عبداللہ ابن زبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

64 تا 73ھ

685 تا 695ء

حضرت عبداللہ بن زیبر ، زبیر ابن العوام کے صاحبزادے تھے۔ آپ کی والدہ حضرت اسماء حضرت ابوبکر صدیق کی بڑی بیٹی اور حضرت عائشہ کی حقیقی بہن تھیں۔ مدینہ منورہ میں 2 ھ کو پیدا ہوئے۔ اس سے پہلے مہاجرین کے ہاں چونکہ کافی عرصہ تک کوئی اولاد نہ ہوئی اس لیے یہود مدینہ نے اسے سحرکاری کا کرشمہ قرار رکھا تھا۔ لٰہذا آپ کی پیدائش پر مسلمانوں نے خوب خوشیاں منائیں۔ تقریباً 8 برس کی عمر میں رسول اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کا شمار ان مشاہیر اسلام میں ہوتا ہے جنہوں نے حق و صداقت کا علم بلند رکھنے کے لیے اپنی جان تک بھی نثار کرنے سے دریغ نہ کیا۔

بچپن ہی سے آپ کی پیشانی سے بڑائی کے آثار ہواید تھے۔ دلیری بہادری ، شجاعت اور صاف گوئی کے اوصاف کی وجہ سے خواص و عوام میں معروف تھے۔ خلافت راشدہ کے دور میں آپ کئی ایک مہمات میں شریک ہوئے اور قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ جنگ جمل میں اپنی خالہ حضرت عائشہ کی حمایت میں بڑی بے جگری سے لڑے ۔ اس لڑائی میں ان کے جسم پر 40 سے زیادہ زخم لگے۔ جب امیر معاویہ نے اپنی زندگی میں یزید کو خلیفہ نامزد کیا تو آپ نے شدید مخالفت کی۔ امیر معاویہ کی وفات کے بعد جب یزید کے قاصد آپ سے بیعت لینے آئے تو آپ ایک دن کی مہلت لے کر مدینہ سے نکل کر مکہ میں آگئے اور حدود حرم میں پناہ لی۔ آپ کی پیہم کوششوں کے نتیجہ کے طور پر اہل حجاز نے اموی خلافت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔

اعلان خلافت

شہادت حسین نے لوگوں کے دلوں کے اندر سوئے ہوئے جذبات کو اس قدر شدت سے برانگیختہ کیا کہ ملک کے طول و عرض میں اموی اقتدار کے خلاف عام ناراضگی اور بغاوت کی ایک زبردست لہر اٹھ کھڑی ہوئی چنانچہ جب ابن زبیر نے اہل حجاز کو انقلاب کی دعوت دی تو اہل مکہ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس وقت دنیائے اسلام میں آپ جیسی موثر شخصیت کا حامل کوئی دوسرا شخص نہ تھا اس لیے اہل مدینہ نے بھی جلد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔

واقعہ حرہ

یزید نے اہل مدینہ کو بیعت پر مجبور کرنے کے لیے مسلم بن عقبہ کو دس ہزار فوجیوں کے ساتھ حجاز روانہ کیا۔ اہل مدینہ نے شامی افواج کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا مگر تین دن کی جنگ کے بعد شکست کھائی۔ شامی افواج میں اکثریت عیسائی فوجیوں کی تھی جنھوں نے مسلمانوں کی عزت و آبرو پر بڑے بے دردی سے ہاتھ ڈالا اور ان کے مال اسباب کو جی بھر کر لوٹا۔ اس تباہی سے جو لوگ زندہ بچ گئے انھوں نے بیعت کر لی ۔ تاریخ اسلام میں اس واقعہ کو سانحہ حرہ کا نام دیا جاتا ہے۔

