غلام اسحاق خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(غلام اسحٰق خان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
غلام اسحاق خان
تفصیل=

ساتویں صدر پاکستان
مدت منصب
17 اگست 1988ء – 18 جولائی 1993ء
نگران تا 12 دسمبر 1988ء
وزیر اعظم بینظیر بھٹو
غلام مصطفیٰ جتوئی (نگران)
نواز شریف
بلخ شیر مزاری (نگران)
نواز شریف
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد ضیاء الحق
وسیم سجاد Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دوسرے چیئرمین سینیٹ
مدت منصب
21 مارچ 1985ء – 12 دسمبر 1988ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png خان حبیب اللہ خان
وسیم سجاد Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر خزانہ
مدت منصب
5 جولائی 1977ء – 21 مارچ 1985ء
صدر فضل الٰہی چوہدری
محمد ضیاء الحق
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبدالحفیظ پیرزادہ
محبوب الحق Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 20 جنوری 1915  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 اکتوبر 2006 (91 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات نمونیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی جامعۂ پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  سرمایہ کار،  ماہر نباتیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

غلام اسحاق خان بنگش (22 فروری، 1915ء تا 27 اکتوبر، 2006ء) پاکستان کے سابق صدر تھے۔ انہوں نے سیاست میں آنے سے بہت پہلے سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ ضلع بنوں کے ایک گاؤں اسماعیل خیل میں ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے بنگش قبیلے سے تھا ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پشاور سے کیمسٹری اور باٹنی کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی۔ انیس سو چالیس میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

ملازمت[ترمیم]

صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی کے سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری جیسے کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔1955 میں جب ون یونٹ کے تحت مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے بنائے گئے تو غلام اسحاق خان مغربی پاکستان کے سکریٹری آبپاشی مقرّر ہوئے۔ اس حیثیت میں پاکستان بھارت دریائی پانی کی تقسیم کے معاملات میں وہ سرکاری معاونت کرتے رہے۔ 196ٍ1 میں پانی و بجلی کے وسائل کی ترقی اور نگرانی کے ادارے واپڈا کے سربراہ بنے اور 1965 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد پانچ برس سے زائد عرصے تک سیکرٹری خزانہ رہے۔

بطور سکریٹری خزانہ بھی وہ اتنے بااثر تھے کہ بیس 20 دسمبر 1971 کی جس تصویر میں شکست خوردہ یحیٰ خان ذو الفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کر رہے ہیں اس تصویر میں تیسرے آدمی غلام اسحاق خان ہیں جو اقتدار کی منتقلی کی دستاویز پر دستخط کروا رہے ہیں۔ بھٹو حکومت کی تشکیل کے بعد غلام اسحاق خان انیس سو پچہتر تک گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔

اس کے بعد غلام اسحاق خان کو سکریٹری جنرل دفاع کا قلمدان دے دیا گیا۔ اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بھی نگراں رہے اور ان کے فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی براہ راست تعلقات استوار ہوئے۔1977 میں جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان پہلے مشیرِ خزانہ اور پھر وزیرِ خزانہ بنائے گئے اور انہوں نے معیشت کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے جنرل ضیا کے ایجنڈے میں معاونت کی۔ ملک کے لیے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

framepx

۔۔1984 کے اواخر میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بحالی جمہوریت کا محدود اور محتاط عمل شروع ہوا تو غلام اسحاق خان کو سینیٹ کا چیئرمین بنایا گیا جو آئینی اعتبار سے صدر کا جانشین عہدہ ہے۔ چنانچہ جب 17اگست 1988 کو غلام اسحاق خان نے بحیثیت قائم مقام صدر مملکت باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ صدر ضیا الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا ہے تو اس وقت پورے ملک میں یہ انتظار ہو رہا تھا کہ فوج کب اقتدار سنبھالتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ جنرل ضیا الحق کے غیر جماعتی فارمولے کو طاق پر رکھ دیا گیا اور تین ماہ بعد جماعتی بنیاد پر عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری۔

لیکن اس عرصے میں پیپلز پارٹی کی طاقت کو بیلنس کرنے کے لیے غلام اسحاق خان کی آنکھوں کے سامنے آئی ایس آئی کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں ایک قوت بھی کھڑی کردی گئی۔ بہرحال پیپلز پارٹی کو مشروط طور پر اقتدار منتقل کیا گیا۔ اور ڈیل کے تحت غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کی مشترکہ حمایت سے دسمبر1988میں نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتویں صدر منتخب ہو گئے۔

