ام سلمہ رضی اللہ عنہا
| بسلسلۂ مضامینِ اسلام امہات المؤمنین |
|---|
59ھ 678ء
ام المومنین۔ ہند نام ، ام سلمہ کنیت قریش کے خاندان مخزوم سے تھیں۔ والد ، ابو امیہ ، مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔آپ کا نکاح 13 سال کی عمر میں ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد مخزومی سے ہوا ہوا جو آپ کے پھوپھی زاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رضاعی بھائی تھے۔ اوائل اسلام ہی میں اپنے شوہر کے ساتھ ایمان لائیں اور ہجرت حبشہ میں ان کا ساتھ دیا۔ یہیں آپ کے پہلوٹی کے بیٹے سلمہ پیدا ہوئے ۔ کچھ عرصے بعد شوہر کے ہمراہ واپس آگئیں ۔ جب مدینے کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو خاندان والوں نے آپ کو شہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہ دی اور گودی کا بچہ بھی چھین لیا۔ لیکن پھر ترس کھا کر بچہ دے دیا اور مدینے بھی جانے دیا۔ آپ پہلی مہاجر خاتون تھیں۔ ابوسلمہ غزوہ احد میں شہید ہوئے تو حضرت ابوبکر اور عمر نے باری باری آپ سے نکاح کی درخواست کی مگر آپ نے انکار کردیا۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیغام بھیجا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ آپ کا نکاح 3ھ، 626ء میں ہوا۔
حضرت ام سلمہ نہایت عقلمند اور مدبر خاتون تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ احادیث آپ سے مروی ہیں۔ صرف پہلے شوہر سے آپ کے چار بچے ہوئے ۔ طبری ، مسعودی ، اور واقدی کی تحقیق ہے کہ آپ کا انتقال 59ھ میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں دفن ہوئیں۔ لیکن مصر کے قبرستان باب الصغیر میں ایک مزار ، جس کے دروازے پر ام سلمہ کا کتبہ لگا ہے۔ یہ مزار ترکی خلیفہ سلطان عبدالحمید نے 1327ء میں بنوایا تھا۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ آپ نے 61ھ میں انتقال فرمایا اورترمذی اور بخاری شریف میں واقعہ کربلا سے متعلق ایک روایت بھی آپ سے منسوب ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔ کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔ [1]
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ صحیح البخاری