الیکزاندر پوشکن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الیکزاندر پوشکن
(روسی میں: Александр Сергеевич Пушкин)،(روسی میں: Александръ Сергѣевичъ Пушкинъ ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Orest Kiprensky - Портрет поэта А.С.Пушкина - Google Art Project.jpg، Pushkin 1839.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (روسی میں: Александр Сергеевич Пушкин ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 26 مئی 1799[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ماسکو[4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 جنوری 1837 (38 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سینٹ پیٹرز برگ[4][5][7][8]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات شوٹ  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ماسکو (6 ستمبر 1833–10 ستمبر 1833)[9]
نزنی نوگوروڈ[10]
قازان (–20 ستمبر 1833)[11]
اولیانووسک[12]
اولیانووسک (22 ستمبر 1833–24 ستمبر 1833)[13]
اولیانووسک[14]
اورنبرگ (30 ستمبر 1833–)[15]
ساراٹوف[16]
پینزا[16]
سینٹ پیٹرز برگ[17]
ماسکو (–24 اکتوبر 1829)[18]
سینٹ پیٹرز برگ[19]
کیشیناو (1820–1823)
سمفروپول (1820–1820)
اودیسا (1823–1824)  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Russia.svg سلطنت روس  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر[20]، نثر نگار، ڈراما نگار، ادبی تنقید نگار، مترجم، مؤرخ، ناول نگار، غنائیہ نگار، عوامی صحافی، مصنف، ادیب اطفال، نثر، نظریاتی صحافت  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان روسی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی، روسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تاریخ کی سائنس، ترجمہ، تنقید  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر جان کیٹس، والٹیئر، دانتے، گوئٹے، ولیم شیکسپیئر، لارڈ بائرن، shelly poetry  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک رومانیت  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Pushkin Signature.svg 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

الیکزاندر پوشکن (/ˈpʊʃkɪn/;[21] روسی: Алекса́ндр Серге́евич Пу́шкин, نقل حرفی Aleksandr Sergeyevich Pushkin; روسی تلفظ: [ɐlʲɪˈksandr sʲɪˈrɡʲejɪvʲɪtɕ ˈpuʂkʲɪn] ( سنیے); 6 جون [قدیم طرز 26 مئی] 1799 – 10 فروری [قدیم طرز 29 جنوری] 1837) روس کا روشن خیال شاعر، ڈراما نویس اور جدید روسی ادب کے بانی تھے۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

الیکزاندر پوشکن 26 مئی 1799ء کو ماسکو، روسی سلطنت میں پیدا ہوئے۔ پوشکن کے والد قدیم اور کسی زمانے میں دولت مند درباری امرا کی نسل سے تھے۔ پوشکن کی ماں ابرام ہانیبال کی نواسی تھیں جو ملک حبش کے شہزادے تھے اور جن کو ترکوں نے اغوا کرکے زار پیٹر اول کو بطور تحفہ دیا تھا۔ پوشکن کو اپنے جد پر فخر تھا جو پیٹر کے دور میں ممتاز سپہ سالار تھے اور انہوں نے ان کے اعزاز میں تاریخی ناول پیٹر اعظم کا حبشی لکھا۔ پوشکن نے اپنی مختصر زندگی میں شاندار تاریخی واقعات دیکھے۔ شاعر نے حب الوطنی کی اس زبردست لہر کو جو 1812ء کی جنگ سے پیدا ہوئی تھی، نپولین کی فوج کی تباہی اور فاتحوں کی دھوم دھام سے وطن کی طرف واپسی کو کبھی نہیں فراموش کیا۔[22]