یزید کی موت

مدینہ کو تاخت و تاراج کرنے کے بعد یزید کی افواج مکہ کی طرف بڑھیں۔ مسلم بن عقبہ دوران سفر ہی میں مر گیا۔ لٰہذا حصین بن نمیر کو سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ ابن نمیر نے مکہ کا محاصرہ کر لیا جو 64 دن جاری رہا اس دوران جب یزید کی موت کی خبر پہنچی تو محاصرہ اٹھا لیا گیا۔ اس وقت ابن زبیر ہی مسلمانوں میں سب سے معروف اور موثر شخصیت کے حامل تھے لہذا ابن نمیر نے آپ کو خلافت کی پیش کش کی اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ابن زبیر اگرچہ ایک دلیر اور بہادر انسان تھے مگر انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا اور کہا کہ :

’’ جب تک ایک ایک حجازی کے بدلے دس دس شامیوں کو قتل نہ کر لوں گا تب تک کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘

یہ جواب سن کر حصین نے کہا

’’جو شخص آپ کو عرب کا مدبر کہتا ہے وہ غلطی پر ہے۔ میں آپ کوراز کی بات کہتا ہوں اور آپ چلا کر اس کا جواب دیتے ہیں۔ خلافت دلانا چاہتا ہوں اور آپ جنگ و خونریزی پر آمادہ ہیں۔‘‘

ابن نمیر مایوس ہو کر شام واپس لوٹ گیا۔ یہ آپ کی ایک سیاسی غلطی تھی اگر آپ جذبات کی بجائے دو ر اندیشی سے کام لیتے تو حجاز کے علاوہ شام اور عراق بھی فوری طور پر آپ کی خلافت کو تسلیم کر لیتے اور اس طرح اموی خلافت حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ۔

عراق اور مصر کی اطاعت

ابن زبیر کی شخصیت اس وقت تمام عالم اسلام میں نمایاں اور محترم تھی۔ کوئی شخص بھی ان کے مدمقابل دعویٰ خلافت کرنے کی اہلیت اور حوصلہ نہ رکھتا تھا ۔ چنانچہ ان کے داعیوں اور ساتھیوں نے عراق مصر و شام کا رخ کیا۔ سوائے شام کے باقی سب ملکوں کے حکمرانوں اور عمائدین حکومت نے عبداللہ بن زبیر کو اپنی وفاداریاں سونپ دیں۔ عوام نے بھی ان کی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح آپ کی خلافت کی حدود حجاز کے علاوہ عراق اور مصر تک وسیع ہوگئیں۔

معرکہ مرج راہط کے اثرات

عبداللہ ابن زبیر نے مروان کو شام دھکیل کر زبردست سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا۔ چنانچہ مدینہ منورہ سے جب مروان بن حکم شام پہنچا تو تمام اموی اس کے گرد جمع ہو گئے ۔اور اکثر امویوں نے اس کے وجود کو غنیمت جانا اور باہمی مشورہ اور رائے کے بعد دوسرے دو خلافت کے دعویداروں کی بجائے ، مروان بن حکم کو ہی 683ء میں اپنا خلیفہ چن کر اس کی بیعت کر لی۔ قبیلہ بنو قیس نے امویوں کے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ مروان اور حامیان عبداللہ بن زبیر (بنو قیس) کے درمیان معرکہ مرج راہط پیش آیا جس میں بنو قیس کو شکست ہوئی اور اس طرح عبداللہ ابن زیبر کی قوت کو پہلی کاری ضرب لگی۔

