات علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت، شجاعت، اور مؤمنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں۔ ہماری ساتھ فضیلتیں یہ ہیں:

خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سے ہیں۔

صدیق امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ہم سے ہیں۔

جعفر طیار ہم سے ہیں۔

شیر خدا اور شیر رسول خدا حمزہ بن عبد المطلب سید الشہداء ہم سے ہیں۔ اس امت کے دو سبط حسن و حسین علیہ السلام ہم سے ہیں۔

زہرائے بتول سلام اللہ ہم سے ہیں اور

مہدی امت ہم سے ہیں۔

لوگو! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں

جانتا میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کرواکر اپنا تعارف کراتا ہوں۔

لوگو! میںمکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں،

میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں،

میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھاکر اپنے مقام پر نصب کیا،

میں بہترینِ عالم کا بیٹا ہوں،

میں اس عظیم ہستی کا بیٹا ہوں جس نے احرام باندھا اور طواف کیا اور سعی بجا لائے،

میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں؛

میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے،

میں ان کا بیٹا ہوں جنہوں نے معراج کی شب مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی

میں اس ہستی کا بیٹا ہوں جن کو جبرائیل سدرۃ المنتہی تک لے گئے

میں ان کا بیٹا ہوں جو زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ تھے دو کمان یا اس سے کم تر کے فاصلے پر [اور وہ پروردگار کے مقام قرب پر فائز ہوئے]

میں ہوں اس والا صفات کا بیٹا جنہوں نے آسمان کے فرشتوں کے ہمراہ نماز ادا کی؛

میں ہوں بیٹا اس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی؛

میں محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور علی مرتضی (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں۔

میں اس شخصیت کا بیٹا ہوں جس نے مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کی ناک خاک میں رگڑ لی حتی کہ کفار و مشرکین نے کلمہ توحید کا اقرار کیا؛

میں اس عظیم مجاہد کا بیٹا ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سامنے اور آپ (ص) کے رکاب میں دو تلواروں اور دو نیزوں سے جہاد کیا اور دوبار ہجرت کی اور دوبار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ پر بیعت کی؛ بدر و حنین

میں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کیا اور لمحہ بھر کفر نہیں برتا؛

میں اس پیشوا کا بیٹا ہوں جو مؤمنین میں سب سے زيادہ نیک و صالح، انبیاء علیہم السلام کے وارث، ملحدین کا قلع قمع کرنے والے، مسلمانوں کے امیر، مجاہدوں کے روشن چراغ، عبادت کرنے والوں کی زینت، خوف خدا سے گریہ و بکاء کرنے والوں کے تاج، اور سب سے زیادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل یسین (یعنی آل محمد (ص)) میں سب زیادہ قیام و عبادت کرنے والے والے ہیں۔

میرے داد (علی) وہ ہيں جن کو جبرائیل (ع) کی تائید و حمایت اور میکائیل (ع) کی مدد و نصرت حاصل ہے،

میں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بیٹا ہوں؛ وہی جو مارقین (جنگ نہروان میں دین سے خارج ہونے والے خوارج)، ناکثین (پیمان شکنوں اور اہل جمل) اور قاسطین (صفین میں امیرالمؤمنین (ع) کے خلاف صف آرا ہونے والے اہل ستم) کو ہلاک کرنے والے ہیں، جنہوں نے اپنے ناصبی دشمنوں کے خلاف جہاد کیا۔

میں تمام قریشیوں کی سب سے افضل اور برترو قابل فخر شخصیت کا بیٹا ہوں اور اولین مؤمن کا بیٹا ہوں جنہوں نے خدا اور رسول (ص) کی دعوت پر لبیک کہا اور سابقین میں سب سے اول، متجاوزین اور جارحین کو توڑ کر رکھنے والے اور مشرکین کو نیست و نابود کرنے والے تھے۔