صدر غلام اسحاق خان کو آٹھویں آئینی ترمیم کی شق اٹھاون ٹو بی کے تحت منتخب پارلیمان اور حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے جج اور مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا اختیار بھی حاصل تھا۔ لیکن ان کی نہ تو بے نظیر بھٹو سے اور نہ ہی بعد میں نواز شریف حکومت سے نبھ سکی۔ اور اگست انیس سو نوّے میں بے نظیر حکومت اور اپریل انیس سو ترانوے میں نواز شریف حکومت اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئیں۔

سپریم کورٹ نے 1988 میں اس صدارتی اختیار کے تحت صدر ضیا الحق کے ہاتھوں جونیجو حکومت اور پھر 1990 میں غلام اسحاق خان کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی پہلی برطرفی کو تو غیر آئینی قرار نہیں دیا البتہ نواز شریف حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مئی1993میں اس کی بحالی کا حکم جاری کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وفاقی ڈھانچہ ڈیڈلاک کا شکار ہو گیا۔ چنانچہ بری فوج کے سربراہ جنرل عبد الوحید کاکڑ کے دباؤ پر نو بحال وزیرِ اعظم نواز شریف اور جہاندیدہ صدر غلام اسحاق خان کو گھر جانا پڑا۔

شخصیت[ترمیم]

جوانی کی تصویر

غلام اسحاق خان نے تمام عمر بطور ایک بیوروکریٹ کے گزاری اور ان کے رفقا کے بقول آخری دم تک کے افسر کے طور پر رہے۔ ان سے بیوروکریسی کے طور طریقے شاید ہی کوئی اور بہتر انداز میں جانتا ہو۔ وہ انتہائی محنتی اور سیلف میڈ انسان تھے۔ ان کے بارے میں کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا لیکن ان کے دو داماد انور سیف اللہ اور عرفان اللہ مروت سیاست میں تھے اور ان کے معاملے میں وہ کچھ سیاسی بن گئے۔ سیف اللہ خاندان کی سیاست کو انہوں نے آگے بڑھایا اور عرفان اللہ مروت جو سندھ کی سیاست میں تھے اور جن پر سنگین الزامات لگے، انہوں نے ان کو بچانے کی کوشش کی۔

خدمات[ترمیم]

صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کا نام غلام اسحاق خان انسٹییوٹ آف انجنیئرئنگ اینڈ ٹیکنالوجی جیسے اعلی تعلیمی ادارے کے ٹوپی کے مقام پر قیام کی وجہ سے زندہ رہے گا۔ اس کے علاوہ بھٹو دور میں ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

بنوں اور غلام اسحاق[ترمیم]

حیرانی کی بات ہے کہ تقریبا کئی عشروں تک اعلی سرکاری عہدوں اور سیاسی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود غلام اسحاق خان بنوں جیسے پسماندہ علاقے کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے۔ بلکہ ان کے ہی دور صدارت میں انڈس ہائی وے کا نقشہ بدل دیا گیا جس سے ضلع بنوں کو کئی سو سال پیچھے تاریکی میں دھکیل دیا گیا۔ ان کی موت سے ملکی تاریخ پر اثر ضرور پڑے گا لیکن ان کی موت پر ضلع بنوں اور یہاں کے عوام میں کسی قسم کی کوئی گہما گہمی دیکھنے میں نظر نہیں آئی۔ ان کے اپنے رشتے داروں کا تو یہ کہنا تھا کہ غلام اسحاق سے ان کو کوئی رشتہ نہیں وہ اس علاقے میں پیدا ہی نہیں ہوئے۔

انتقال[ترمیم]

غلام اسحاق خان جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پشاور میں ایسے گوشہ نشین ہوئے کہ نہ تو انہوں نے اپنی سوانح حیات لکھی اور نہ ہی کبھی کوئی انٹرویو دیا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو سن انیس سو پچپن سے لے کر تا مرگ پاکستان کی تمام اہم محلاتی جوڑ توڑ کو تاریخ کی عدالت میں سلطانی گواہ کے طور پر بہت اچھے طریقے سے بے نقاب کرسکتے تھے۔ اکتوبر 2006 میں نمونیا کے حملے سے ان کا انتقال ہوا۔ پشاور میں ان کو دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل 
عبدالحفیظ پیرزادہ
وزیر خزانہ
1977–1985
مابعد 
محبوب الحق
ماقبل 
خان حبیب اللہ خان
چئرمین سینیٹ
1985–1988
مابعد 
وسیم سجاد
ماقبل 
محمد ضیاء الحق
صدر پاکستان
1988–1993
مابعد 
وسیم سجاد
نگران