توابین اور مختار ثقفی کی بغاوت

یزید کی موت کے بعد عراقیوں نے بھی عبداللہ ابن زبیر کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا کیونکہ بصرہ پر ان کے بھائی مصعب ابن زبیر کا قبضہ تھا۔ اور کوفہ ان کے مقرر کردہ والی عبداللہ ابن یزید کے ماتحت تھا۔ عراق ہمیشہ کی طرح شورشوں اور سازشوں کا مرکز تھا۔ افراتفری کے اس عالم میں کئی ایک گروہ اور اشخاص اس کشمکش سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیے راہ ہموار کر رہے تھے۔ ان میں توابین کا گروہ سرفہرست تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امام حسین کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی مگر خوف کی بنا پر ان کی کوئی مدد نہ کی ۔ انھوں نے اپنے گناہوں کے کفارہ کے لیے یہ عہد کیا کہ خون حسین کا بدلہ لیں گے۔ چنانچہ اس وجہ سے توابین کہلائے۔ توابین کے رہنما سلیمان بن صرو نے عراق میں علم بغاوت بلند کیا لیکن شکست کھا کر شہید ہوئے۔ مختار ثقفی نے جو کہ نہایت ہی زیرک مگر عیار انسان تھا حالات سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ توابین نے اب اسے اپنا رہنما بنا کر کوفہ پر حملہ کر دیا۔ کوفہ کا حاکم عبداللہ بن مطیع جو کہ عبداللہ بن زبیر کا ہمنوا تھا قتل کر دیا گیا۔ مختار ثقفی نے کوفہ پر قبضہ کے بعد قاتلین حسین کو چن چن کر قتل کیا۔ اس نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ عام عرب آبادی کو بھی نشانہ ستم بنانا شروع کر دیا۔ عرب اکابرین نے مصعب ابن زبیر سے شکایت کی چنانچہ مصعب نے اپنے نامور سپہ سالار مہلب بن ابی صفرہ کو مختار ثقفی کی سرکوبی کے لیے مقرر کیا۔ پہلی جھڑپ میں ہی کوفیوں نے شکست کھائی اور ان کی فوج کا کثیر حصہ تباہ ہوگیا۔ مختار ثقفی نے اب محصور ہو کر لڑنے کو ترجیح دی ۔ یہ محاصرہ تقریباً چار ماہ قائم رہا لیکن بالآخر مختار قتل ہو گیا۔ مختار کے قتل کے بعد عراق عبداللہ ابن زبیر کی عملداری میں آگیا۔

خارجیوں کے خلاف اقدامات

مختار کی سرکشی کے خاتمہ کے بعد عبداللہ ابن زیبر نے اب اپنے دوسرے طاقتور حریف کی طرف توجہ دی ۔ اگرچہ یزید کے مقابلہ میں انھوں نے ابن زیبر کا ساتھ دیا لیکن اپنے انتہا پسندانہ نظریات کی بنا پر کسی کے ساتھ بھی زیادہ عرصہ چل نہ سکتے تھے۔ چنانچہ خوارج کے سردار نافع بن ارزق نے عراق میں بڑی سخت بدامنی اور شورش برپا کی۔ عبداللہ بن حارث والئی بصرہ کے ساتھ مقابلہ میں نافع مارا گیا لیکن خوارج کی مزاحمت میں کوئی کمی نہ آئی۔ لٰہذا ابن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو خارجیوں کا قلع قمع کے لیے روانہ کیا۔ جس نے بڑے خونریز معرکوں کے بعد ان کی طاقت کو کچل دیا۔

عراق پر عبدالملک کا قبضہ

عبداللہ ابن زبیر کی سیاسی غلطیوں کی بناء پر حالات آہستہ آہستہ امویوں کے لیے سازگار ہو رہے تھے۔ عبدالملک بن مروان کسی صورت بھی یہ برداشت نہ کرسکتا تھا کہ عراق پر ابن زبیر کا قبضہ بدستور بحال رہے۔ لٰہذا اس نے ایک زبردست لشکر کے ساتھ عراق پر حملہ کر دیا۔ مصعب بن زبیر جو ایک بہادر اور نڈر سپاہی تھے بڑی جانبازی اور شجاعت سے لڑے مگر عراقیوں نے پھر بے وفائی کی اور ان کے بڑے بڑے سردار عبدالملک سے مل گئے۔ ان سے اگرچہ مصعب کی قوت کمزور ہو گئی مگر انھوں نے مقابلہ جاری رکھا۔ ابراہیم بن مالک جو اس جنگ میں مصعب کے دست راست تھے کام آئے۔ اس کے بعد مصعب خود بھی لڑتے ہوئے مارے گئے۔ مصعب کی افواج کو شکست ہوئی اور وہ میدان سے فرار اختیار کر گئیں۔ اب عراق عبدالمک کے قبضہ میں تھا۔