انیسویں صدی کی تیسری دہائی کی ابتدا میں مغربی یورپ میں قومی آزادی کی تحریک (نیپلز میں انقلاب،اسپین میں بغاوت،یونان میں ‌ترکی کی حکومت کے خلاف جدوجہد) ابھری۔ روس کے سیاسی حالات میں بھی گرمی پیدا ہو رہی تھی۔ یہاں خفیہ سیاسی انجمنیں قائم کی گئیں جن کا مقصد کسان غلامی کو ختم کرنا اور مطلق العنانی کا تختہ الٹنا تھا۔ نوجوان پوشکن آزادی کی آرزوئیں رکھنے والے نوجوان، درباری امرا کے ہراول کے ترجمان شاعر بن گئے۔ ان کی سیاسی نظمیں اور وہ منظوم لطیفے خاص طور سے مقبول ہوئے جو ظلم و استبداد کے خلاف اور عوام کے کچلے ہوئے حقوق کی حمایت میں تھے (غنائی نظم آزادی اور نظمیں گاؤں اور چاآدائف کے نام وغیرہ)۔ زار الیکساندر اول نے بڑی ناراضی سے کہا تھا پوشکن نے نفرت انگیز شاعری سے روس کو پاٹ دیا ہے اور وہ سب نوجوانوں کی زبان پر ہیں۔ پوشکن کو سائبیریا جلاوطن کردینا مناسب ہوگا۔[23] یہ دھمکی تو عمل میں نہیں لائی گئی لیکن سرکاری خدمات کے سلسلے میں تبادلے کی صورت میں پوشکن کو سینٹ پیٹرز برگ سے روس کے جنوبی علاقے میں جلاوطن کر دیا گیا۔ جنوب میں جلاوطنی کا زمانہ ان کی انتھک تخلیقی کام، گہرے غور و فکر اور شاعرانہ جوہر کے پروان چڑھنے کا دور تھا۔ 1820ء میں پوشکن نئے اپنی پہلی بڑی تصنیف روسلان اور لیودمیلا نامی نظم ختم کی۔ نظم کی عوامی کہانی، شگفتہ بیان اور سادہ و نازک اسلوب نے اس کو اس وقت کے تمام ادب میں نمایاں کر دیا۔ تیسری دہائی کی ابتدا میں پوشکن کی جنوبی رومانی نظمیں قفقاز کا قیدی (1822ءبنجارے (1824ءبنجارے خاص نوعیت کی ڈرامائی نظم ہے۔ 1824ء کی خزاں مین بھی زار کی حکومت غیور اور آزاد مزاج شاعر کے پیچھے پڑی رہی اور پوشکن کو دورافتادہ "پسکوف" صوبے کے گاؤں بھیج دیا گیا جہاں پولیس ان کی نگرانی کرتی رہی۔ روسی ٹھیٹر کو نیا روپ دینے کی کوشش کرتے ہوئے، عوامی ڈرامے کی تخلیق کے لیے پوشکن نے روس کی ماضی کی تاریخ کی طرف توجہ کی۔ بوریس گودونوف نامی المیے میں پوشکن نے روسی تارخ کا ایک بہت ہی کٹھن دور (سولہویں صدی کا آخر اور سترہویں صدی کی ابتدا) پیش کیا۔ بورس گودونوف سارے عالمی ادب میں پہلا حقیقی سماجی تاریکی المیہ ہے جس میں صرف چند افراد نہیں بلکہ قوم کی تقدیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 1830ء میں پوشکن کی عظیم تصنیف، منظوم ناول ایوگینی اونیگن ختم ہوئی۔ انہوں نے اس پر آٹھ سال سے زیادہ کام کیا۔ عظیم روسی نقاد اور جمہوریت پسند ویسارین بیلینسکی نے پوشکن کی اس تصنیف کو روسی زندگی کی انسائیکلوپیڈیا کہا۔ اپنے منظوم ناول ایوگینی اونیگن میں پوشکن نے ایک عظیم شاعر کی حیثیت سے ادب میں فنکارانہ حقیقت پسندی کی بنیاد ڈالی۔[24]

1931ء میں پوشکن کی زندگی میں ایک اہم واقعہ ہوا۔ ان کی شادی ماسکو کی ایک بہت ہی حسین لڑکی تالیا گونچاووا سے ہوئی۔ شادی سے پہلے اپنے معاملات کو طے کرنے کے لیے پوشکن اپنے والد کی چھوٹی سی جاگیر بولدینو گئے۔ یہاں انھوں نے اپنے بہترین ڈرامے چھوٹے المیئے داستانی ڈراما جل پری، نظم کولومنا میں بنگلہ اور اپنی پہلی بڑی نثر کی کتاب ایوان بیلکن کی کہانیاں لکھی۔ ایوان بیلکن کی کہانیاں میں پوشکن کی تخلیقات کی جمہوریت پسندی بہت صاف نظر آتی ہے۔ عظیم روسی ادیب ٹالسٹائی نے کہا ---- پوشکن کی نثر سب سے زیادہ اچھی ہے۔ ادیبوں کو چاہیے کہ وہ متواتر اس خزانے سے مستفید ہوتے رہیں۔ کتنے یہ سب لاجواب ہیں۔ ایوان بیلکن کی کہانیاں اور ارے حکم کی بیگم یہ تو بے نظیر ہے ۔[25] 1834ء میں پوشکن کی لکھی ہوئی طویل کہانی حکم کی بیگم اپنی ساخت، دلکش پلاٹ، ماہرانہ طرزِ نگارش کے لحاظ سے ایک مختصر اور جامع ناولٹ کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ چوتھی دہائی میں پوشکن نے سمانی زندگی سے متعلق اپنا بڑا ناول دوبرووسکی لکھا جو پوشکن کی المیہ موت کے بعد 1841ء میں شائع ہوا۔ اس ناول کا پلاٹ زندگی کے حقیقی واقعات سے لیا گیا ہے۔ اس میں غربت زدہ زمیندار دکھایا گیا ہے جس نے اس کی ساری زمین ہڑپ کر لی اور اس کو اپنے گاؤں سے نکال باہر کیا۔

