مندرجات کا رخ کریں

محمد بن عبد اللہ کی مدنی زندگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مقالات بسلسلۂ
محمد
محمد
باب محمد



سانچہ:اسلامی ریاست

تعارف

[ترمیم]

ریاستِ مدینہ یا اسلامی ریاستِ یثرب حضرت محمد ﷺ کے دور میں قائم ہونے والی پہلی اسلامی حکومت تھی، جس کی بنیاد 622ء میں ہجرت کے بعد رکھی گئی۔ یہ ریاست نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی پہلی دستوری اسلامی ریاست تھی، جس نے مذہب، سیاست، معاشرت، عدل اور اقوامی اتحاد کا جامع نظام پیش کیا۔ اس کا مرکز مدینہ منورہ تھا اور اس کے زیرِ اثر علاقوں میں مکہ، بحرین، یمن، عمان، حبشہ (نجاشی کی بادشاہی) اور باذان کی حکومت شامل تھیں۔[1][2]

پس منظر

[ترمیم]

ہجرت سے قبل مدینہ (یثرب) ایک قبائلی سماج تھا جس پر تین بڑے یہودی قبائلبنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ — اثرانداز تھے۔ عرب قبائل اوس اور خزرج کے درمیان کئی دہائیوں سے خانہ جنگی جاری تھی۔ بعثتِ نبوی کے بعد جب مدینہ کے نمائندوں نے بیعت عقبہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تو ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی گئی۔[3]

قیام

[ترمیم]

ریاستِ مدینہ کی باضابطہ تشکیل 1 ہجری (622ء) میں میثاق مدینہ کے ذریعے ہوئی، جو دنیا کا پہلا تحریری آئین سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں مسلمانوں، یہودیوں اور مشرکین کو ایک شہری اتحاد (امت واحدہ) میں شامل کیا گیا۔[4]

جغرافیہ و آبادی

[ترمیم]

ابتدائی ریاست کا رقبہ تقریباً 20,000 مربع کلومیٹر تھا، جس میں مدینہ منورہ مرکزی دار الحکومت اور قبا، خیبر، بدر، احد، حنین اور تبوک اس کے اہم مضافاتی علاقے تھے۔ 9 ہجری تک ریاست کا دائرہ وسیع ہوکر پورے حجاز، بحرین، یمن، عمان، حبشہ اور حضرموت تک پھیل گیا۔

آبادی و مذہبی تناسب (9 ہجری تک)

[ترمیم]
علاقہ مسلم آبادی (%) غیر مسلم (یہودی، نصاریٰ، مشرک)
مدینہ 100
مکہ 100
بحرین 85 15 (عیسائی و مجوسی)
یمن 90 10 (یہودی)
عمان 80 20 (مجوسی)
حبشہ (نجاشی) 70 30 (عیسائی رعایا)
مجموعی اوسط 88٪ مسلم 12٪ غیر مسلم

نظامِ حکومت

[ترمیم]

ریاستِ مدینہ میں حکومت کا سربراہ نبی کریم ﷺ تھے جو سربراہِ مملکت، فوجی کمانڈر، قاضی اور معلم کے فرائض انجام دیتے تھے۔ شوریٰ کے اراکین میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور دیگر صحابہ شامل تھے۔ حکومت کا بنیادی ماخذ قرآن و سنت تھے اور عدلیہ براہِ راست نبی اکرم ﷺ کے زیرِ نگرانی تھی۔

آئین و قانون

[ترمیم]

میثاق مدینہ کو ریاست کا پہلا آئین قرار دیا گیا، جس کی دفعات میں:

  • تمام شہری برابر ہوں گے۔
  • مذہبی آزادی ہوگی۔
  • امن و دفاع مشترکہ ذمے داری ہوگی۔
  • ظلم، قتل اور غدر کی سزا طے کی گئی۔
  • زکوٰۃ، جہاد اور عدل ریاستی اصول قرار پائے۔