محاصرہ مکہ

ابن زبیر کا اقتدار پہلے ہی روبہ زوال تھا لیکن مصعب بن زبیر کے قتل نے عبدالملک اور ابن زبیر کے درمیان سیاسی کشمکش اور رسہ کشی کا حتمی فیصلہ کر دیا۔ عراق کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد ابن زبیر کی سیاسی اور فوجی قوت بہت زیادہ کمزور ہو چکی تھی۔ لٰہذا ان حالات میں عبدالملک کے لیے زبیری اقتدار پر ضرب کاری لگانا آسان تھا چنانچہ حجاج بن یوسف کو ابن زبیر کے خلاف مہم کا انچارج بنا کر روانہ کیا گیا۔ حجاج 695ء میں مکہ کا محاصرہ کرکے شہر پر سنگباری شروع کر دی۔ حدود حرم بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکیں اور خانہ کعبہ کی عمارت کو بھی خاصہ نقصان پہنچا۔ محاصرہ طویل مدت تک جاری رہا جس کی وجہ سے اہل مکہ کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ محاصرہ اس قدر شدید تھا کی کوئی چیز باہر سے اندر نہ جاسکتی تھی۔ اشیائے خوردو نوش کی قلت پیدا ہو چکی تھی عام آبادی قحط اور بھوک کا شکار تھی۔ لیکن یہ مصائب ابن زبیر کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکے۔ محصورین ان صعبتوں کو آخر کب تک برداشت کر سکتے تھے۔ آہستہ آہستہ ابن زبیر کا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا۔

عبداللہ بن زبیر کی شہادت

یہ محاصرہ تقریباً 7 ماہ جاری رہا۔ دونوں افواج نے حج کے دوران طواف وغیرہ کے لیے جنگ روک دی۔ حج کے اختتام پر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو حجاج نے شہر پر سنگباری کا حکم دیا جس سے شہر کا اکثر حصہ منہدم ہو گیا۔ جب مقابلہ جاری رکھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو آپ مشورہ کی غرض سے اپنی والدہ حضرت اسماء کےپاس گئے اور عرض کیا کہ

’’اب جب کہ میرے بیٹے بھی میرا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور جو چند باقی رہ گئے ان میں بھی لڑنے کی تاب نہیں ہے۔ ہمارا دشمن ہمارے ساتھ کوئی رعایت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟‘‘

حضرت اسماء جو حضرت صدیق اکبر کی بیٹی تھیں نے جواب دیا

’’بیٹا تم کو اپنی حالت کا اندازہ خود ہوگا۔ اگر تم حق پر ہو اور حق کے لیے لڑتے رہے ہو تو اب بھیاس کے لیے لڑو کیونکہ تمہارے بہت سے ساتھیوں نے اس کے لیے جان دی ہے اور اگر دنیا طلبی کے لیے لڑتے تھے تو تم سے برا کون خدا کا بندہ ہوگا۔ تم نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور اپنے ساتھ کتنوں کو ہلاک کیا۔ اگر یہ عذر ہے کہ حق پر ہو لیکن اپنے مددگاروں کی وجہ سے مجبور ہو تو یاد رکھو شریفوں اور دینداروں کا یہ شیوہ نہیں ہے۔ تم کو کب تک دنیا میں رہنا ہے۔ جاؤ حق پر جان دینا دنیا کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔‘‘