پوشکن کی نثر نگاری کا فن ان کی آخری بڑی تصنیف کپتان کی بیٹی (1836ء) کی کہانی میں بامِ عروج تک پہنچ جاتا ہے جو واقعی حقیقی تاریخی تصنیف کا نمونہ ہے۔ "کپتان کی بیٹی" میں ہنگامی کسان بغاوت کی واضح تصویر کشی کی گئی ہے اور کسان لیڈر یمیلیان پوگاچیف کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ پوشکن نے اس میں زارینہایکا تیرینا کے زمانے کے روسی سماج کے رسم و رواج کی تصویر کشی کی ہے۔ بہت سی تصویریں اپنی سچائی اور ماہرانہ طرز بیان کے لحاظ سے مکمل معجزہ ہیں۔

تخلیقات[ترمیم]

نظمیں[ترمیم]

  • آزادی
  • گاؤں
  • چاآدائف کے نام
  • 1820ء - روسلان اور لیودمیلا
  • 1822ء - قفقاز کا قیدی
  • 1824ء - بنجارے
  • 1828ء - پولتاوا
  • 1833ء - تانبے کا شہ سوار

ڈراما[ترمیم]

  • 1825ء - بوریس گودونوف

منظوم ناول[ترمیم]

  • 1830ء - ایوگینی اونیگن

کہانیاں[ترمیم]

  • 1831ء - ایوان بیلکن بیلکن کی کہانیاں

ناولٹ[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • 1828ء - پیٹر اعظم کا حبشی
  • 1836ء - کپتان کی بیٹی
  • 1841ء - دوبرووسکی

ہم عصر ادیبوں کی رائے[ترمیم]

پوشکن کے ہم عصر اور دوست عظیم روسی حقیقت پسند ادیب گوگول نے لکھا ہے :

پوشکن کے نام سے ہی فوراً روسی قومی شاعر کا تصور پیدا ہوتا ہے---- پوشکن ایک غیر معمولی مظہر ہے اور غالباً روسی اسپرٹ کا واحد مظہر۔ اس میں روسی مناظرِ قدرت، روسی جذبات، روسی زبان اور روسی کیریکٹر کی عکاسی ایسی پاکیزگی اور شفاف حسن کے ساتھ ملتی ہے جیسے وہ کسی بصری شیشے کی ابھری ہوئی سطح سے معکوس ہورہی ہو۔[26]

آخری سال اور وفات[ترمیم]