میں اس شخصیت کا فرزند ہوں جو منافقین کے لئے اللہ کے پھینکے ہوئے تیر کی مانند، عبادت گذاروں کی زبان حکمت ، دین خدا کے حامی و یار و یاور، اللہ کے ولی امر(صاحب ولایت و خلافت)، حکمت الہیہ کا بوستان اور علوم الہیہ کے حامل تھے؛ وہ جوانمرد، سخی، حسین چہرے کے مالک، تمام نیکیوں اور اچھائیوں کے جامع، سید و سرور، پاک و طاہر، بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشیت پر بہت زیادہ راضی، دشواریوں میں پیش قدم، والا ہمت اور ارادہ کرکے ہدف کو بہرصورت حاصل کرنے والے، ہمیشہ روزہ رکھنے والے، ہر آلودگی سے پاک، بہت زیادہ نمازگزار اور بہت زیادہ قیام کرنے والے تھے؛ انھوں نے دشمنان اسلام کی کمر توڑ دی، اور کفر کی جماعتوں کا شیرازہ بکھیر دیا؛ سب سے زیادہ صاحب جرأت، سب سے زیادہ صاحب قوت و شجاعت ہیبت، کفار کے مقابلے میں خلل ناپذیر، شیر دلاور، جب جنگ کے دوران میں نیزے آپس میں ٹکراتے اور جب فریقین کی اگلیں صفیں قریب ہوجاتی تھیں وہ کفار کو چکی کی مانند پیس دیتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کردیتے تھے۔ وہ حجاز کے شیر اور عراق کے سید و آقا ہیں جو مکی و مدنی و خیفی و عقبی، بدری و احدی و شجر؛ اور مہاجری ہیں جو تمام میدانوں میں حاضر رہے اور وہ سیدالعرب ہیں، میدان جنگ کے شیر دلاور، اور دو مشعروں کے وارث (اس امت کے دو) سبطین "حسن و حسین (ع)" کے والد ہیں؛ ہاں! یہ میرے دادا علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔

امام زین العابدین نے مزید فرمایا: میںفاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا بیٹا ہوں میں عالمین کی تمام خواتین کی سیدہ کا بیٹا ہوں۔

پس امام زین العابدین نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اس قدر "انا انا" فرمایا کہ حاضرین دھاڑیں مار مار اور فریادیں کرتے ہوئے رونے لگے اور یزید شدید خوف و ہراس کا شکار ہوا کہ کہیں لوگ اس کے خلاف بغاوت نہ کریں پس اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ اذان دے اور اس طرح اس نے امام (ع) کا کلام قطع کردیا۔

مؤذن نے کہا:

الله أكبر الله أكبر

امام زین العابدین نے فرمایا: خدا سب سے بڑا ہے اور کوئی چیز بھی اس سے بڑی نہیں ہے۔

مؤذن نے کہا:

أشهد أن لاإله إلا الله

امام زین العابدین نے فرمایا: میرے بال، میری جلد، میرا گوشت اور میرا خون سب اللہ کی وحدانیت پر گواہی دیتے ہیں۔

مؤذن نے کہا: أشهد أن محمدا رسول الله

امام زین العابدین نے سر سے عمامہ اتارا اور مؤذن سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے مؤذن! تمہیں اسی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واسطہ، یہیں رک جاؤ لمحہ بھر، تا کہ میں ایک بات کہہ دوں؛ اور پھر منبر کے اوپر سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے یزید! کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے نانا ہیں یا تمہارے؟ اگر کہو گے کہ تمہارے نانا ہیں تو جھوٹ بولوگے اور کافر ہوجاؤ گے اور اگر سمجھتے ہو کہ آپ (ص) میرے نانا ہیں تو بتاؤ کہ تم نے ان کی عترت اور خاندان کو قتل کیوں کیا اور تم نے میرے والد کو قتل کیا اور ان کے اور میرے خاندان کو اسیر کیوں کیا؟

اس کے بعد مؤذن نے اذان مکمل کرلی اور یزید آگے کھڑا ہوگیا اور نماز ظہر ادا ہوئی۔[8][9][10]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بحارالانوار، ج45، ص174؛ عوالم، ج17، ص409؛ نفس المہموم، ص451؛ حیاۃ الحسین، ص386
  2. مقتل ابی مخنف صفحہ 135 ۔ 136
  3. الأصنام، ترجمہ، ص19
  4. ^ ا ب بحار الانوار، ج39، ص341
  5. الإنصاف، ص132
  6. ریاض القدس، ج2، ص329
  7. بحارالأنوار، ج45، ص139؛ مفضل خوارزمی، ج2، ص69
  8. ابن شہر آشوب، مناقب، قم، انتشارات علامہ
  9. باقر شریف قرشی، حیاہ الامام زین العابدین، دار الكتاب الاسلامی
  10. سید عبدالرزاق موسوی مقرم، مقتل الحسین، دارالکتاب الاسلامى، بیروت