یہ جواب سن کر ابن زبیر نے کہا ماں مجھے ڈر ہے کہ میرے قتل کے بعد بنو امیہ میری لاش کو مثلہ کرکے سولی پر لٹکائیں گے ۔ اس خدا پرست خاتون نے جواب دیا۔ ’’ذبح ہو جانے کے بعد بکری کی کھال کھینچنے سے تکلیف نہیں ہوتی۔ جاؤ خدا سے مدد مانگ کر اپنا کام پورا کرو۔‘‘ ماں کے اس جواب سے ابن زبیر ایک نئے ولولہ اور جذبہ سے اٹھے ۔ ماں کو آخری بار الوداع کہہ کر دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے اور ان کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ لیکن بالآخر میدان جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ حجاج آپ کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا۔ جو تین دن وہیں لٹکتی رہی آپ کی والدہ حضرت اسماء کا ادھر سے گزر ہوا تو دیکھ کر بولیں

’’شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا۔‘‘

حجاج بن یوسف اور اس کی فوج نے شہر فتح کرکے کعبے پر مجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگادی۔ جس سے کعبہ کی دیواریں شق ہوگئیں اور حجر اسود کے تین ٹکڑے ہوگئے۔ لوگ کعبہ کی دیواروں کے ٹکرے اور حجر اسود کے ٹکرے اٹھا کر لے گئے جنہیں بعد میں منگوا کر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

عبداللہ بن زبیر کے ناکامی کے اسباب

حصین بن نمیر کا مشورہ ماننے سے انکار

یزید کی موت کی خبر پاکر شامی فوج کے سربراہ حصین بن نمیر نے مکہ کا محاصرہ اٹھا لیا اور عبداللہ بن زبیر کو بیعت کی پیشکش کی لیکن ابن زبیر نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ اور شامیوں سے حجازیوں کے قتل کا انتقام لینے کا اعلان کرکے شامیوں میں اپنے خلاف شدید ردعمل پیدا کر دیا۔ اس وقت اگر وہ حصین بن نمیر کی بات مان لیتے تو شام پر ان کا قبضہ ہو سکتا تھا اور ان کی بزرگی اور زہد و تقویٰ کی بدولت عام مسلمان بھی ان کی خلافت کو تسلیم کر سکتے تھے لیکن ابن زبیر نے اپنے مخالفین کو طاقتور ہونے کا موقع دے دیا ۔

مروان بن حکم کا مدینہ سے اخراج

یزید کی موت کے وقت مروان بن حکم مدینہ میں تھا اور عبداللہ بن زبیر کی بیعت کرنے کو تیار تھا لیکن حضرت ابن زبیر کو بنو امیہ سے سخت نفرت تھی۔ انہوں نے اس سے بیعت لینے کی بجائے اسے مدینہ سے نکال دیا۔ اس نے دمشق میں پہنچ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اس کے بیٹے عبدالملک نے ابن زبیر کی حکومت کو ختم کر ڈالا۔

خوارج کی شورش

خوارج اپنے عجیب و غریب عقائد اور سرکش مزاج کی وجہ سے تمام حکومتوں کے خلاف برسرپیکار رہتے ۔ عبداللہ بن زبیر کو بھی ایک نہایت نازک موقع پر ان کی شورش کو فرو کرنے کے لیے فوج بھیجنی پڑی۔ فیصلہ کن مراحل میں جب عبداللہ بن زبیر کو فوجی قوت کی شدید ضرورت تھی ، ان کی بہترین فوج مہلب بن ابی صفرہ کی قیادت میں خوارج کی شورش ختم کرنے میں مصروف تھی

توابین اور مختار ثقفی

عبداللہ بن زبیر کی قوت مختار ثقفی اور توابین کی شورشوں کو فرو کرنے میں زائل ہو گئی۔ ان تمام ہنگاموں کے بعد ابن زبیر کی قوت چونکہ کمزور پڑ چکی تھی اس لیے اموی انہیں آسانی سے شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔

عراقیوں کی غداری

عراقی متلون مزاجی اور وفاداریاں تبدیل کرنے میں بدنامی کی حد تک مشہور تھے۔ چنانچہ جب حجاج نے عراق پر فوج کشی کی تو مصعب کی فوج میں افسروں کی ایک کثیر تعداد انعام و اکرام اور عہدوں کے لالچ میں جنگ کے دوران حجاج سے جا ملی اور ابن زبیر کی شکست کا باعث بنی