پوشکن کے آخری سال بڑے کٹھن گزرے۔ زار سے تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے اور سینٹ پیٹرزبرگ کے بااثر درباری امیروں کے حلقوں سے دشمنی ہو گئی تھی۔ فرانسیسی نژاد دانتیس کے کے ساتھ ڈوئل نے ان کے جوہر کے عین شباب میں عظیم شاعر کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ پوشکن کو ڈوئل میں مہلک زخم لگا اور روس کا قومی شاعر، جدید روسی نثر نگاری کا بانی، صاحب طرز ڈراما نویس 29 جنوری 1837ء کو وفات پا گئے۔[27]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب وصلة : https://d-nb.info/gnd/118641816  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب وصلة : https://d-nb.info/gnd/118641816  — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. وصلة : https://d-nb.info/gnd/118641816  — مصنف: Aleksandr Kirpichnikov — عنوان : Пушкин, Александр Сергеевич — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XXVа, 1898
  4. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Пушкин Александр Сергеевич — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  5. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118641816 — اخذ شدہ بتاریخ: 21 جولا‎ئی 2015 — اجازت نامہ: CC0
  6. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118641816 — مصنف: Aleksandr Kirpichnikov — عنوان : Пушкин, Александр Сергеевич — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XXVа, 1898
  7. https://muse.jhu.edu/journals/pushkin_review/v014/14.1.lachmann.html
  8. http://www.jstor.org/stable/40922230
  9. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 27 — اقتباس: Въ Москву онъ прибылъ только 25 августа и остановился въ домѣ Гончаровыхъ же, на Никитской. Здѣсь онъ оставался до 29 августа, когда выѣхалъ въ Нижній,
  10. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 27 — اقتباس: Здѣсь онъ оставался до 29 августа, когда выѣхалъ въ Нижній, куда онъ прибылъ 2 сентября. Изъ Нижняго поэтъ поѣхалъ въ Казань, куда онъ разсчитывалъ (въ Москвѣ) прибыть еще около третьяго.
  11. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 28-35 — اقتباس: Изъ Казани 8 сентября 1833 г. Пушкинъ выѣхалъ и 9 сентября былъ уже въ Симбирскѣ.
  12. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 35 — اقتباس: Изъ Казани 8 сентября 1833 г. Пушкинъ выѣхалъ и 9 сентября былъ уже въ Симбирскѣ. Здѣсь у губернатора Пушкинъ видѣлся съ однимъ старымъ поволжскимъ литераторомъ, отставнымъ чиновникомъ Иваномъ Алексѣевичемъ Второвымъ,
  13. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 53 — اقتباس: Свое обѣщаніе написать женѣ о Казани поэтъ исполнилъ не въ Симбирскѣ, какъ первоначально предполагалъ, а въ селѣ Языковѣ, Карсунскаго уѣзда, въ 65 верстахъ отъ Симбирска. 10 сентября2) онъ прибылъ въ Симбирскъ и черезъ Загряжскаго получилъ письмо отъ жены. Изъ Симбирска Пушкинъ заѣхалъ въ Языково
  14. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 56 — اقتباس: 10 сентября Пушкинъ былъ уже въ Симбирскѣ; отсюда онъ еще 12 сентября выѣхалъ было въ Оренбургъ, но …; съ третьей станціи поэтъ возвратился въ Симбирскъ, тоже не безъ приключеній. Другой разъ онъ выѣхалъ иною дорогой и 18 сентября (№ 335, стр. 326) былъ уже въ Оренбургѣ.
  15. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 56-57 — اقتباس: Другой разъ онъ выѣхалъ иною дорогой и 18 сентября (№ 335, стр. 326) былъ уже въ Оренбургѣ.
  16. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 57 — اقتباس: въ Уральскъ. …, а 23 сентября Пушкинъ уже выѣхалъ въ обратный путь. При выѣздѣ изъ Уральска вечеромъ … сдѣлалъ дорогу непроходимою. Потомъ выпалъ снѣгъ, …. Ѣхалъ онъ черезъ Саратовъ и Пензу. 29 сентября Пушкинъ снова проѣзжалъ мимо села Языкова,
  17. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 57 — اقتباس: Около половины ноября Пушкинъ, наконецъ, возвратился въ Петербургъ.
  18. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 59 — اقتباس: Шульгинъ донесъ потомъ Голицыну, когда 12 октября 1829 г. Пушкинъ выѣхалъ изъ Москвы,
  19. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/pushkin/serial/ps3/ps32023-.htm — مصنف: Evgenīĭ Bobrov — عنوان : А. С. Пушкинъ въ Казани. — صفحہ: 63 — اقتباس: Отъ 20 февраля 1836 г. изъ Петербурга (№ 446, стр. 394) Пушкинъ писалъ ей, что,
  20. http://www.nytimes.com/1997/10/20/world/grigory-pushkin-poet-s-great-grandson-83.html
  21. "Pushkin". Random House Webster's Unabridged Dictionary.
  22. الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، سوویت یونین، ص 7
  23. الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دار لاشاعت ترقی ماسکو، سوویت یونین، ص 9
  24. الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، سوویت یونین، ص 17
  25. الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، سوویت یونین، ص 21
  26. الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، سوویت یونین، ص 24
  27. الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، سوویت یونین، ص 24