[5]

صوبے و ماتحت ریاستیں

[ترمیم]

9 ہجری تک درج ذیل علاقے رسمی طور پر اسلامی ریاست کے صوبے یا اتحادی بن چکے تھے:

صوبہ / ریاست گورنر مرکزی شہر شمولیت کا سال
بحرین علاء بن حضرمیؓ ہجر 8 ہجری
یمن (باذان کی بادشاہی) باذانؓ بن ساسان، بعد میں شاہانِ یمن صنعاء 7 ہجری
عمان جیفر و عبد بن جلندی صحار 8 ہجری
حبشہ (نجاشی کی بادشاہی) اصحمہ النجاشی (متحد) اکسوم 6 ہجری
نجد و طائف عتاب بن اسیدؓ طائف 9 ہجری
مکہ عتاب بن اسیدؓ مکہ مکرمہ 8 ہجری
مدینہ منورہ براہِ راست نبی ﷺ مدینہ 1 ہجری

معیشت

[ترمیم]

ریاست کی معیشت زکوٰۃ، صدقہ، خراج، جزیہ اور تجارت پر مبنی تھی۔ بازارِ مدینہ کو حضرت عمرؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے منظم کیا۔ 9 ہجری تک بیت المال میں بحرین، یمن اور نجد سے سالانہ محصولات آنا شروع ہو گئے۔[6]

بین الاقوامی تعلقات

[ترمیم]

صلح حدیبیہ (6 ہجری) کے بعد ریاست مدینہ نے روم، فارس، حبشہ اور مصر کے بادشاہوں کو خطوط بھیجے۔ باذان (فارس کا گورنر یمن) اسلام قبول کر کے ریاست کا صوبائی گورنر بن گیا۔ نجاشی نے مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی دی اور بعد میں خود بھی ایمان لایا۔

اہم واقعات

[ترمیم]

معاشرت و عدل

[ترمیم]

اسلامی معاشرت میں اخوت، انفاق، حیاء، عدل اور احسان بنیادی اصول تھے۔ یہودیوں و عیسائیوں کو ذمی درجہ دے کر امن و تحفظ فراہم کیا گیا۔ غریبوں اور غلاموں کی آزادی کے لیے خصوصی احکامات جاری ہوئے۔

مابعد اثرات

[ترمیم]

ریاستِ مدینہ نے اسلامی تاریخ میں خلافت راشدہ، اموی خلافت اور عباسی خلافت کی بنیاد رکھی۔ یہ ریاست جدید اسلامی آئینی نظام، شہری مساوات اور اقوامی اتحاد کی اولین مثال تھی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 2
  2. سیرت ابن ہشام، جلد 2، باب: میثاق مدینہ
  3. ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3
  4. میثاق مدینہ، بحوالہ: ابن ہشام، سیرت النبی
  5. دستوری نظریہ اسلام، ڈاکٹر حمید اللہ
  6. کتاب الاموال، قاضی ابو عبید

مزید دیکھیے

[ترمیم]

سانچہ:اسلامی تاریخ سانچہ:اسلامی سلطنتیں


---



محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدنی زندگی کا آغاز 622ء میں ہجرت مدینہ سے ہوتا ہے۔ یثرب اس وقت خانہ جنگی کا شکار تھا۔ اوس و خزرج آپس میں دست و گریباں تھے تو دونوں مل کر یہودی قبائل سے لڑتے تھے۔ چنانچہ اوس و خزرج نے اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے اور آپسی خاندانی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے نبی محمد کو اپنے شہر آکر رہنے کی دعوت دی جسے نبی نے بخوشی قبول فرمایا۔[1] آپ نے مکہ کو الوداع کہ کر یثرب کا رخ کیا جسے بعد از ہجرت مدینۃ النبی اور مختصرا مدینہ کہا جانے لگا۔

واقعات مدنیہ

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]