مصعب بن زبیر کی شہادت

عبداللہ بن زبیر کے بھائی مصعب بن زبیر ایک اچھے منتظم اور بہادر انسان تھے عراق پر عبدالملک کے حملہ کے وقت ان کی شہادت سے عبداللہ بن زبیر کی خلافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا

حجاج بن یوسف کی سفاکی

حجاج بن یوسف نہایت ظالم و سفاک تھا۔ اس نے مکہ کے محاصرہ میں تمام اخلاقی و مذہبی حدود کو پامال کرتے ہوئے خانہ کعبہ پر پتھراؤ سے بھی گریز نہ کیا ۔ اس کی حد سے بڑھی ہوئی سفاکی اور طویل محاصرہ مکہ سے اہل مکہ کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ ابن زبیر کا ساتھ چھوڑنے لگے اور تنہا لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔

شخصیت و کردار

قبیلہ قریش کا یہ قابل فرزند عبداللہ بن زبیر جو تقریباً نو سال تک اموی اقتدار کے خلاف نبرد آزما رہا 2 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوا۔ وہ حسب و نسب ۔ عزت و وقار ۔ بہادری اور شجاعت میں کسی سے کم نہ تھے۔ صغیر سنی ہی میں کئی مہمات میں شامل ہو کر اپنی عملی زندگی کا آغاز کر چکے تھے۔ صرف چودہ برس کی عمر میں اپنے باپ کے ساتھ جنگ یرموک میں موجود تھے۔ تین برس بعد عمرو بن العاص فاتح مصر کے لشکر میں تھے۔ آپ نے اپنے باپ کے ساتھ کئی ایک مہمات میں شرکت کی۔ افریقہ کی فتوحات کے ضمن میں بھی آپ نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ شہادت عثمان کے وقت آپ ان کے زبردست ہمنواؤں میں سے تھے اور جنگ جمل میں اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کمان میں بہادری اور شجاعت کے بے مثال جوہر دکھائے۔ حق کی راہ میں آپ ایک نڈر اور بے باک سپاہی تھے

آپ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہکی شہادت تک خلافت کےحصول کی کبھی تمنا نہ کی تھی۔ یزید کی نامزدگی کے آپ شدید مخالف تھے۔ آپ کا شمار چونکہ اکابرین عرب میں ہوتا تھا اس لیے یزید کی موت کے بعد عوام اور خواص نے آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ نو سال کے مختصر عرصے میں چونکہ آپ کا اکثر وقت جنگ و جدل اور بغاوتوں کے فرو کرنے میں گزرا اس لیے آپ نظام حکومت کی طرف کماحقہ توجہ نہ دے سکے۔ لیکن پھر بھی رفاہ عامہ کے کاموں سے بے اعتنائی نہ کی۔ کعبہ کی تعمیر کا کام بھی آپ ہی نے شروع کیا تھا۔ آپ کا زہد و تقویٰ مثالی تھا۔ عوام و خواص میں آپ اپنے بلند اخلاق اور زہد تقویٰ شہادت کی بناء پر مقبول تھے۔ علم و ادب سے بھی خدا نے بہرہ ور رکھا تھا۔ چنانچہ آپ ایک اعلی درجہ کے شاعر بھی تھے۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت جذبہ جہاد ، بہادری اور شجاعت تھی۔ وہ ایک نڈر سپاہی تھے ۔ آپ کی شہادت کے ساتھ مملکت اسلامیہ سے ایک ایسی شخصیت اٹھ گئی جو سنت نبوی کی علم بردار اور خلفائے راشدین کے دور کی عملی تصویر تھی۔ اس کے بعد حجاز دنیائے اسلام کا سیاسی مرکز نہ رہا۔ شمع رسالت کے اس آخری پروانے کی شہادت کے ساتھ خلافت علی منہاج النبوۃ کا آفتاب غروب ہو گیا۔